کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے کی مدد سے آسام کے آرزو مند ضلع بکسا سے 20 میٹرک ٹن او ڈی او پی شہد کی پہلی کھیپ امریکہ روانہ


آسام میں تقریباً 1650 میٹرک ٹن شہد کی پیداوار، بکسا بی ٹی آر کے اہم شہد پیدا کرنے والے اضلاع میں شامل

بکسا سے او ڈی او پی شہد کی برآمد سے مقامی شہد پالنے والوں اور کسانوں کو تقریباً 43 فیصد زیادہ منافع کی توقع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 MAY 2026 7:16PM by PIB Delhi

ہندوستانی زرعی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور ’’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ‘‘ (او ڈی او پی) یعنی ایک ضلع ایک پیداوار پہل کو مزید فروغ دینے کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر آسام کے آرزومند ضلع بکسا سے او ڈی او پی شہد کی پہلی برآمدی کھیپ 09 مئی 2026 کو اے پی ای ڈی اے کے اقدام کے تحت امریکہ کے لیے روانہ کی گئی۔

20 میٹرک ٹن شہد پر مشتمل یہ کھیپ شمال مشرقی خطے کی اے پی ای ڈی اے رجسٹرڈ برآمد کنندہ کمپنی میسرز سالٹ رینج فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ، آسام نے برآمد کی۔

آسام حیاتیاتی تنوع، وسیع جنگلاتی وسائل اور شہد کی مکھیوں کی پرورش کی قدیم روایت کے باعث شہد کی پیداوار کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ کربی، مشنگ اور بوڈو قبائل جیسی مقامی برادریاں صدیوں سے شہد جمع کرنے کا عمل انجام دیتی رہی ہیں، جہاں شہد کو خوراک، دوا اور ثقافتی و مذہبی رسومات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ریاست کے اہم شہد پیدا کرنے والے اضلاع میں بوڈولینڈ ٹیریٹوریل ریجن (بی ٹی آر) کے بکسا، کوکراجھار، چرنگ، اودلگڑی اور تمولپور شامل ہیں۔ نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آسام نے مالی سال 2023-24 کے دوران تقریباً 1650 میٹرک ٹن شہد پیدا کیا۔

ماحول دوست اور کیڑے مار ادویات سے پاک علاقوں سے حاصل ہونے والا بکسا ضلع کا شہد اپنے اعلیٰ معیار اور تقریباً نامیاتی خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے، جو خطے کے حیاتیاتی تنوع اور پائیدار زرعی طریقوں کی عکاسی کرتا ہے۔

بکسا شہد کو او ڈی او پی پہل کے تحت بھی شناخت دی گئی ہے، کیونکہ اس میں روزگار پیدا کرنے، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات میں اضافے کی مضبوط صلاحیت موجود ہے۔ یہ شہد اپنی قدرتی خالصیت، متنوع پھولوں کے ذائقے اور اعلیٰ غذائی و طبی خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔

او ڈی او پی پہل، جو حکومتِ ہند کے ضلع مخصوص مصنوعات کو فروغ دینے کے وژن سے ہم آہنگ ہے، کا مقصد ہر ضلع کی ایک مخصوص مصنوعات کی شناخت، برانڈنگ اور فروغ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ ان مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑ کر یہ پہل ہندوستان کی برآمدی ٹوکری کو متنوع بنانے اور کسانوں و مقامی پیدا کنندگان کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت زرعی و پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے پروسیسنگ سہولت میں جانچ اور لیبارٹری آلات فراہم کر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد دی، تاکہ بین الاقوامی معیار اور غذائی تحفظ کی شرائط پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔

اس اقدام سے مقامی شہد پالنے والوں اور کسانوں کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، کیونکہ پیدا کنندگان کو مقامی منڈی کی قیمتوں کے مقابلے تقریباً 43 فیصد زیادہ قیمت حاصل ہو رہی ہے، جس سے آمدنی کے مواقع بڑھیں گے اور دیہی روزگار کو تقویت ملے گی۔

یہ برآمدی اقدام خواہش مند اضلاع کے کسانوں کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے، بہتر قیمت دلانے اور پائیدار مارکیٹ رسائی فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے شمال مشرقی خطے، خصوصاً منفرد اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔

اے پی ای ڈی اے نے اعلیٰ معیار کے زرعی مصنوعات کے قابل اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر ہندوستان کو مستحکم کرنے کے لیے کسانوں کی قیادت والی برآمدات، معیاری بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور او ڈی او پی جیسی پہلوں کی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :6864  )


(ریلیز آئی ڈی: 2259465) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati