اقلیتی امور کی وزارتت
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے پارسی ورثے کے تحفظ اور آبادی سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا
اقلیتوں کے قومی کمیشن نے ممبئی میں ’’جدید ہندوستان میں پارسی: ثقافتی اور سماجی و اقتصادی راستوں کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے قومی سیمینار کا انعقاد کیا
پارسی برادری کے تاریخی ورثے پر مبنی کافی ٹیبل بک کی رونمائی بھی کی گئی، جبکہ جین مت، بدھ مت اور پارسی برادری سے متعلق جامع کتاب 19 مئی 2026 کو نئی دہلی میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کے دوران جاری کی جائے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 MAY 2026 6:02PM by PIB Delhi
اقلیتی امور کے قومی کمیشن نے آج ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں ’’جدید ہندوستان میں پارسی: ثقافتی اور سماجی و اقتصادی راستوں کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا۔
یہ سیمینار کمیشن کی جانب سے فروری 2026 میں شروع کیے گئے اُن علمی پروگراموں کی کڑی ہے جن کا مقصد اقلیتی برادریوں کی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کرنا ہے۔

اس سیمینار میں مرکزی و ریاستی وزراء، پالیسی سازوں، دانشوروں، صنعت کاروں، ماہرینِ تعلیم اور پارسی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں ثقافتی ورثے کے تحفظ، آبادی سے متعلق خدشات اور موجودہ ہندوستان میں پارسی برادری کی سماجی و اقتصادی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔


اپنے کلیدی خطاب میں پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے ہندوستان کی ترقی اور تعمیر میں پارسی برادری کے دیرپا کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارسی برادری کے ثقافتی ورثے اور سماجی و اقتصادی بہبود کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
مرکزی وزیر نے اویستائی زبان کے احیا کے لیے حکومت کی کوششوں اور پارسی آبادی میں کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے پارسی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے یاد دلایا کہ ٹاٹا خاندان نے 1920 کے اولمپکس میں ہندوستانی ٹیم کی سرپرستی کی تھی جبکہ 1880 کی دہائی میں پہلی ہندوستانی کرکٹ ٹیم بھی پارسیوں نے تشکیل دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارسی برادری نے ہندوستان کی صنعتی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
جناب کرن رجیجو نے کہا، ’’یہ صرف تعداد کا معاملہ نہیں بلکہ اثرات کی اہمیت زیادہ ہے۔ حکومت ہر برادری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے نظریے پر عمل پیرا ہے، جسے ان کی تیسری مدت میں ’سب کا وشواس‘ اور ’سب کا پریاس‘ کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے سیمینار میں سامنے آنے والی تجاویز، خصوصاً ’جیو پارسی‘ اسکیم سے متعلق سفارشات کا بھی خیرمقدم کیا۔
اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ آج پارسی برادری کو کئی منفرد چیلنجوں کا سامنا ہے، خاص طور پر آبادی کے تسلسل سے متعلق۔ حالیہ قومی مباحث میں آبادی میں کمی اور بدلتے سماجی رجحانات جیسے مسائل پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ پیچیدہ معاملات ہیں جن کے حل کے لیے پالیسی تعاون اور برادری کی فعال شمولیت دونوں ضروری ہیں۔‘‘
استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے اقلیتوں کی سیکریٹری محترمہ الکا اپادھیائے نے ملک کی تعمیر میں پارسی برادری کے قیمتی کردار کو اجاگر کیا اور ہندوستان کے تکثیری ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’کمیشن گزشتہ برسوں کے دوران پارسی برادری سے متعلق مسائل، بشمول آبادی کے چیلنجوں، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فلاحی اسکیموں تک رسائی جیسے معاملات پر مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ یہ کوششیں برادری کی منفرد شناخت کے واضح ادراک اور حساسیت کے تحت کی جا رہی ہیں۔‘‘
برجیس دیسائی، رکن قومی اقلیتی کمیشن، نے ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں پارسی برادری کے غیر معمولی کردار پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود پارسی برادری نے ملک کی معاشی، صنعتی، قانونی اور فلاحی بنیادوں کو استوار کرنے میں غیر متناسب حد تک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے پارسی اقدار نے اس برادری کو جدید ہندوستان کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا۔

اقلیتوں کے قومی کمیشن کی رکن محترمہ ایس منوری بیگم نے پارسی برادری کی ثقافتی شناخت اور آبادی کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مسلسل اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارسی آبادی میں مسلسل کمی تشویش کا باعث ہے اور اس مسئلے پر حکومت، برادری کے اداروں، سول سوسائٹی اور دانشوروں کو مل کر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ایک مختصر فلم بھی پیش کی گئی جس میں پارسی برادری کی تاریخ، ثقافت اور ہندوستان کی سماجی، صنعتی اور فلاحی ترقی میں اس کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔
گودریج ایگرویٹ لمیٹڈ کے جناب ہرمزد گودریج نے پارسی برادری کی کاروباری اور فلاحی روایات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کے لیے اس منفرد ثقافتی شناخت کا تحفظ ضروری ہے۔
مہاراشٹر ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب پیارے جیا خان نے مہاراشٹر میں پارسی برادری کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اقلیتی برادریوں کے لیے مستقل ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کے دوران پارسی برادری کے ورثے، کامیابیوں اور آبادی سے متعلق معلومات پر مبنی کافی ٹیبل بک کی معزز مہمانوں نے رونمائی بھی کی۔
اقلیتوں کے قومی کمیشن کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر اتیا نند نے بتایا کہ جین مت، بودھ مت اور پارسی برادری سے متعلق ایک جامع کتابچہ 19 مئی 2026 کو نئی دہلی میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کے دوران جاری کیا جائے گا۔
تکنیکی اجلاس
پہلا اجلاس: جدید ہندوستان میں پارسی برادری کی ثقافتی شناخت اور تحفظ
اس اجلاس میں پارسی برادری کے مادی اور غیر مادی ثقافتی ورثے پر گفتگو کی گئی، جبکہ اس کی ثقافتی روایات، تاریخ، زبان اور شناخت کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جناب کرمن فتاکیا نے ایف ٹی الپائی والا میوزیم کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس کی اپ گریڈیشن کے لیے حکومتی تعاون کو سراہا۔
محترمہ ٹیناز نوشیان نے گجرات کی ٹیکسٹائل روایات میں پارسی کردار، خصوصاً تنچوئی، سورتی گھاٹ نو کپڑو اور بافٹا ٹیکسٹائل کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر مہر مستری نے جدید ہندوستان کی تعمیر میں پارسی برادری کے کردار اور صنعتی و فلاحی شعبوں میں اس کی خدمات کا تاریخی جائزہ پیش کیا۔
جناب کرمن دارووالا نے ٹی آئی ایس ایس پارزور آن لائن سرٹیفکیٹ پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے اویستا اور پہلوی زبانوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسرا اجلاس: موجودہ ہندوستان میں پارسی برادری کی سماجی و اقتصادی صورتحال اور چیلنجز
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل کا راستہ متوازن حکمت عملی میں پوشیدہ ہے، جس میں ایک طرف شناخت کا تحفظ اور دوسری جانب جدید تقاضوں سے ہم آہنگی شامل ہو۔
اجلاس کے مقررین جن میں جناب دنشا ٹمبولی، پروفیسر شالنی بھارت، محترمہ پرل مستری اور پروفیسر نسرین رستم فرام شامل تھے، نے کہا کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود پارسی برادری نے ہندوستان کی معیشت، صنعت، فلاحی خدمات اور عوامی زندگی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے، تاہم آج یہ برادری آبادی میں کمی، خاندانی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئی سماجی و اقتصادی حقیقتوں جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔دونوں اجلاسوں کی نظامت جناب یزدی تاترا نے کی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 6855)
(ریلیز آئی ڈی: 2259479)
وزیٹر کاؤنٹر : 10