PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ایک اسٹیشن ایک پروڈکٹ: ہندوستان کے مقامی ورثے کو ریلوے پلیٹ فارمز تک پہنچانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 11:59AM by PIB Delhi

ہندوستان بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر ایک خاموش تبدیلی جاری ہے، جو مقامی دستکاری کو روزمرہ کے سفر کے مرکز تک لا رہی ہے۔ ہندوستانی ریلوے کا ’’ون اسٹیشن ون پروڈکٹ‘‘(او ایس او پی ) اقدام، جو مرکزی بجٹ23-2022 میں متعارف کرایا گیا، مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے مخصوص  خردہ فروخت  کے مقامات فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام مقامی ہنرمندوں اور اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جی) کو منڈی تک رسائی دیتا ہے، پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، اور علاقائی تنوع کو اجاگر کرتا ہے۔ آج، 2,000 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں پر تقریباً 2,326  او ایس او پی آؤٹ لیٹس قائم ہیں، جو مقامی طور پر مصنوعات تیار  کرنے والوں کو لاکھوں مسافروں سے جوڑتے ہیں اور 1.32 لاکھ سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچا رہے ہیں (19 جنوری 2026 تک)۔

ٹنکاسی جنکشن ریلوے اسٹیشن، تمل ناڈو

مورخہ 25 مارچ 2022 کو شروع کیے گئے اس اقدام میں بھارتی ریلوے کے وسیع نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشنوں کو علاقائی مصنوعات کے لیے آسانی سے قابلِ رسائی بازاروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ 19 اسٹیشنوں پر 15 روزہ کامیاب آزمائشی مرحلے کے بعد، او ایس او پی کو ایک منظم طریقے سے وسعت دی گئی، جہاں اسٹال معمولی فیس پر باری باری الاٹ کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت  کویقینی بنایا جا سکے۔ ریلوے ڈویژنز اس اسکیم کو ریاستی اداروں،  اپنی مدد آپ گروپس، اور بہت چھوٹی،چھوٹی  اور درمیانے درجہ کی صنعتوں کے تعاون سے نافذ کرتے ہیں، جس سے مؤثر انتظام اور وسیع شمولیت ممکن ہوتی ہے۔

او ایس او پی کے تحت پیش کی جانے والی مصنوعات ہر خطے کی منفرد شناخت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ٹنکاسی جنکشن، تمل ناڈو میں نفیس انداز سے تیار کردہ بانس اور سرکنڈے کی مصنوعات مقامی  ہنر مندی اور دستکاری کو اجاگر کرتی ہیں اور مقامی روایات کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہیں۔ جبکہ پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر موجود اسٹال عالمی شہرت یافتہ مدھوبنی پینٹنگز پیش کرتا ہے، جو مقامی فنکاروں اور ہنرمندوں کو اس روایتی فن کو وسیع تر ناظرین تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مدھوبنی پینٹنگز، پٹنہ جنکشن، بہار

شمولیت پر خصوصی توجہ کے ساتھ، او ایس او پی ہنرمندوں، بُنکروں، کسانوں، اور اپنی مدد آپ گروپس کے اراکین، خصوصاً خواتین کی قیادت والے گروپس کو ترجیح دیتا ہے۔ رسمی منڈیوں تک محدود رسائی رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر، اور بیداری مہمات و ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ان کی مدد کرتے ہوئے، او ایس او پی  بنیادی سطح کی برادریوں کو وسیع تر صارفین تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ان کے روایتی روزگار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

علاقائی شناخت کی عکاسی

او ایس او پی آؤٹ لیٹس مسافروں کو مستند مقامی مصنوعات بطور یادگار خریدنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جو ہر ریاست کی منفرد ثقافتی اور معاشی شناخت کی نمائندگی کرتی ہیں، اور ساتھ ہی نچلی سطح کے روزگار کی بھی حمایت کرتی ہیں۔

آسانسول ریلوے اسٹیشن، مغربی بنگال

مغربی بنگال کے آسانسول ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر 4  پر قائم او ایس او پی کیوسک پر فروخت کے لیے موجود ہینڈلوم بیگز، ہاتھ سے تیار کردہ فن پارےاور قالین   انتظار کرنے والے مسافروں کی توجہ  اپنی جانب مبذول کرتے ہیں۔ جب مسافر ان مصنوعات کو دیکھتے اور خریدتے ہیں، تو وہ صرف یادگاریں ہی ساتھ نہیں لے جاتے بلکہ اس خطے کی دستکاری اور ثقافتی شناخت کا ایک حصہ بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

مور مارکیٹ کمپلیکس ریلوے اسٹیشن، چنئی، تمل ناڈو

مور مارکیٹ کمپلیکس ریلوے اسٹیشن پر ایک اسٹال کپاس سے تیار کردہ ہینڈلوم مصنوعات پیش کرتا ہے، جو ریاست کی بھرپور ٹیکسٹائل روایات کو نمایاں کرتی ہیں۔ یہ اسٹال مسافروں کو آسانی کے ساتھ مستند ہینڈلوم اشیاء خریدنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جبکہ مقامی بُنکروں کی معاونت بھی کرتے ہیں۔

اس سے متصل ، ایک پرفیوم اسٹال  مسافروں کو روایتی خوشبوؤں سے متعارف کراتا ہے ، جو  روایتی خوشبوؤں کو ثقافتی ورثے کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ مسافروں کو مقامی کاریگروں اور کاریگری کی مدد کرتے ہوئے روایتی خوشبوؤں کا تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔  جنوبی ساحل سے لے کر مشرقی پٹی تک ، یہ پہل مسلسل مقامی کاریگری کو وسیع تر شائقین سے جوڑتی ہے ۔

بلانگیر ریلوے اسٹیشن، اڈیشہ

اڈیشہ کے بلانگیر ریلوے اسٹیشن پر ’’ون اسٹیشن ون پروڈکٹ‘‘ (او ایس او پی) اقدام کے تحت قائم کیا گیا ایک چھوٹا سا کھلونوں کا اسٹال مقامی ہنرمندوں اور اپنی مدد آپ گروپس کے لیے روزگار کے باوقار مواقع پیدا کر رہا ہے۔ رنگ برنگے، ہاتھ سے تیار کردہ   کپڑے اور کپاس سے بنے کھلونوں کی نمائش کرنے والا یہ اسٹال مقامی برادریوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور  ہنرمندی کو نمایاں کرتا ہے، خصوصاً اُن خواتین کی جو  اپنی مدد آپ گروپس سے وابستہ ہیں اور اب اپنے تیار کردہ مصنوعات کو براہِ راست وسیع تر منڈی تک پہنچا رہی ہیں۔

ریلوے اسٹیشن سے گزرنے والے مسافروں کی مسلسل آمد و رفت کے باعث اس آؤٹ لیٹ کو نمایاں نمائش اور مستقل  مانگ  حاصل ہوتی ہے، جس سے ہنرمندوں کو پائیدار آمدنی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ روایتی دستکاری  کوبھی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف علاقائی دستکاری کو فروغ دیتا ہے بلکہ نچلی سطح پر کاروباری صلاحیتوں کو بھی مضبوط بناتا ہے، اور ’’ووکل فار لوکل‘‘ کے جذبے کی عکاسی کرتے ہوئے مقامی پیداوار کرنے والوں کو قومی سطح کے خریداروں سے جوڑتا ہے۔ مغربی ممالک کی مصنوعات کی جانب بڑھتا ہوا رجحان اب  مقامی مصنوعات  کی طرف تبدیل ہوتا جا رہا ہے، اس اقدام  کا بنیادی اثر یکساں رہتا ہے ، ہنرمندوں کو بااختیار بنانا اور روایتی  ہنر کا تحفظ کرنا۔

جے پور جنکشن ریلوے اسٹیشن، راجستھان

جے پور جنکشن ریلوے اسٹیشن پر او ایس او پی آؤٹ لیٹ راجستھان کی رنگین وراثت، خصوصاً سانگانری پرنٹ ٹیکسٹائل  کا احیاء کرتا ہے۔ مسافر جب باریک اور خوبصورت نقش و نگار والے کپڑوں کو دیکھنے کے لیے رکتے ہیں تو یہ اسٹال انہیں خطے کی بھرپور فنی روایت کی جھلک دکھاتا ہے۔ ورثے کی نمائش کے ساتھ ساتھ یہ اقدام مقامی ہنرمندوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے، جو پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہوئے صدیوں پرانی دستکاری کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔

ٹاٹانگر ریلوے اسٹیشن، جھارکھنڈ

اسی طرح، جھارکھنڈ کے ٹاٹانگر ریلوے اسٹیشن پر او ایس او پی اسٹالز مقامی ہنرمندوں کی جانب سے تیار کردہ مختلف ہاتھ سے بنی مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ہنرمندوں کے لیے یہ پلیٹ فارم مقامی حدود سے باہر منڈی تک رسائی کو وسیع کرتا ہے، جس سے ان کے کام کو  زیادہ سے زیادہ خریداروں تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ اسٹال پر ہر تعامل روایت اور موقع کے درمیان ایک ربط بن جاتا ہے۔

بھارت کی مقامی صلاحیتوں کے لیے ایک پلیٹ فارم

او ایس او پی آؤٹ لیٹس کا بڑھتا ہوا نیٹ ورک اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح عوامی بنیادی ڈھانچہ جامع ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ روزمرہ کے سفری مقامات میں مقامی مصنوعات کو شامل کر کے یہ اقدام  بنیادی سطح پر کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط کرتا ہے اور روایتی مہارتوں کو  تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ او ایس او پی عام سفر کو بامعنی تجربات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مسافر ان مصنوعات کے پیچھے چھپی کہانیوں سے جڑتے ہیں، جبکہ ہنرمندوں کو پہچان اور معاشی استحکام حاصل ہوتا ہے۔ اس تبادلے کے ذریعے ریلوے اسٹیشن ایسے مقامات بن جاتے ہیں جہاں ثقافت، تجارت اور برادری ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ جیسے جیسے او ایس او پی  وسعت  حاصل کر رہا ہے، یہ اس بات کی ایک مؤثر مثال بن رہا ہے کہ مقامی صلاحیتوں کو قومی پلیٹ فارمز کے ذریعے کس طرح اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ بھارت کا بھرپور ورثہ اپنی اصل جگہ سے کہیں زیادہ دور تک پہنچ سکے۔

حوالہ جات

Ministry of Railways

https://x.com/RailMinIndia/status/1564882838792568832?s=20

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/183/AU2640_KY9bK4.pdf?source=pqals

https://swr.indianrailways.gov.in/cris/view_detail.jsp?lang=0&id=0,4,268&dcd=6990&did=1700126466366C941683059380D4F89F7306F3F333C7E#:~:text=One%20Station%20one%20Product%20(OSOP,are%20operational%20at%201037%20stations

https://www.instagram.com/p/DC6I_r0zTBQ/

https://www.instagram.com/p/DKl8m6Ghzmg/

https://x.com/RailMinIndia/status/1563572106620596225?s=20

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1923698&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2216453&reg=3&lang=1#:~:text=Indian%20Railways'%20One%20Station%20One,of%20India's%20rich%20regional%20diversity.

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں

******

ش ح۔  ش ب۔  ش ب ن

U-NO. 6814


(ریلیز آئی ڈی: 2259172) وزیٹر کاؤنٹر : 11