وزارتِ تعلیم
نئی دہلی میں وزیرتعلیم جناب دھرمیندر پردھان کے ہاتھوں اسکول مینجمنٹ کمیٹی(ایس ایم سی) کی رہنما ہدایات جاری
اسکول مینجمنٹ کمیٹی کی رہنما ہدایات 2026 کا مقصد تعلیمی نظام میں بہتری لانا اور اسکولوں کے انتظام میں عوامی شمولیت کو مضبوط بنانا ہے: دھرمیندر پردھان
اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں صرف رسمی ادارے نہ رہیں بلکہ انہیں عوامی تحریک کی شکل دی جائے تاکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور اسکولوں کے نظم و نسق کو مزید مؤثر بنایا جا سکے:وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 MAY 2026 6:00PM by PIB Delhi
نئی دہلی کے وگیان بھون میں آج مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے اسکول مینجمنٹ کمیٹی (ایس ایم سی) کی رہنما ہدایات کا اجرا کیا۔اس تقریب میں دہلی حکومت کے وزیر تعلیم جناب آشیش سود، چھتیس گڑھ حکومت کے وزیراسکولی تعلیم جناب گجنیدر یادو، محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی (ڈی او ایس ای ایل) کے سکریٹری جناب سنجے کمار، پینے کے پانی اور صفائی کےمحکمہ کے سکریٹری جناب اشوک کمار مینا اور ڈی او ایس ای ایل کی اضافی سکریٹری محترمہ ارچنا ایس اوستھی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹی(ایس ایم سی) گائیڈ لائنز 2026 ملک بھر کے تقریباً 15 لاکھ اسکولوں میں قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی) 2020 کے وژن کو عملی شکل دینے میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ رہنما ہدایات ایس ایم سی کو ایک ایسے مضبوط پل کے طور پر تصور کرتی ہیں جو طلبہ، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے درمیان رابطے کا کام کرے گا۔ اس کا مقصد بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کو یقینی بنانا ہے، تاکہ تعلیم کے نظام میں کمیونٹی کی مؤثر شمولیت اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے بہتری لائی جا سکے۔

جناب دھرمیندر پردھان نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تعلیم کے ساتھ ہی صحت، فلاح و بہبود، دماغی صحت اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں (سی ڈبلیو ایس این) کی معاونت کو یقینی بنانے کے لیے پابندعہد ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایس ایم سی گائیڈ لائنز میں رہنمائی، سرپرستی اور کمیونٹی کی ذمہ داری کے تصور کو بھی نہایت اہم قرار دیا گیا ہے تاکہ اسکولوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان ہدایات کا مقصد اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو پائیدار نظام اور عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہے، جو تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ انہوں نے “ودیا نجلی” جیسے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام عوامی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام تاریخی طور پر کمیونٹی کی قیادت میں ترقی کرتا رہا ہے، اور نئی ایس ایم سی گائیڈ لائنز اسی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کے تحت جاری کی گئی ہیں تاکہ اسکول ایک بار پھر معاشرتی شمولیت کا مرکز بن سکیں۔
دہلی حکومت کے وزیر تعلیم جناب آشیش سود نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ پروگرام صرف نئی ہدایات جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے تعلیمی نظام میں ایک گہری اور انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ہندوستان کو 2047 تک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو اس منزل تک پہنچنے کا راستہ اسکولوں اور کلاس رومز سے ہو کر گزرتا ہے۔
جناب آشیش سود نے کہا کہ حال ہی میں جاری کردہ ایس ایم سی گائیڈ لائنز 2026 اس تبدیلی کے سفر میں ایک نہایت اہم کڑی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے ایس ایم سی کا جو نظام موجود تھا، جو حق تعلیم ایکٹ کے بعد متعارف ہوا تھا، وہ زیادہ تر گرانٹس کی نگرانی، بنیادی انفراسٹرکچر کی دیکھ ریکھ اور انتظامی امور تک محدود تھا۔ تاہم آج کے دور میں حالات اور تقاضے کافی بدل چکے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اب بچوں کی حفاظت، دماغی صحت، بنیادی خواندگی و عددی مہارت (ایف ایل این)، ڈیجیٹل شفافیت، تعلیمی نتائج اور کمیونٹی کی شمولیت جیسے مسائل انتہائی اہم ہو گئے ہیں۔ نئی ایس ایم سی گائیڈ لائنز انہی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ رہنما اصول ایس ایم سی کو محض نگرانی کرنے والے اداروں سے بڑھا کر حقیقی “اسکول کمیونٹی گورننس اداروں” میں تبدیل کرنے والے ہیں۔ اب ایس ایم سی بچوں کی ہمہ جہت نشوونما، تعلیمی معیار، طلبہ کی فلاح و بہبود، تحفظ، شمولیت، ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت میں فعال کردار ادا کریں گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب آشیش سود نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایس ایم سی گائیڈ لائنز 2026 عوامی شمولیت، شفافیت اور معیاری تعلیم کو مزید مضبوط کریں گی اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گی۔
دوسری جانب جناب گجیندر یادو نے کہا کہ بچوں کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے فعال اور باشعور معاشرے کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان کی قیادت میں متعارف کرائی گئی ایس ایم سی گائیڈ لائنزسے والدین اور اسکولوں کے درمیان خلا کم ہو گی اور مقامی سرپرستوں کی اسکول کے نظم و نسق میں زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس اجلاس میں مختلف ریاستوں کے متعدد وزرائے تعلیم نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔ ان میں ہریانہ کے اسکولی، اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے وزیر جناب مہیپال ڈھانڈا، مہاراشٹر کے اسکولی تعلیم اور مراٹھی زبان کے وزیر جناب دادا جی بھوسے، میزورم کے اسکولی، اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے وزیر ڈاکٹر وان لالتھلانا، تریپورہ حکومت کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر جناب کشور برمن، اتراکھنڈ کے وزیرتعلیم جناب دھن سنگھ راوت، اور ناگالینڈ کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر جناب تیمجین امنا آلونگ شامل تھے۔





اسکول مینجمنٹ کمیٹی(ایس ایم سی) کی رہنما ہدایات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ کرم نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://dsel.education.gov.in/sites/default/files/guidelines/School_Management_Committee_Guidelines.pdf
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ش ع ۔ع ن)
U. No. 6736
(ریلیز آئی ڈی: 2258655)
وزیٹر کاؤنٹر : 7