خلا ء کا محکمہ
اسرو خلائی مشنز میں طلباء کی شرکت بڑھانے کے لیے کوشاں ؛ رہنمائی اور لانچ کے مواقع کے ساتھ طلبا کی جانب سے تیار کردہ 11 سیٹلائٹس لانچ کیے گئے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
تقریباً 850 طلباء نے ان اسپیس سیٹیلائٹ اور راکٹ ڈیزائن مقابلوں میں حصہ لیا: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ
آئی ایس آر او نوجوان اختراع کاروں کو سیٹیلائٹس بنانے کی رہنمائی فراہم کر رہا ہے، یونیورسٹی کے طلباء کے سیٹیلائٹس کے لیے لانچ کے مواقع پیش کر رہا ہے: ڈاکٹر جتندر سنگھ
کوشینگر میں قومی ماڈل راکیٹری مقابلے کا انعقاد کیا گیا، اسرو کے طلباء سیٹلائٹ پروگرام نے نوجوان محققین کو حقیقی مشن کا تجربہ فراہم کیا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 7:38PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر میں عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھامیں مطلع کیا کہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) نے طلبہ اور نوجوان محققین کو سیٹلائٹ کی تیاری، پے لوڈ تجربات اور خلائی مشنز میں فعال طور پر شامل کرنے کے لیے متعدد منظم اقدامات شروع کیے ہیں۔
راجیہ سبھا میں محترمہ سمترا بالمیک کے ایک غیر ستارہ والے سوال کے جواب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی کو جمہوری بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ،تاکہ ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 کے انسٹی ٹیویٹ سمیت ملک بھر کے طلبہ ہندوستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خلائی نظام میں حصہ ڈال سکیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ایس آر او(اسرو) نے ایسے خصوصی پروگرام شروع کیے ہیں، جن کے ذریعے طلبہ محققین کو سیٹلائٹ ڈیزائن، پے لوڈ ڈیولپمنٹ اور مشن تجربات سمیت حقیقی خلائی ٹیکنالوجی منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یو آر راؤ سیٹلائٹ سینٹر کی قیادت میں چلنے والے طلبہ کے سیٹلائٹ پروگرام کے تحت تعلیمی اداروں اور طلبہ ٹیموں کو اسرو کے سائنسدانوں کی تکنیکی رہنمائی میں سیٹلائٹس کے ڈیزائن اور ترقی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان طلبہ کے تیار کردہ سیٹلائٹس کو اسرو مشنز کے ذریعے انضمام کی سہولت اور لانچ کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید بتایا کہ ملک بھر کے تسلیم شدہ اداروں کے انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور پروجیکٹ ٹریننگ اسکیمیں دستیاب ہیں۔ یہ پروگرام اسرو مراکز میں عملی تحقیق کا تجربہ فراہم کرتے ہیں، جس سے نوجوان محققین کو جدید خلائی ٹیکنالوجیز کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔
تعلیمی شمولیت کو مزید فروغ دینے کے لیے ملک کے مختلف خطوں میں اسپیس ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز (ایس ٹی آئی سیز) قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز جامعات اور اسرو کے سائنسدانوں کے درمیان باہمی تحقیقی تعاون کو فروغ دیتے ہیں اور طلبہ کو ماہرین کی رہنمائی میں مقامی خلائی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
وزیر موصوف نے خلائی شعبے میں طلبہ کی شمولیت کو فروغ دینے میں انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر(آئی این-ایس پی اے سی ای) کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ آئی این-ایس پی اے سی ای نے کیوب سائز سیٹلائٹس اور ماڈل راکیٹری کے ڈیزائن اور ترقی پر مرکوز طلبہ کے لیےمقابلے کا انعقاد کیا، جن میں تقریباً 850 طلبہ کی 97 ٹیموں نے حصہ لیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ آئی این- ایس پی اے سی ای نے اب تک طلباء کے ذریعہ تیار کردہ 17 سیٹلائٹس اور پے لوڈز کی منظوری دی ہے، جن میں سے 11 کامیابی سے لانچ کیے جا چکے ہیں۔ ان مشنز میں ملک بھر کے ادارے شامل رہے ہیں، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آر وی کالج آف انجینئرنگ، ایمیٹی یونیورسٹی مہاراشٹر، ایم آئی ٹی ورلڈ پیس یونیورسٹی، آسام ڈان باسکو یونیورسٹی، سی وی رمن گلوبل یونیورسٹی اور متعدد دیگر تعلیمی ادارے شامل ہیں، جو طلبہ کی قیادت میں خلائی مشنز میں بڑھتی ہوئی قومی شمولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر نے حکومت کےعزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسپیس ریسرچ کو مزید شمولیتی بنانے کے لئےاسرو کا (اسپونسرڈ ریسرچ) رسپونڈ پروگرام ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور علمی اداروں کو اسپیس سائنس، اسپیس ٹیکنالوجی اور ایپلیکیشنز میں تحقیق کرنے کے لئے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ (آر اے سی-ایس)ریجینل اکیڈمیک سینٹر فار اسپیس(آر اے سی-ایس) قائم کیے گئے ہیں، تاکہ اسرو پروگراموں کے لئے علاقائی رسائی کے پوائنٹس فراہم کیے جا سکیں اور چھوٹے شہروں اور کالجوں کے طلبا ءکو اسپیس سائنس اور ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جا سکے۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ اسپیس ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز کو جان بوجھ کر ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 علاقوں میں قائم کیا گیا ہے، جو مقامی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مددگار ہیں اور اعلیٰ اداروں کے علاوہ جدت کو فروغ دیتے ہیں۔
وزیر نے مزید بتایا کہ اے آئی سی ٹی ای نے اسپیس ٹیکنالوجی مائنر کورس کو منظور کیا ہے اور ہندوستان میں اسپیس ٹیکنالوجی تعلیم کو اپنانے کے لیے ایک قومی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو انڈین اسپیس پالیسی -2023کے مطابق ملک میں اسپیس تعلیم کو مضبوط کرے گی۔
طلبہ میں بڑھتے ہوئے جوش و خروش کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ ماڈل راکٹری اور کین سیٹ انڈیا اسٹوڈنٹ کمپٹیشن اکتوبر 2025 میں ان اسپیس، اسرو اوراسٹرونوٹیکل سوسائیٹی آف انڈیا(اے ایس آئی)کی مشترکہ تنظیم میں کشینگر، اتر پردیش میں منعقد کی گئی، جہاں 67 ٹیموں کے تقریباً 500 طلباء نے ماڈل راکٹس تیار کیے، ڈیزائن کیےاور لانچ کیا، جو کین سیٹ پے لوڈز کو تقریباً ایک کلومیٹر کی بلندی تک لے گئے۔
وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اسپیس سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق طلباءپر مرکوز تعلیمی پروگراموں کے لیے سالانہ تقریباً 10 کروڑروپے مختص کیے ہیں۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے مزید کہا کہ ان اسپیس اگلے سلسلے کے اسپیس انٹرپرینیورز کو کئی اقدامات کے ذریعے پروان چڑھا رہا ہے ،جن میں ڈومین ایکسپرٹس سے رہنمائی، پری-انکیوبیشن انٹرپرینیورشپ سپورٹ پروگرامز اور ٹیکنیکل سینٹرز میں کو-ورکنگ سہولیات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے وسیع تر وژن کا حصہ ہیں تاکہ ہندوستان میں ایک فعال اور شمولیتی اسپیس ایکوسسٹم بنایا جا سکے، جہاں طلباء، اسٹارٹ اپس، علمی ادارے اور صنعت سب ملک کے عالمی اسپیس سیکٹر میں بڑھتے ہوئے کردار میں حصہ ڈالیں۔
خلائی تحقیق کو زیادہ جامع بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اسرو کا ریسپانڈ (سپانسرڈ ریسرچ) پروگرام پورے ہندوستان کی جامعات اور تعلیمی اداروں کو خلائی سائنس، خلائی ٹیکنالوجی اور اس کے اپلیکیشنز کے شعبوں میں تحقیق کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ اسرو پروگراموں کے لیے علاقائی رسائی مراکز کے طور پر کام کرنے کے لیے ریجنل اسپیس ایجوکیشنل سینٹرز(آر اے سی-ایس) قائم کیے گئے ہیں، تاکہ چھوٹے شہروں اور کالجوں کے طلبہ کو خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعارف کرایا جا سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسپیس ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز بھی دانستہ طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں، جو مقامی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور بڑے اداروں سے باہر جدت کو فروغ دینے میں مددگار ہیں۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ اے آئی سی ٹی ای نے اسپیس ٹیکنالوجی میں مختصر کورسز کی منظوری دے دی ہے اور ملک میں خلائی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے انڈین اسپیس پالیسی 2023 کے مطابق ہندوستان میں اسپیس ٹیکنالوجی ایجوکیشن کو اپنانے کے لیے ایک قومی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
طلباء کے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ماڈل راکیٹری اور کین سیٹ انڈیا طلبا ء مسابقے اکتوبر 2025 میں اتر پردیش کے کشی نگر میں این –ایس پی اے سی ای، آئی ایس آر او اور اور آسٹروناؤٹیکل سوسائٹی آف انڈیا (اے ایس آئی) کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیے گئے۔ اس میں تقریباً 500 طلبہ کی 67 ٹیموں نے کیں سیٹ پے لوڈ لے جانے والے ماڈل راکٹوں کو ڈیزائن تیار کیا اور تقریباً 1 کلومیٹر کی بلندی تک لانچ کیا۔
وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق طلبہ مرکوز تعلیمی سرگرمیوں کے لیے سالانہ تقریباً 10 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ آئی این- ایس پی اے سی ای مختلف اقدامات کے ذریعے خلائی صنعت کاروں کی نئی نسل کو فروغ دے رہا ہے، جن میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کی رہنمائی، پری انکیوبیشن انٹرپرینیورشپ سپورٹ پروگرام اور آئی این- ایس پی اے سی ای ٹیکنیکل سینٹرز میں کو ورکنگ سہولیات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ہندوستان میں ایک متحرک اور جامع خلائی نظام کے قیام کے لیے حکومت کے وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جہاں طلباء، اسٹارٹ اپس، تعلیمی ادارے اور صنعت سب مل کر عالمی خلائی شعبے میں ملک کے بڑھتے ہوئے کردار میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ جمعرات کو راجیہ سبھا میں ایک پارلیمانی سوال کا جواب دیتے ہوئے۔


**********
ش ح ۔م ع ن۔ ت ا
U. No.6651
(ریلیز آئی ڈی: 2258034)
وزیٹر کاؤنٹر : 11