کامرس اور صنعت کی وزارتہ
پیداوار پر مبنی ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیموں نے 2.16 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا ہے، 20.41 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار کو فروغ دیا ہے اور 14.39 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2026 4:41PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے “میک اِن انڈیا” کا آغاز 25 ستمبر 2014 کو کیا، جس کا مقصد سرمایہ کاری کو آسان بنانا، جدت طرازی کو فروغ دینا، عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا اور بھارت کو مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اور اختراع کا ایک اہم مرکز بنانا ہے۔ اس وقت “میک اِن انڈیا 2.0” کے تحت 27 شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے، جن میں 15 پیداواری شعبے شامل ہیں اور یہ مختلف وزارتوں، محکموں اور ریاستی حکومتوں کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
“میک اِن انڈیا” کے تحت دیگر اہم اقدامات میں اسٹارٹ اپ انڈیا، نیشنل سنگل ونڈو سسٹم، جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی لینڈ بینک، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اصلاحات، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان، بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی نگرانی کے لیے پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ، صنعتی پارکوں کا قیام، کاروبار میں آسانی کے اقدامات، تعمیل کے بوجھ میں کمی، لیبر قوانین کی تنظیم نو، اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نفاذ، سرکاری خریداری کے ذریعے مقامی پیداوار کے فروغ اور مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام شامل ہیں۔
اس اقدام کے تحت پیداوار پر مبنی ترغیبی اسکیمیں (پی ایل آئی) 14 اہم شعبوں میں نافذ کی گئی ہیں، جن میں بڑے پیمانے کی الیکٹرانکس، آئی ٹی ہارڈویئر، ادویات، بلک ڈرگز، طبی آلات، گاڑیاں اور ان کے پرزہ جات، جدید بیٹری ٹیکنالوجی، سولر پی وی ماڈیولز، ٹیلی کام و نیٹ ورکنگ مصنوعات، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، اسپیشلٹی اسٹیل، سفید سامان (وہائٹ گڈز) اور ڈرونز و ان کے پرزہ جات شامل ہیں۔ ان اسکیموں کے ذریعے اضافی پیداوار اور فروخت پر ترغیبی رقم دی جاتی ہے، جس سے ان شعبوں میں نئی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مینوفیکچرنگ کے دائرے کی توسیع ممکن ہوئی ہے۔
پیداوارپر مبنی ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیموں نے 31 دسمبر 2025 تک 2.16 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں 20.41 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی اضافی پیداوار اور فروخت ہوئی ہے۔مزید برآں، ان اسکیموں کے ذریعے 14.39 لاکھ سے زائد (براہِ راست اور بالواسطہ) روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ پی ایل آئی فریم ورک کے تحت شامل 14 شعبوں میں مجموعی طور پر 836 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے۔
پی ایل آئی اسکیموں کے اثرات بھارت میں مختلف شعبوں پر نمایاں طور پر دیکھے گئے ہیں۔ ان اسکیموں نے مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے، برآمدات میں اضافہ کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور متعدد اسٹریٹجک شعبوں میں درآمدات پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران حقیقی سرمایہ کاری، پیداوار میں اضافہ اور روزگار کی تفصیلات ضمیمہ II میں شامل ہیں۔ تاہم پی ایل آئی کے تحت ریاست وار اعداد و شمار مرکزی سطح پر مرتب نہیں کیے جاتے۔
بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای) کی ترقی کے لیے مرکزی حکومت ریاستی اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کی کوششوں کو مختلف اسکیموں، پروگراموں اور پالیسی اقدامات کے ذریعے مکمل معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان میں متعدد اہم اسکیمیں اور پروگرام شامل ہیں۔
- پی ایم امپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ا یم ای جی پی): اس پروگرام کے تحت غیر زرعی شعبے میں نئے مائیکرو کاروبار شروع کرنے کے لیے 35 فیصد تک مارجن منی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں مینوفیکچرنگ کے لیے منصوبے کی لاگت 50 لاکھ روپے اور خدمات کے شعبے کے لیے 20 لاکھ روپے تک مقرر ہے۔
- چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم: اس اسکیم کو کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ فار مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے تاکہ چھوٹے کاروباری اداروں کو دیے جانے والے قرضوں کے لیے ضمانت فراہم کی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت ضمانتی کوریج کی حد 10 کروڑ روپے تک ہے۔
- خود کفیل بھارت (ایس آر آئی)فنڈ: اس فنڈ کے تحت بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ایکویٹی سرمایہ کاری کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس میں حکومتِ ہند کی جانب سے 10 ہزار کروڑ روپے اور پرائیویٹ ایکویٹی/وینچر کیپیٹل فنڈز کے ذریعے 40 ہزار کروڑ روپے شامل ہیں۔ بجٹ 2026-27 میں بھی اس فنڈ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 2 ہزار کروڑ روپے کی اضافی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ بہت چھوٹے کاروباروں کو رسک کیپیٹل تک رسائی جاری رہے۔
- ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بطور یوٹیلٹی، مانگ پر حکومتی خدمات اور ڈیجیٹل بااختیاری کے نظام فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔
سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ریاستوں و مختلف شعبوں میں ہمہ گیر ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے تعاون سے متعدد اسکیمیں نافذ کر رہی ہے، جن میں قومی صنعتی کوریڈور ترقیاتی پروگرام، شمال مشرقی ریاستوں کے لیے “انّتی” اسکیم، جموں و کشمیر کے لیے نیا مرکزی سیکٹرکا پروگرام اور اسٹارٹ اپ انڈیا شامل ہیں۔
قومی صنعتی کوریڈور ترقیاتی پروگرام (این آئی سی ڈی پی) کے تحت ملک بھر میں متعدد نئے صنعتی علاقوں، خطوں اور مراکز کو ترقی دی جا رہی ہے تاکہ عالمی معیار کے حامل پیداواری اور سرمایہ کاری کے مراکز قائم کیے جا سکیں۔ اب تک اس پروگرام کے تحت تقریباً 20 منصوبوں کو منظوری دی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے اشتراک سے صنعتی پارکس بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں 306 “پلگ اینڈ پلے” صنعتی پارکس موجود ہیں جبکہ مزید 20 صنعتی پارکس اور اسمارٹ سٹیز قومی صنعتی کوریڈور ترقیاتی کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) کے ذریعے زیرِ تعمیر ہیں۔
شمال مشرقی ریاستوں میں صنعتی ترقی کے لیے “انّتی” اسکیم نافذ کی گئی ہے، جس کا مقصد علاقائی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی مضبوطی و پائیداری کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر ترغیبات، سرمایہ پر شرح سود میں رعایت اور مینوفیکچرنگ و خدمات سے منسلک ترغیبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
اسی طرح جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے حکومتِ ہند نے نیا مرکزی سیکٹر پروگرام (این سی ایس ایس) 2021 نافذ کیا ہے، جس کے لیے 28,400 کروڑ روپے کا مالیاتی پیکیج مختص کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی ترغیبات، قرض پر شرح سود میں رعایت، جی ایس ٹی سے منسلک مراعات اور ورکنگ کیپیٹل پر سود میں رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
مزید برآں حکومت نے روزگار پیدا کرنے، روزگار کی صلاحیت بڑھانے اور تمام شعبوں میں سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے “روزگار سے منسلک ترغیبی اسکیم” (ای ایل آئی اسکیم) کو منظوری دی ہے، جس میں مینوفیکچرنگ کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 99,446 کروڑ روپے کی لاگت سے ملک بھر میں دو سال کے دوران 3.5 کروڑ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے 1.92 کروڑ مستفید افراد وہ ہوں گے جو پہلی مرتبہ افرادی قوت میں شامل ہوں گے۔
حکومت نے “پی ایم انٹرن شپ اسکیم” بھی شروع کی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو صنعت سے متعلق عملی مہارت فراہم کرنا، ملازمت کے لیے تیاری بہتر بنانا اور ملک کی بڑی کمپنیوں اور اداروں میں منظم انٹرن شپ کے ذریعے پیشہ ورانہ تجربہ دلانا ہے۔ اس تجرباتی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 1.81 لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواست دی، جبکہ شراکت دار کمپنیوں نے 60 ہزار سے زائد امیدواروں کو 82 ہزار سے زیادہ انٹرن شپ آفرز دیں۔ دوسرے مرحلے میں 2.14 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور کمپنیوں نے 71 ہزار سے زائد امیدواروں کو 83 ہزار سے زیادہ انٹرن شپ آفرز فراہم کیں۔
حکومت سرمایہ کاری کے فروغ اور سہولت کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو اور ملکی مینوفیکچرنگ کو تقویت ملے۔ ان اقدامات میں نیشنل سنگل ونڈو سسٹم، جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی لینڈ بینک، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی میں اصلاحات، پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ کا قیام شامل ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں وزارتِ تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
ضمیمہ-I
27 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا میں غیر ستارہ سوال نمبر 3880 کے حصوں (الف) تا (ج) کے جواب میں جن ضمیمہ جات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کی تفصیلات۔
مینوفیکچرنگ سیکٹرز
- ایرو اسپیس اور دفاع
- آٹوموٹو اور آٹو کلپرزے
- دواسازی اور طبی آلات
- بائیو ٹیکنالوجی
- کیپٹل گڈز
- ٹیکسٹائل اور ملبوسات
- کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل
- الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم)
- چمڑے اور جوتے
- فوڈ پروسیسنگ
- جواہرات اور زیورات
- شپنگ
- ریلوے
- تعمیر
- xv. نئی اور قابل تجدید توانائی
سروس سیکٹرز
- انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹکنالوجی سے چلنے والی خدمات (آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس)
- سیاحت اور مہمان نوازی کی خدمات
- میڈیکل ویلیو ٹریول
- ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز
- اکاؤنٹنگ اور فنانس سروسز
- آڈیو ویژول سروسز
- قانونی خدمات
- مواصلاتی خدمات
- تعمیراتی اور متعلقہ انجینئرنگ خدمات
- ماحولیاتی خدمات
- مالیاتی خدمات
- تعلیمی خدمات
ضمیمہ-II
27.03.2026 کو راجیہ سبھا میں غیر ستارہ سوال نمبر 3880 کے حصوں (الف) تا (ج) کے جواب میں جن ضمیمہ جات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کی تفصیل
پی ایل آئی اسکیموں کے تحت حقیقی سرمایہ کاری، پیداوار میں اضافہ اور روزگار کی فراہمی کی تفصیلات
|
تفصیلات/سال
|
مالی سال 2022-23 تک
|
مالی سال 2023-24 تک
|
مالی سال 2024- 2025 تک
|
مالی سال 2025-26تک*
|
|
سرمایہ کاری
|
0.51 لاکھ کروڑ
|
1.18 لاکھ کروڑ
|
1.76 لاکھ کروڑ
|
2.16 لاکھ کروڑ
|
|
سیلز/پروڈکشن
|
4.50 لاکھ کروڑ
|
9.71 لاکھ کروڑ
|
16.50 لاکھ کروڑ
|
20.41 لاکھ کروڑ
|
|
روزگار
|
3 لاکھ’
|
8 لاکھ
|
12 لاکھ
|
14.39 لاکھ
|
*31 دسمبر 2025 تک
*****
ش ح۔م م۔ ف ر
U-6764
(ریلیز آئی ڈی: 2258784)
وزیٹر کاؤنٹر : 12