صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارتِ صحت کی طرف سے بہترین طریقۂ کار سے متعلق قومی سربراہی اجلاس میں بچوں میں ذیابیطس کے مرض پر جامع رہنما دستاویز جاری


یہ اقدام بھارت کو اُن چند منتخب ممالک کی صف میں شامل کرتا ہے جنہوں نے بچپن کی ذیابیطس کے علاج و نگہداشت کو عوامی صحت کے نظام میں شامل کیا ہے

رہنما دستاویز میں مرض کی تشخیص سے لے کر طویل مدتی نگرانی تک مربوط نگہداشت کا جامع نظام متعارف

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 MAY 2026 2:35PM by PIB Delhi

بچوں کی صحت سے متعلق خدمات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے حال ہی میں منعقدہ ’’عوامی صحت خدمات کی فراہمی میں بہترین طریقۂ کار‘‘ سے متعلق قومی سربراہی اجلاس میں "بچوں میں ذیابیطس" پر رہنما دستاویز جاری کی۔

یہ رہنما دستاویز پہلی مرتبہ بچوں میں ذیابیطس کی جانچ، تشخیص، علاج اور طویل مدتی نگہداشت کے لیے ایک منظم اور معیاری قومی خاکہ فراہم کرتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے بھارت اُن چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے بچپن کی ذیابیطس کی نگہداشت کو عوامی صحت کے نظام کا حصہ بنایا ہے۔

دستاویز کا مقصد پیدائش سے لے کر 18 برس تک کے تمام بچوں کی ہمہ گیر جانچ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے برادری اور اسکول کی سطح پر ابتدائی شناخت کے انتظامات کیے جائیں گے۔ مشتبہ مریضوں کا فوری طور پر خون میں شکر کی جانچ کی جائے گی، جس کے بعد تصدیقی تشخیص اور علاج کے لیے ضلعی سطح کی صحت سہولیات سے رجوع کیا جائے گا۔

اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت سرکاری صحت مراکز پر مکمل اور مفت علاجی پیکیج کی فراہمی ہے۔ اس میں جانچ، تشخیصی خدمات، تاحیات انسولین تھراپی، نگرانی کے آلات جیسے گلوکومیٹر اور ٹیسٹ اسٹرپس، نیز باقاعدہ معائنہ و نگہداشت شامل ہیں۔ اس طریقۂ کار کا مقصد مالی بوجھ کم کرنا اور ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے علاج کا بلا تعطل سلسلہ یقینی بنانا ہے۔

رہنما دستاویز میں مربوط نگہداشت کا ایک جامع نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو برادری کی سطح پر جانچ کو ضلعی اسپتالوں میں علاج اور میڈیکل کالجوں میں اعلیٰ نگہداشت سے جوڑتا ہے۔ اس اشتراک سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی بچہ علاج کے نظام سے باہر نہ رہ جائے اور تشخیص سے لے کر طویل مدتی نگرانی تک نگہداشت کا سلسلہ مسلسل جاری رہے۔

ابتدائی شناخت کو فروغ دینے کے لیے اس اقدام میں ’’چار ٹی‘‘ بیداری خاکہ متعارف کرایا گیا ہے، یعنی: ٹوائلٹ، پیاس، تھکن اور دُبلا پنتاکہ والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والے افراد قسم اوّل ذیابیطس کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچان سکیں۔

طبی رہنما اصولوں کے علاوہ، دستاویز میں خاندانوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کو بااختیار بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسولین لگانے، خون میں شکر کی نگرانی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور روزمرہ بیماری کے انتظام سے متعلق منظم تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس میں شواہد پر مبنی علاجی رہنما اصول، باقاعدہ نگرانی کے شیڈول اور پیچیدگیوں سے بچاؤ کے طریقۂ کار بھی شامل ہیں۔

توقع ہے کہ یہ اقدام عوامی صحت کے شعبے میں نمایاں فوائد فراہم کرے گا، جن میں بروقت تشخیص کے ذریعے اموات میں کمی، پیچیدگیوں کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کے معیارِ زندگی میں بہتری شامل ہے۔ طویل مدت میں یہ صحت کے اخراجات کم کرنے اور بچوں میں غیر متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام کی صلاحیت مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

اس رہنما دستاویز کا اجرا اس امر کا مظہر ہے کہ حکومت تمام بچوں کے لیے قابلِ رسائی، کم خرچ، مساوی اور معیاری صحت خدمات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، جس میں بروقت مداخلت، مسلسل نگہداشت اور بہتر صحت نتائج پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6583


(ریلیز آئی ڈی: 2257624) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी