نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ نے ‘ہندوستان میں اسکولی تعلیمی نظام:معیار کی بہتری کے لیےوقتی تجزیہ اور پالیسی روڈ میپ’سے متعلق پالیسی رپورٹ جاری کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAY 2026 1:13PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین جناب سمن بیری اور سی ای او محترمہ ندھی چھبر نے 6 مئی 2026 کو ‘ہندوستان میں اسکولی تعلیمی نظام: معیار کی بہتری کے لیے وقتی  تجزیہ اور پالیسی روڈ میپ’ کے عنوان سے ایک پالیسی رپورٹ جاری کی ہے ۔  یہ رپورٹ ایک پالیسی دستاویز ہے جو رسائی اور اندراج ، بنیادی ڈھانچہ ، مساوات اور شمولیت ، اور سیکھنے کے نتائج جیسے اہم پیمانوں پر ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام کا ایک جامع ، دہائی طویل تجزیہ پیش کرتی ہے ۔  یہ یو ڈی آئی ایس ای + 2024-25 ، پرکھ راشٹریہ سروکشن 2024 ، این اے ایس 2017 اور 2021 ، اور اے ایس ای آر 2024 کے ثانوی اعداد و شمار پر مبنی ہے ، اور اسے فروری 2025 میں نیتی آیوگ کے ذریعہ بلائی گئی معیاری اسکولی تعلیم سے متعلق قومی ورکشاپ کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے ، جس میں محکمہ تعلیم کے سکریٹری سمیت 150 سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی ۔ جن میں بھارت کی وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پرنسپل سیکریٹریز، این سی ای آر ٹی اور ایس سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹرز، ضلع کلکٹر، یونیسکو، این یو ای پی اے اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل تھیں۔

آج بھارت کا اسکولی تعلیمی نظام 14.71 لاکھ اسکولوں پر مشتمل ہے، جو 24.69 کروڑ سے زائد طلبہ کو خدمات فراہم کرتا ہے، اور اسے دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام بناتا ہے۔گزشتہ ایک دہائی میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے، یہ رپورٹ رسائی، بنیادی ڈھانچہ، مساوات، شمولیت، ڈیجیٹل انضمام اور تعلیمی نتائج جیسے اہم پہلوؤں پر بھارت کی 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے۔ہیٹ میپس اور دیگر بصری گرافکس کے ذریعے کی گئی اس وقتی تجزیہ  اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے، خاص طور پر بجلی کی فراہمی، فعال صفائی سہولیات، اور جامع انفراسٹرکچر کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم کے نظام میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے، جس میں کمپیوٹرز تک بہتر رسائی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، اور اسمارٹ کلاس رومز شامل ہیں۔مطالعے میں مساوات اور شمولیت کے شعبے میں بھی حوصلہ افزا پیش رفت کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کی شمولیت اورایس سی  اور ایس ٹی  طلبہ کے داخلوں میں مختلف تعلیمی مراحل پر بہتری دیکھی گئی ہے۔مزید برآں، رپورٹ میں وبائی امراض کے بعد ابتدائی سطح پر بنیادی خواندگی اور عددی مہارت سمیت تعلیمی نتائج میں بحالی کے آثار کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ یہ بہتری نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020، نِپُن بھارت مشن اور سمگرا شکشا ابھیان جیسے مسلسل پالیسی اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی ہے، تاہم معیار اور مساوی تعلیمی نتائج کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے تجزیے اورشراکت داروں ( اسٹیک ہولڈرز)کی  مشاورت کی بنیاد پر رپورٹ میں نظامی اور تعلیمی دونوں سطحوں پر موجود 11 بڑے چیلنجوں  کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ 13 جامع سفارشات پر مشتمل ایک تفصیلی پالیسی روڈ میپ فراہم کرتی ہے ان میں 8 منظم  سفارشات شامل ہیں، جن میں اسکولی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے کمپوزٹ اسکولوں کا قیام اور شواہد پر مبنی تنظیم نو شامل ہے۔ اس کے ساتھ اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، گورننس میں اصلاحات اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ، اور پورے معاشرے پر مبنی نقطہ نظر کو ادارہ جاتی شکل دینا شامل ہے، جس کے تحت ریاستی اور ضلعی سطح پر اسکول معیار کے لیے ٹاسک فورسز قائم کی جائیں گی۔مزید سفارشات میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوںکو مضبوط بنانا، اساتذہ کی تعیناتی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنانا، ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ پر مبنی تعلیم کو وسعت دینا، اور مساوات و شمولیت کو فروغ دینا شامل ہے۔اس کے علاوہ  5 تعلیمی سفارشات تدریس ، تشخیص اور بنیادی تعلیم کو تبدیل کرنے ، جامع تعلیم اور طلباء کی فلاح و بہبود پر زور دینے ، پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر مندی کے انضمام کا ازسر نو تصور کرنے ، ای سی سی ای کو مضبوط بنانے اور تدریسی اختراع کے لیے اے آئی کو مربوط کرنے پر مرکوز ہیں ۔

رپورٹ میں مذکورہ سفارشات پر عمل درآمد کے لیے 33 عملی راستے بھی پیش کیے گئے ہیں، جنہیں مختصر، درمیانی اور طویل مدتی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان ہر مراحل کے لیے واضح طور پر مرکزی، ریاستی اور مقامی سطح پر ذمہ دار اداروں اور افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ پیش رفت کی نگرانی کے لیے 125 سے زائد قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریےبھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ نظامی بہتری کو باقاعدگی سے جانچا جا سکے۔رپورٹ میں بھارت کے مختلف حصوں سے مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح پر نافذ کی گئی بہترین عملی مثالوں پر مختصر کیس اسٹڈیز بھی شامل کی گئی ہیں، جو پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

مکمل پالیسی رپورٹ اس لنک کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے: https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-05/School-Education-System-in-India.pdf

 

********

) ش ح ۔ ش آ۔م ن)

U.No. 6751

 


(ریلیز آئی ڈی: 2258700) وزیٹر کاؤنٹر : 12