کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے بھارت کی موسمیاتی قیادت، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور عالمی اقتصادی روابط پر روشنی ڈالی

انہوں نے کہا کہ بھارت تجارتی اور اقتصادی شراکت داریوں کے لیے ایک درجن سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ سرگرم عمل ہےاور بھارت کی ترقی کی کہانی پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے

جناب پیوش گوئل نے مزید کہا کہ حکومتِ ہند موسمیاتی اقدامات کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت جی-20 ممالک میں موسمیاتی اہداف کے حوالے سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک نے اپنے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف مقررہ وقت سے 8 سال پہلے حاصل کر لیے ہیں۔ بھارت نے 2030 تک 500 گیگاواٹ صاف توانائی کے حصول کا ہدف مقرر کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 APR 2026 3:32PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں منعقدہ ‘‘موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ استحکام کو آگے بڑھانا’’ مکالمے میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے بھارت کی عالمی سطح پر موسمیاتی اقدامات میں قیادت، اپنے قومی سطح پر طے شدہ اہداف (آئی این ڈی سیز) کی مضبوط کارکردگی، قابلِ تجدید توانائی کی تیز رفتار توسیع اور مختلف ممالک و خطوں کے ساتھ جاری عالمی اقتصادی روابط پر روشنی ڈالی۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کے بہترین کارکردگی دکھانے والے ممالک میں شامل ہے اور اپنے آئی این ڈی سیز اہداف حاصل کرنے میں مسلسل جی-20 ممالک میں سرفہرست 1 سے 3 پوزیشنز پر رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف مقررہ وقت سے آٹھ سال پہلے حاصل کر لیے ہیں اور اب تک 260 گیگاواٹ کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں حکومت کے آغاز کے وقت شمسی توانائی کا ابتدائی منصوبہ 9سے10 سال میں 20 گیگاواٹ تھا، جسے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ہدایت پر بڑھا کر 100 گیگاواٹ کیا گیا اور یہ ہدف مقررہ وقت میں حاصل کر لیا گیا۔ اب بھارت نے 2030 تک 500 گیگاواٹ صاف توانائی کا پرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔

 

پیرس سی او پی 21 میں بھارت کی قیادت کو یاد کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کو ایک مشترکہ اتفاقِ رائے پر مبنی نتیجے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں ممالک کو اپنے اپنے اہداف خود طے کرنے کی لچک دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو پہلے ایک مخالف یا اعتراض کرنے والا ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے، اور اس مذاکراتی عمل میں وزیر اعظم نے اس وقت کے فرانسیسی صدر کے ساتھ مل کر کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

 

بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی اقتصادی شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک اور خطے بھارت کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے فعال مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 12 ممالک اور خطوں کے ساتھ روابط جاری ہیں، جن میں پیرو، چلی، کینیڈا، قطر، بحرین، سعودی عرب؛ جنوبی افریقہ اور اس کے ہمسایہ خطے؛ برازیل اور اس کے ہمسایہ خطے؛ روس اور یوریشیائی خطہ، اور اسرائیل شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آج دنیا بھارت کی ترقی کی کہانی کو تسلیم کر رہی ہے اور عالمی منڈیوں میں بھارتی کاروباری اداروں کے لیے مواقع کے دروازے کھولنے میں بھارت کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اچھی معیشت بہتر نتائج پیدا کرتی ہے اور بھارت کی ترقی کی کہانی اور پالیسی نقطہ نظر کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک سازگار اقتصادی ماحول، کاروبار میں آسانی، زندگی میں آسانی  اور اختراع ، اسٹارٹ اپس اور نئی ٹیکنالوجیز کی اہمیت پر زور دیا۔

 

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں موسمیاتی اقدامات ایک مجبوری کے طور پر دیکھے جانے کے بجائے ایک معاشی طور پر فائدہ مند اور قابلِ عمل تصور بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترقی یافتہ دنیا نے مالی معاونت اور ٹیکنالوجی سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کیے، اس کے باوجود بھارت نے قابلِ تعریف کارکردگی دکھائی ہے اور ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرکردہ کمپنیاں روزگار کے مواقع، معاشی سرگرمیوں اور مستقبل میں کیپیٹل گڈز، توانائی، ٹیکنالوجی اور خدمات کی برآمدات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

 

جناب پیوش گوئل نے پاور سیکٹر میں اہم ساختی اصلاحات کو خصوصاً ‘‘ون نیشن ون گرڈ’’ کے تصور کے تحت ایک متحدہ قومی گرڈ کے قیام کواجاگر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب شمالی بھارت کے بڑے حصوں میں گرڈ فیلور ہوا تھا اور علاقائی گرڈز الگ الگ کام کر رہے تھے، تو جنوبی بھارت میں بجلی کی قیمتیں بلند سطح (چوٹی کے اوقات میں 12 روپے فی یونٹ تک) تک پہنچ جاتی تھیں جبکہ دیگر علاقوں میں بجلی کا مکمل استعمال نہیں ہو پاتا تھا۔ گرڈ کے انضمام نے بجلی کی مؤثر تقسیم کو ممکن بنایا، جس سے لاگت کم ہو کر تقریباً 2.5 سے 3 روپے فی یونٹ تک آ گئی اور پیداوار کی مکمل صلاحیت کا بہتر استعمال ممکن ہوا۔انہوں نے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی توسیع، تعطل کا شکار پاور منصوبوں کی بحالی، اور بیس لوڈ کی مضبوط صلاحیت کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وقفے وقفے سے آنے والی قابلِ تجدید توانائی کو مؤثر طور پر سہارا دیا جا سکے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ تفصیلی منصوبہ بندی، جس میں قابلِ تجدید توانائی کے مختلف منظرناموں پر تقریباً 29 مطالعات شامل ہیں، نے انفراسٹرکچر اور صلاحیت سے متعلق فیصلوں میں رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے اپنی ذاتی سیکھنے کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انجینئرنگ کا پس منظر نہ ہونے کے باوجود ماہرین اور اداروں سے رہنمائی حاصل کی گئی، جن میں صاف توانائی سے متعلق پروگراموں سے جڑنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

 

وزیر موصوف نے بھارت کے تیزی سے توانائی بچانے والے ایل ای ڈی لائٹنگ نظام کی طرف منتقلی کو بھی نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی ختم کرنے اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی اپروچ اپنانے کے ذریعے بھارت نے صرف تین سال میں پورے ملک کو روایتی روشنی کے نظام سے ایل ای ڈی پر منتقل کر دیا، جو دنیا میں سب سے تیز رفتار تبدیلی ہے، اور اس سے توانائی اور کاربن دونوں میں نمایاں بچت ہوئی۔

 

انہوں نے توانائی کی بچت اور رویے میں تبدیلی کی اہمیت پر بھی زور دیا، روزمرہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی بچت، غیر ضروری لائٹس اور آلات بند کرنا، مشینری کی کارکردگی برقرار رکھنا، اور مختلف شعبوں میں توانائی کی کھپت کم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح سے لے کر صنعتی سطح تک اجتماعی کوششیں موسمیاتی اہداف کے حصول اور نئی اقتصادی مواقع کے دروازے کھولنے کے لیے ناگزیر ہیں بشمول ان کے جن کا اندازہ ابھرتے ہوئے شعبوں میں لگایا گیا ہے ۔

 

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب پیوش گوئل نے امانت داری کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت اس کرۂ ارض کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک امانت کے طور پر سنبھالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی انصاف، مساوات اور بین النسلی ذمہ داری کے لیے حکومتوں، کاروباری اداروں اور شہریوں کی مشترکہ بیداری اور کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومتِ ہند کی جانب سے ان تمام کوششوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا جو دنیا کو زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے عزم کریں۔

 

********

 ( ش ح ۔ا ک۔ت ا)

U. No. 6455

 


(ریلیز آئی ڈی: 2256666) وزیٹر کاؤنٹر : 11