زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں 12سے 14 مارچ – 2026 تک خواتین کے زرعی و غذائی نظام پر عالمی کانفرنس (جی سی ڈبلیو اے ایس-2026) کا شاندار انعقاد


ہندوستان کی صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو جی سی ڈبلیو اے ایس-2026کا افتتاح کریں گی،  جبکہ مرکزی وزیرزراعت جناب  شیو راج سنگھ چوہان اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے

ڈاکٹر ایم ایل جاٹ کے مطابق جی سی ڈبلیو اے ایس-2026 صنفی لحاظ سے حساس پالیسی سازی، ٹیکنالوجی میں جدت اور جامع و شمولیت پر مبنی زرعی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAR 2026 4:59PM by PIB Delhi

آج انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سکریٹری (ڈی اے آر ای) اور ڈائریکٹر جنرلآئی سی اے آر نے بتایا کہ خواتین کے زرعی و غذائی نظام پر تین روزہ عالمی کانفرنس جی سی ڈبلیو اے ایس- 2026 کا انعقاد 12 سے 14 مارچ 2026 تک بھارت رتن سی سبرامنیم ہال،آئی سی اے آر کنونشن سینٹر، این اے ایس سی کمپلیکس، نئی دہلی میں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس کا باضابطہ افتتاح صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کریں گی۔

ڈاکٹر جاٹ نے مزید بتایا کہ افتتاحی اجلاس میں مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقیات جناب  شیو راج سنگھ چوہان مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اختتامی اجلاس میں مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود، محترمہ اناپورنا دیوی بطور مہمانِ خصوصی (چیف گیسٹ) شرکت کریں گی۔

ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے تقریب کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اہم عالمی کانفرنس مشترکہ طور پر ٹرسٹ فار ایڈوانسمنٹ آف ایگریکلچرل سائنسز (ٹی اے اے ایس)، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)،کنسلٹیٹیو گروپ فار انٹر نیشنل ایگریکلچر ریسرچ (سی جی آئی اے آر) اور پروٹیکشن آف پلانٹ ورائٹی اینڈ فارمرز رائٹس اتھارٹی (پی پی وی اینڈ ایف آر اے) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے، جس میں 15 سے زائد قومی و بین الاقوامی ادارے شریک منتظمین ( کو آرگنائزر) اور علمی شراکت دار ( نالج پارٹنر) کے طور پر شامل ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں ادارے اسپانسرز کے طور پر بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جاٹ نے کہا کہ یہ پروگرام اقوام متحدہ کی جانب سے قرار دیے گئے“انٹرنیشنل ایئر فار ویمن فارمرز 2026” کے دوران منعقد ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس کا مرکزی موضوع “ڈرائیونگ پروگریس ، اٹیننگ نیو ہائٹ” عالمی سطح پر خواتین کسانوں کے کردار پر توجہ کے عین مطابق ہے۔

اس کانفرنس میں 700 سے زائد شرکاء کی شرکت متوقع ہے، جن میں سائنسدان، پالیسی ساز، صنعت کار، کاروباری شخصیات، ترقیاتی ماہرین، خواتین کسان، اسٹارٹ اپس اور طلبہ شامل ہوں گے، جو  ہندوستان سمیت دنیا بھر سے آئیں گے۔

اس کا بنیادی مقصد پالیسی فریم ورک اور ایسے نظاموں کو مضبوط بنانا ہے جو صنفی شمولیت کو مرکزی دھارے میں لائیں اور پائیدار و جامع زرعی و غذائی نظاموں کی تشکیل میں خواتین کے ناگزیر کردار کو اجاگر کریں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس کانفرنس کی تیاری اور رہنمائی نہایت معتبر شخصیات کی سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔

چیف پیٹرن کے طور پر ڈاکٹر راج ایس پروڑا، چیئرمین  ٹی اے اے ایس اس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ پیٹرنز میں ڈاکٹر ایم ایل جاٹ (سکریٹری ڈی اے آر ای اور ڈائریکٹر جنرل آئی سی اے آر)، ڈاکٹر ٹی موہاپاترا (چیئرمین پی پی وی اینڈ ایف آر اے) اور ڈاکٹر اسماہانے الاؤفی (ایگزیکٹیو منیجنگ ڈائریکٹرسی جی آئی اے آر) شامل ہیں۔

کانفرنس کی چیئر ڈاکٹر رینو سوورپ ہیں، جو سابق سکریٹری، محکمہ بایو ٹیکنالوجی، حکومتِ ہند رہ چکی ہیں، جبکہ کو چیئر ڈاکٹر راجبر سنگھ ہیں جو ڈی ڈی جی (زرعی توسیع) آئی سی اے آرکے عہدہ پر فائز ہیں۔

یہ تمام شخصیات اس کانفرنس کو علمی، پالیسی اور عملی سطح پر مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے ممتاز مفکرین اور ماہرین ایک شاندار اور نمایاں خطبہ دینے والے وفد کی صورت میں خطاب کریں گے۔

معروف مقررین میں شامل ہیں: ڈاکٹر اگنیز کلیباتا، فاؤنڈر اور چیئر، کنیکٹ4امپیکٹ ایڈوائزری گروپ، ڈاکٹر برام گوواٹس، ڈائریکٹر جنرل، سی آئی ایم ای وائی ٹی، ڈاکٹر سُمیا سوامی ناتھن، چیئرپرسن، ایم ایس ایس آر ایف ،* ڈاکٹر شکنتلا ایچ تھلسٹڈ، ورلڈ فوڈ پرائز ایوارڈ یافتہ، ڈاکٹر نیتیا راؤ، ڈائریکٹر، این آئی ایس ڈی ، نارفوک، برطانیہ،ڈاکٹر نیکولین ڈی ہان، ڈائریکٹر، جینڈر اینڈ یوتھ ایکسلیریٹر پلیٹ فارم، آئی ایل آر آئی ، کینیااور دیگر کئی نامور ماہرین بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے، جو زرعی و غذائی نظام میں خواتین کے کردار، پائیدار ترقی اور عالمی غذائی تحفظ جیسے اہم موضوعات پر اپنی بصیرت اور تجربات کا تبادلہ کریں گے۔

یہ تین روزہ پروگرام مختلف تفصیلی تکنیکی نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:

عالمی سطح پر خواتین رہنماؤں سے مکالمہ:

اس نشست میں خواتین قائدین اور سائنسدانوں کی متاثر کن کامیابیوں اور تجربات کو شیئر کیا جائے گا۔

صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کا مرکزی دھارے میں انضمام:

زرعی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں صنفی حساس ( جینڈر سینسیٹیو) طریقوں کو شامل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

اقتصادی شمولیت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا:

اس سیشن میں خواتین کی کاروباری شمولیت، مالیاتی ماڈلز اور مارکیٹ تک رسائی کے ذریعے ویلیو چینز میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے پر غور کیا جائے گا۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلی:

ڈجیٹل ٹولز موسمیاتی لحاظ سے موافق (کالئمیٹ اسمارٹ) جدتیں اور خواتین دوست ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور مشقت میں کمی لانا ہے۔

کانفرنس کے دوران خصوصی فورمز بھی منعقد کیے جائیں گے، جن میں:

خواتین کسان فورم، جو دیہی سطح کے مسائل اور چیلنجز کو اجاگر کرے گا

یوتھ فورم جو نوجوان زرعی رہنماؤں کے لیے نیٹ ورکنگ اور شمولیت کا موقع فراہم کرے گا

کانفرنس کے ساتھ ایک نمائش  بھی منعقد ہوگی جس میں خواتین کے لیے مخصوص ٹیکنالوجیز، پالیسی اقدامات اور مختلف مداخلتیں پیش کی جائیں گی۔ یہ پلیٹ فارم خواتین کی قیادت میں چلنے والے اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کو اپنی اختراعات اور مصنوعات پیش کرنے کا موقع بھی دے گا۔

جی سی ڈبلیو اے ایس - 2026 کا بنیادی مقصد عملی سفارشات تیار کرنا، عالمی بہترین تجربات کو یکجا کرنا اور مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ اس کے نتائج سے صنفی لحاظ سے حساس پالیسی سازی، تکنیکی جدت اور حقیقی معنوں میں جامع و شمولیتی زرعی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

********

ش ح- ظ الف- ن ع

UR-6649

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2258063) وزیٹر کاؤنٹر : 5