PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

گریٹ نکوبار منصوبہ


تزویراتی اہمیت، پائیدار ترقی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 MAY 2026 9:29AM by PIB Delhi

اہم نکات

  • گریٹ نکوبار منصوبے کا مقصد گریٹ نکوبار کو ایک تزویراتی بحری اور معاشی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے لیے مشرق تا مغرب بحری تجارتی راستے سے اس کی قربت (تقریباً 40 بحری میل) سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور دفاعی و قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ملکی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں پر انحصار کم کیا جائے گا۔
  • اس منصوبے میں بڑے بنیادی ڈھانچے شامل ہیں، جن میں 14.2 ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹ (ایم ٹی ای یو) صلاحیت کا بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل، ایک گرین فیلڈ بین الاقوامی ہوائی اڈہ (4000 پیک آور مسافروں کی گنجائش)، 450 ایم وی اے گیس و شمسی توانائی کا بجلی گھراور ایک مجوزہ جدید ٹاؤن شپ شامل ہے۔
  • یہ ترقی ایک منظم ماحولیاتی فریم ورک کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) نوٹیفکیشن 2006 اور آئی سی آر زیڈ نوٹیفکیشن 2019 کے تحت منظوری، 42 تعمیلی شرائط، جزیرے کے 1.82 فیصد جنگلاتی رقبے کی منتقلی، اور 97.30 مربع کلومیٹر رقبے پر تلافی شجرکاری کا منصوبہ شامل ہے۔
  • قبائلی فلاح و بہبود کو اس منصوبے میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ شومپین اور نکوباری برادریوں کی کسی قسم کی بے دخلی تجویز نہیں کی گئی، جبکہ دوبارہ نوٹیفکیشن کے اقدامات کے ذریعے قبائلی محفوظ علاقے کے مجموعی رقبے میں اضافہ کیا جائے گا۔

 تعارف 

گریٹ نکوبار منصوبہ ایک تزویراتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد بحیرۂ انڈمان اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ بندرگاہ پر مبنی ترقی کو متوازن ماحولیاتی تحفظات اور مقامی قبائلی برادریوں کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تزویراتی، معاشی اور ماحولیاتی ترجیحات کو یکجا کرتے ہوئے یہ منصوبہ اس امر کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے کہ گریٹ نکوبار میں ترقی پائیدار، جامع اور قومی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔

اس منصوبے میں شامل ہیں:

  1. 14.2 ملین ٹی ای یو (ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹ) صلاحیت کا بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل (آئی سی ٹی ٹی)
  2. ایک گرین فیلڈ بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جس میں 4000 پیک آور مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ 450 ایم وی اے (میگا وولٹ ایمپیئر) صلاحیت کا گیس اور شمسی توانائی پر مبنی بجلی گھر
  3. 16,610 ہیکٹیئر پر مشتمل ایک نئی ٹاؤن شپ

یہ ترقی ایک حساس اور جامع نقطۂ نظر کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس میں مقامی قبائلی برادریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور جزیرے کے ماحولیاتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ منصوبے میں سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے اور ایسے متبادل کو ترجیح دی گئی ہے جو ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔

 گریٹ نکوبار منصوبے کے بنیادی بنیادی ڈھانچہ جاتی اجزاء 

1۔ بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل

بھارت کی بندرگاہوں میں بڑے بحری جہازوں کے لیے گہرے پانی کی برتھس کی کمی ہے۔ اسی وجہ سے مال برداری کا بڑا حصہ کولمبو اور سنگاپور کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کو خاطر خواہ مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ میانمار، چین اور سری لنکا جیسے ممالک پہلے ہی اس تجارتی سرگرمی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے گہرے پانی کی بندرگاہی سہولیات تعمیر کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں گالاتھیا کھاڑی میں بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ (آئی سی ٹی پی) کو جزائر کی ترقی کے پروگرام کے تحت گریٹ نکوبار جزیرے کی جامع ترقی کے حصے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ ہوائی اڈے، ٹاؤن شپ اور بجلی گھر کے ساتھ، گالاتھیا کھاڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ گریٹ نکوبار منصوبے کا ایک اہم بنیادی ڈھانچہ جاتی جزو ہے۔ یہ بندرگاہ تزویراتی لحاظ سے اس لیے اہم ہے کہ یہ مشرق تا مغرب بین الاقوامی بحری راستے کے قریب تقریباً 40 بحری میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں قدرتی طور پر 20 میٹر سے زیادہ گہرائی والا پانی موجود ہے۔ یہ محلِ وقوع اسے گیٹ وے اور ٹرانس شپمنٹ دونوں طرح کے کارگو کو متوجہ کرنے اور کولمبو، سنگاپور اور کلانگ جیسی غیر ملکی بندرگاہوں پر بھارت کے انحصار کو کم کرنے میں برتری فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کی قومی سلامتی، تزویراتی اور دفاعی موجودگی کو مضبوط بنانے، جزائر کی معاشی حیثیت کو مستحکم کرنے اور خطے کی ہمہ جہتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

2۔ گرین فیلڈ بین الاقوامی ہوائی اڈہ

جزیرے میں عالمی معیار کے ماحولیاتی وسائل موجود ہیں، جو بین الاقوامی اور بھارتی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتے ہیں۔ رابطے کو بہتر بنانے اور جزیرے کو سیاحت کے لیے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ضرورت ہے۔ یہ جزیرہ سینانگ سٹی، فوکٹ جزیرہ اور لنکاوی جزیرہ جیسے بین الاقوامی سیاحتی مقامات کے قریب واقع ہے۔ پورٹ بلیئر ہوائی اڈہ اس وقت سالانہ تقریباً 18 لاکھ مسافروں کو سنبھالتا ہے۔ نئے ہوائی اڈے سے توقع ہے کہ افتتاح کے وقت یہ کم از کم 10 لاکھ مسافروں کی گنجائش رکھے گا، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً ایک کروڑ مسافروں سالانہ تک پہنچ جائے گی۔

3۔ ٹاؤن شپ اور علاقائی ترقی

مجوزہ ٹاؤن شپ کا مقصد جزیرے کی بندرگاہ پر مبنی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رہائشی، تجارتی اور ادارہ جاتی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یہ عملے، خدمات فراہم کرنے والوں اور متعلقہ معاشی سرگرمیوں کے لیے ضروری شہری بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی، تاکہ مجموعی مربوط ترقیاتی فریم ورک کے مطابق ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

4۔ بجلی گھر

ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل، ہوائی اڈے اور متعلقہ شہری بنیادی ڈھانچے کے مؤثر آپریشن کے لیے قابلِ اعتماد بجلی کا نظام ناگزیر ہے۔ اس وقت انڈمان و نکوبار جزائر میں ڈیزل جنریٹنگ سیٹس توانائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ بجلی گھر کا بنیادی مقصد بلا تعطل معیاری اور قابلِ اعتماد برقی توانائی فراہم کرنا ہے۔ نظام کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بنیادی جزو ناکام ہو جائے تب بھی بجلی کی فراہمی جاری رہے۔ اضافی بجلی پیدا کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو بھی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ بلا تعطل توانائی کی فراہمی جزیرے کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافے کا ایک اہم عنصر ہے۔

 تزویراتی اور معاشی اہمیت 

گریٹ نکوبار منصوبے کو تین الگ الگ مراحل میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0018J70.jpg

  • پہلا مرحلہ (2025–35، 72.12 مربع کلومیٹر)
  • دوسرا مرحلہ (2036–41، 45.27 مربع کلومیٹر)
  • تیسرا مرحلہ (2042–47، 48.71 مربع کلومیٹر)

یہ منصوبہ مجموعی طور پر 166.10 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے، جس میں 35.35 مربع کلومیٹر محکمۂ مال کی زمین اور 130.75 مربع کلومیٹر جنگلاتی زمین شامل ہے۔ مرحلہ وار طریقۂ کار سے بنیادی ڈھانچے کی منظم ترقی ممکن ہوگی، جبکہ ہر مرحلے میں ماحولیاتی تحفظات اور قبائلی فلاحی اقدامات کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت اس ضرورت سے واضح ہوتی ہے کہ گریٹ نکوبار کو بحرِ ہند کے خطے میں ایک اہم مرکز کے طور پر قائم کیا جائے۔ یہ منصوبہ زمین کے مؤثر استعمال، مربوط ماحولیاتی نظم و نسق اور طویل مدتی علاقائی فوائد کو یقینی بناتا ہے، جبکہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) سے متعلق ضوابط اور تمام قانونی منظوریوں کی مکمل پابندی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔

ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) ایک ایسا ذریعہ ہے جو پائیدار ترقی کے لیے قدرتی وسائل کے مناسب استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ ماحولیاتی اثرات کے جائزے کے نوٹیفکیشن 2006 کے شیڈول کے مطابق مخصوص نوعیت کے منصوبوں کے لیے ای آئی اے لازمی ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں منصوبوں کی تجاویز کا جائزہ لیتی ہیں، ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ کرتی ہیں، اور منظوری یا نامنظوری کی سفارش پیش کرتی ہیں۔

گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبے کا ماحولیاتی اثراتی جائزہ

  • اس منصوبے کو ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) نوٹیفکیشن 2006 کے تحت تفصیلی جانچ، دائرۂ کار کے تعین، عوامی مشاورت اور ماہرانہ جائزے کے بعد پیشگی ماحولیاتی منظوری حاصل ہوئی۔
  • ماحولیاتی منظوری میں 42 مخصوص شرائط شامل ہیں، جن میں فضائی آلودگی، پانی، شور، فضلہ نظم و نسق، بحری ماحولیات، انسانی صحت اور آفات سے نمٹنے کے امور شامل ہیں، جبکہ ایک جامع ماحولیاتی نظم و نسق منصوبہ (ای ایم پی) بھی تیار کیا گیا ہے۔
  • زولوجیکل سروے آف انڈیا (ڈی ایس آئی)، سلیم علی مرکز برائے پرندہ شناسی و قدرتی تاریخ (ایس اے سی او این)، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) جیسے ماہر اداروں نے مطالعات انجام دیے، اور زولوجیکل سروے آف انڈیا نے واضح کیا کہ مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ یہ منصوبہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
  • آلودگی، حیاتیاتی تنوع اور شومپین و نکوباری برادریوں کی فلاح و بہبود کی نگرانی کے لیے تین آزاد مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو درج ذیل ہیں:
  1. آلودگی سے متعلق امور کی نگرانی کرنے والی کمیٹی
  2. حیاتیاتی تنوع سے متعلق امور کی نگرانی کرنے والی کمیٹی
  • iii. شومپین اور نکوباری برادریوں کی فلاح و بہبود اور متعلقہ مسائل کی نگرانی کرنے والی کمیٹی
  • تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ماحولیاتی منظوری (ای سی) اور ساحلی ضابطہ جاتی زون (سی آر زیڈ) کی شرائط پر مربوط عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے انڈمان و نکوبار انتظامیہ کے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی نگرانی، جائزے اور مختلف اداروں کے باہمی تعاون کے لیے مرکزی نظام کے طور پر کام کرے گی۔

 ماحولیاتی تحفظات اور تلافی شجرکاری کا منصوبہ 

منصوبے کو منظوری ملنے سے قبل یہ متعدد قانونی اور ضابطہ جاتی جانچ کے مراحل سے گزرا، جن میں ماحولیاتی نظم و نسق منصوبہ (ای ایم پی) کی تیاری بھی شامل تھی۔ یہ منصوبہ تعمیراتی اور عملیاتی دونوں مراحل کے دوران ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کی وضاحت کرتا ہے۔

ماحولیاتی نظم و نسق منصوبہ (ای ایم پی) ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد مجوزہ ترقیاتی منصوبے کے اطراف پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس عمل میں صنعت، حکومت، آلودگی کنٹرول بورڈ اور مقامی آبادی سب شریک ہوتے ہیں۔

اس منصوبے میں ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ تخفیفی اقدامات آلودگی کے منبع اور منصوبے کے مقام دونوں سطحوں پر کیے جاتے ہیں۔ عملیاتی مرحلے کے دوران ای ایم پی مسلسل پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو بھی فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

گریٹ نکوبار منصوبے کے تحت انڈمان و نکوبار جزائر کے مجموعی جنگلاتی رقبے کے 1.82 فیصد حصے کو منصوبے کے لیے مختص کیا جائے گا۔ اس علاقے میں درختوں کی تخمینی تعداد 18.65 لاکھ ہے، تاہم زیادہ سے زیادہ 7.11 لاکھ درخت 49.86 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبے میں مرحلہ وار کاٹے جانے کی توقع ہے۔ درختوں کی کٹائی منصوبے کی مرحلہ وار ترقی کے مطابق انجام دی جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ 65.99 مربع کلومیٹر رقبے کو سبز زون کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا، جہاں کسی قسم کی درختوں کی کٹائی نہیں ہوگی، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔ چونکہ ان جزائر میں پہلے ہی 75 فیصد سے زیادہ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے، اس لیے مقامی سطح پر تلافی شجرکاری ممکن نہیں۔ اس کے بجائے ہریانہ میں شجرکاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں پہلے مرحلے میں 48.65 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبے کے متبادل کے طور پر 97.30 مربع کلومیٹر زمین مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ مہم کے تحت انڈمان و نکوبار جزائر میں 24 لاکھ درخت لگائے جا چکے ہیں۔

 قبائلی فلاح و بہبود اور سماجی پہلو 

گریٹ نکوبار جزیرہ قدیم منگولائی نسل سے تعلق رکھنے والے قبائل کا مسکن ہے، جن میں شومپین (تقریباً 237 افراد) شامل ہیں، جو شکار اور جنگلی وسائل پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ نکوباری (تقریباً 1,094 افراد) ساحلی بستیوں میں آباد ہیں اور زیادہ تر اپنی بقا کے لیے ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں۔ گریٹ نکوبار منصوبہ اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ نکوباری اور شومپین قبائل کو بے دخل نہ ہونا پڑے۔ منصوبے کے علاقے میں صرف نیو چنگین اور راجیو نگر میں قبائلی آبادیاں موجود ہیں، اور انتظامیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ قبائلی برادریوں کی کسی قسم کی منتقلی تجویز نہیں کی گئی۔

گریٹ نکوبار منصوبہ شومپین پالیسی 2015 اور جراوا پالیسی 2004 کے مکمل مطابق ہے، جن کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں میں خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جیز) کی فلاح و بہبود، شناخت اور تحفظ کو ترجیح دینا اور ایک منظم مشاورتی عمل اختیار کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قبائلی مفادات کے تحفظ کے لیے وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ایک آزاد مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے، جو تعمیراتی اور عملیاتی دونوں مراحل کے دوران شومپین اور نکوباری برادریوں سے متعلق امور کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ وزارتِ قبائلی امور، ڈائریکٹوریٹ آف ٹرائبل ویلفیئر، انڈمان آدِم جن جاتی وکاس سمیتی (اے اے جے وی ایس) اور ماہرینِ قبائل، بشمول اینتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا، سے بھی مشاورت کی گئی ہے تاکہ ان برادریوں کی سلامتی، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

منصوبے کے نفاذ کا فریم ورک آئینِ ہند کے آرٹیکل 338A(9) کی دفعات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس میں درج فہرست قبائل اور خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں کے مفادات کے تحفظ پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انڈمان و نکوبار جزائر کی مرکزی زیرِ انتظام علاقائی حکومت نے اس ترقیاتی منصوبے کے نفاذ کے علاوہ ان قبائل سے متعلق کوئی نئی پالیسی نافذ نہیں کی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کے عمل میں قبائلی حقوق اور فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس وقت گریٹ نکوبار جزیرے میں 751.070 مربع کلومیٹر رقبہ سرکاری طور پر قبائلی محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 166.10 مربع کلومیٹر رقبے میں سے 84.10 مربع کلومیٹر حصہ قبائلی محفوظ علاقے سے متداخل ہے۔ تاہم اس میں سے 11.032 مربع کلومیٹر رقبہ 1972 سے محکمۂ مال کی زمین کے طور پر آباد اور استعمال میں ہے۔ اس طرح عملی طور پر باقی رہ جانے والا 73.07 مربع کلومیٹر رقبہ منصوبے کے مقاصد کے لیے قبائلی محفوظ علاقے کی حیثیت سے خارج کیا جا رہا ہے۔ اس کے بدلے میں 76.98 مربع کلومیٹر رقبے کو دوبارہ قبائلی محفوظ علاقہ قرار دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں قبائلی محفوظ علاقے میں مجموعی طور پر 3.912 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر پہلے مرحلے میں صرف 40.01 مربع کلومیٹر قبائلی علاقہ منصوبے میں شامل ہے، جبکہ 11.032 مربع کلومیٹر رقبہ 1972 سے پہلے ہی محکمۂ مال کے استعمال میں ہے۔

 خطرات کا جائزہ اور آفات سے نمٹنے کا انتظام 

یہ جزیرہ زلزلہ خیز اور سمندری طوفانوں سے متاثر ہونے والے خطے میں واقع ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع خطراتی جائزہ مطالعہ انجام دیا گیا ہے، جس میں قدرتی آفات (جیسے سونامی، زلزلے اور سمندری طوفان) کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات (صنعتی حادثات اور دیگر حادثات) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک کمزوری و آفات نظم و نسق منصوبہ تیار کیا گیا ہے، تاکہ مکمل تیاری اور بروقت ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، گیس اور شمسی توانائی پر مبنی مشترکہ بجلی گھر پر انحصار توانائی کی فراہمی میں تسلسل اور رکاوٹوں کے خلاف مضبوطی فراہم کرے گا، جبکہ کاربن اخراج میں بھی کمی لائے گا۔

 نتیجہ 

گریٹ نکوبار منصوبہ اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ جامع ترقی کے ذریعے معاشی نمو، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی شمولیت کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ گریٹ نکوبار کے تزویراتی محلِ وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں بھارت کی قومی سلامتی، بحری اور دفاعی موجودگی کو مضبوط بناتا ہے، جبکہ ساتھ ہی مضبوط ماحولیاتی تحفظات اور قبائلی فلاحی نظام کو بھی یقینی بناتا ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ، تلافی شجرکاری، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور سماجی شمولیت کے عزم کے ذریعے حکومت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی لازماً ماحولیات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔

بالآخر، یہ منصوبہ ماحولیاتی طور پر حساس خطوں میں مستقبل کے بڑے بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں کے لیے ایک نمونہ پیش کرتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت اور ماحولیات ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے بجائے قومی اور عالمی مفادات کے حصول کے لیے باہمی طور پر ایک دوسرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

حوالہ جات:

نیتی آیوگ

پریس انفارمیشن بیورو

وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی

دیگر:

Click here to see pdf

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-653


(ریلیز آئی ڈی: 2257209) وزیٹر کاؤنٹر : 14