لوک سبھا سکریٹریٹ
لوک سبھا اسپیکر کی طرف سے پائیدار تحفظ کے لیے اجتماعی کارروائی کی اپیل؛ عوامی شرکت اور مقامی معلوماتی نظام پر زور
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کی شراکت اور ماحول کے موافق طرز زندگی ناگزیر ہے: لوک سبھا اسپیکر
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مقامی برادریوں کا کردار انتہائی اہم ہے: لوک سبھا اسپیکر
ماحولیاتی نظم میں اتراکھنڈ کی بھرپور وراثت ہے: لوک سبھا اسپیکر
لوک سبھا اسپیکر نے نینی تال میں ون پنچایت، سہ درجاتی پنچایتی کےراج اداروں اور مقامی بلدیاتی اداروں کے نمائندوں سے خطاب کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 APR 2026 6:48PM by PIB Delhi
لوک سبھا اسپیکر نے آج نینی تال میں مختلف مقامی حکومتی اداروں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عام لوگ اور مقامی برادریاں قدرتی وسائل کے تحفظ کے کامون میں شامل نہیں ہوں گی، تب تک ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کی قدیم روایات اور مقامی علم فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے زندگی بسر کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے خاص طور پر اتراکھنڈ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست نے ہمیشہ ماحولیاتی تحفظ کے معاملے میں ملک کی قیادت کی ہے اور یہاں کے لوگ اپنی زمین اور جنگلات سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ماحول کے موافق تبدیلیاں لانی ہوں گی، تاکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک محفوظ کرہ ارض چھوڑا جا سکے۔
لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے پائیدار ترقی اور ماحولیاتی توازن کو یقینی بنانے کے واسطے آج حکومت، پنچایتی راج کے اداروں، شہری بلدیاتی اداروں، ون پنچایت کے نمائندوں اور عام شہریوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل اور فعال طرز عمل اپنانے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے اس بات زور دے کر کہا کہ مقامی برادریوں کو بااختیار بنانا اور روایتی علوم کا احترام کرنا طویل مدتی ماحولیاتی استحکام اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر رگھونندن سنگھ ٹولیا ایڈمنسٹریٹو اکیڈمی، نینی تال میں ون پنچایت کے نمائندوں، سہ درجاتی پنچایتی راج نظام کے منتخب اراکین اور شہری مقامی اداروں سے خطاب کرتے ہوئے جناب اوم برلا نے کہا کہ اتراکھنڈ کی ون پنچایتیں 'کمیونٹی بیسڈ فاریسٹ مینجمنٹ' (عوامی شراکت داری کے ذریعے جنگلات کا نظم) کا ایک کامیاب ماڈل بن کر ابھری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارے نہ صرف جنگلات کے تحفظ اور ان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ روزگار کی فراہمی اور 'آتم نربھر بھارت' کے وژن کو بھی تقویت دے رہے ہیں۔
جناب اوم برلا نے ون پنچایتوں کو "ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی مضبوط ترین کڑی" قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ نچلی سطح کے یہ ادارے تحفظ اور نظم و نسق (گورننس) میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ون پنچایتوں کے ساتھ تال میل کرنا جمہوریت کے سب سے مضبوط ستون کے ساتھ جڑنے کے مترادف ہے، اور ان مقامی اداروں کا تجربہ قومی سطح کے اداروں سے کسی طور کم نہیں ہے۔
جناب اوم برلا نے جل (پانی)، جنگل اور زمین کے درمیان گہرے رشتے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدرتی وسائل ماحولیاتی توازن اور انسانی بقا کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کے لیے نچلی سطح پر سرگرم شرکت کی ضرورت ہے۔
جناب اوم برلا نے اتراکھنڈ کے بھرپور ثقافتی اور ماحولیاتی وراثت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال ہے۔ انہوں نے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مقامی برادریوں کے گراں قدر تعاون کو تسلیم کیا اور اس بات کا ذکر کیا کہ پانی اور درختوں کے احترام جیسی روایات آج بھی پائیدار طرز زندگی کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
جناب اوم برلا نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے نوآبادیاتی دور (انگریزی دور حکومت) میں جنگلات کی استحصالی پالیسیوں کے خلاف مقامی برادریوں کی مزاحمت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1930 کی دہائی سے جنگلات کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نچلی سطح پر بہتر نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ان پالیسیوں کے نفاذ کی راہ میں حائل چیلنجوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جناب اوم برلا نے مقامی برادریوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کا مقصد صرف ان کی فعال شرکت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پنچایتی راج اداروں، شہری بلدیاتی اداروں اور ون پنچایت کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ کمیونٹی کی کوششوں کو متحرک کرنے، ماحول کے موافق روزگار کو فروغ دینے اور متوازن و پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
عالمی سطح پر یوگا اور آیوروید کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے جناب اوم برلا نے کہا کہ اتراکھنڈ ان روایتی علوم کا بڑا مرکز ہے۔ انہوں نے 'ون پنچایت' کے تعاون سے طبی پودوں (جڑی بوٹیوں) کے لیے جامع ایکشن پلان تیار کرنے کی اپیل کی، جس میں ان کی اہمیت میں اضافہ ، تحقیق وترقی، اور انہیں جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنا شامل ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں ایلوپیتھی میں وسیع تحقیق ہوئی ہے، وہیں طبی پودوں اور روایتی علم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مقامی برادریوں کے پاس قیمتی تجرباتی علم موجود ہے، خاص طور پر جنگلاتی آگ جیسے چیلنجوں سے نمٹنے میں ان کی زمینی مہارت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کی حقیقی طاقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں گورننس میں آخری شخص کی آواز بھی سنی اور سمجھی جاتی ہے۔
جناب اوم برلا نے ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی چیلنج کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ اس کے اثرات کو کم کرنے اور حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے عوامی شراکت داری ہی بنیادی کلید ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی 'ماحول دوست طرز زندگی' کی اپیل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ کا 'ون پنچایت ماڈل' پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے ریاست میں خواتین کی فعال شرکت کی بھی تعریف کی اور جنگلات کے تحفظ میں ان کے نمایاں کردار کی قدر افزائی کی۔
بات چیت کے دوران، ون پنچایتوں کے نمائندوں نے جنگلاتی آگ کے انسداد، اداروں کی مضبوطی، مالی امداد اور تکنیکی مدد جیسے مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب اوم برلا نے یقین دلایا کہ ان کی تجاویز اور خدشات کو قومی سطح پر اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر پارلیمنٹ کے رکن جناب اجے بھٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ش ح۔ م ش ع۔ ج
UNO-6470
3)
(ریلیز آئی ڈی: 2256745)
وزیٹر کاؤنٹر : 9