صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی صحت اتھارٹی،  انڈیا اے آئی مشن اور آئی آئی ایس سی کے اشتراک سے اے بی  پی ایم-جے اے وائی آٹو -ایڈجیوڈیکیشن ہیکاتھون کے گرینڈ فینالے اور شوکیس کی میزبانی 8 تا 9 مئی 2026 کو آئی آئی ایس سی بنگلورو میں کرے گی


ماہرین کے پینلز حفظان صحت کے  شعبے میں مصنوعی ذہانت کو وسعت دینے اور ایک شفاف، ڈیٹا پر مبنی کلیمز ایکوسسٹم کی تشکیل پر غور و خوض کریں گے

اے آئی پر مبنی فراڈ ڈیٹیکشن کیلئے ایک خصوصی سیشن بھی منعقد ہوگا، جس میں شفافیت، جوابدہی اور ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق چیلنجز پر توجہ دی جائے گی

یومیہ 1,900 سے زیادہ علاج پیکجزکے تحت تقریبا 40,000 دعووں کو نمٹاتے ہوئے اے بی  پی ایم-جے اے وائی  اے آئی پر مبنی دعوی کے مینجمنٹ میں پیش پیش ہے ، یہ ہیکاتھون شوکیس آٹو ایڈجیوڈیکیشن صلاحیتوں کو وسعت دینے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 MAY 2026 11:58AM by PIB Delhi

حکومت ہند کی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) 9-8 مئی 2026 کو اے وی راما راؤ آڈیٹوریم ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) بنگلورو میں اے بی پی ایم-جے اے وائی آٹو ایڈجیوڈیکیشن ہیکاتھون کے گرینڈ فینالے اور شوکیس کی میزبانی کرے گی ۔ اس تقریب کا انعقاد انڈیا اے آئی مشن اور آئی آئی ایس سی بنگلورو کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے ۔

سرکاری پورٹل کے ذریعے 3,500 سے زیادہ شرکاء کے اندراج کے ساتھ ملک گیر ہیکاتھون کو زبردست ردعمل ملا ہے ۔ یہ پرجوش شرکت ہندوستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور صحت عامہ کے بیمہ کے عمل کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے میں اختراع کاروں ، تکنیکی ماہرین اور محققین کے درمیان بڑھتی دلچسپی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ رجسٹریشن کا عمل 13 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوا ۔

گرینڈ فینالے کے افتتاحی اجلاس میں حکومت ہند کی الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس کرشنن کلیدی خطبہ دیں گے ۔ اس اجلاس سے این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سنیل کمار برنوال اور حکومت کرناٹک کے پرنسپل سکریٹری جناب ریتویک رنجنم پانڈے بھی خطاب کریں گے ۔

دو روزہ پروگرام کا تصور جدید ترین اختراعات کو پیش کرنے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا ہے جو آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت صحت کے دعووں کے انتظام کے اگلے مرحلے کی تشکیل کر سکتے ہیں ۔ فائنلسٹ ٹیمیں کلینیکل دستاویز کی درجہ بندی اور معیاری علاج کے رہنما خطوط (ایس ٹی جی) ریڈیولوجیکل امیج پر مبنی توثیق اور جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ طبی دستاویزات کا پتہ لگانے جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید اے آئی/ایم ایل پر مبنی حل پیش کریں گی ۔ یہ حل دعووں کے فیصلے کی درستگی ، رفتار اور سالمیت کو نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت کے ساتھ حقیقی دنیا کی تعیناتی کے لیے مضبوط صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

اس پروگرام میں فکر انگیز پینل مباحثے بھی شامل ہوں گے جن میں حکومت، صنعت، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کی نمایاں شخصیات شریک ہوں گی۔  ‘‘بلڈنگ اے آئی فار انڈین ہیلتھ کیئر’’ کے موضوع پر ایک خصوصی سیشن میں صحت کے نظام میں اے آئی اختراعات کو وسعت دینے کی حکمتِ عملیوں پر غور کیا جائے گا، جس میں آروگیہ بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت قائم مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا جائے گا۔

ایک اور پینل مباحثہ ‘‘کلیمز ایڈجیوڈیکیشن کا مستقبل’’ کے موضوع پر منعقد ہوگا، جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ اے بی پی ایم-جے اے وائی مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، انٹرآپریبل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کے فریم ورک کے انضمام کے ذریعے کس طرح ایک تیز تر، زیادہ شفاف اور جوابدہ کلیمز ایکوسسٹم کو ممکن بنا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ‘‘اے آئی کے دور میں فراڈ، ویسٹ اور ابیوز- چیلنجز اور مواقع’’ کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن منعقد ہوگا، جس میں فراڈ کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ شفافیت، جوابدہی اور ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق اہم امور پر بھی غور کیا جائے گا۔

یومیہ تقریباً 40,000 کلیمز اور 1,900 سے زائد علاج پیکجز کے ساتھ، اے بی پی ایم-جے اے وائی دنیا کے سب سے بڑے عوامی مالی معاونت یافتہ ہیلتھ انشورنس نظام میں شمار ہوتا ہے اور کلیمز مینجمنٹ میں اے آئی پر مبنی طریقوں کو اپنانے میں پیش پیش ہے۔ یہ ہیکاتھون شوکیس این ایچ اے کی ان کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے جس کا مقصد آٹو ایڈجیوڈیکیشن صلاحیتوں کو مختلف طبی پیکجز اور اسپیشیلٹیز تک وسعت دینا ہے۔

یہ پروگرام ان ٹیموں کی پذیرائی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا جن کے حل حقیقی دنیا میں نفاذ کی مضبوط صلاحیت رکھتے ہیں اور اس طرح ایک شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی کلیمز ایکوسسٹم کے وژن کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

اس اقدام کے ذریعے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے اور ملک بھر میں مستفیدین اور فراہم کنندگان کے لیے بہتر صحت کے نتائج حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

دو روزہ تقریب کی سیشن کے لحاظ سے تفصیلات یہاں حاصل کی جا سکتی ہیں:

https://nha.gov.in/ip/Draft_Hackathon_Program_Agenda05.05.2026.pdf

***

ش ح ۔ک ا۔  ع د

U. No.6693


(ریلیز آئی ڈی: 2258336) وزیٹر کاؤنٹر : 9