صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت پر گھریلو سماجی استعمال پر این ایس او کا 80 واں راؤنڈ سروے  نے ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں انقلابی پیش رفت کو اجاگر کیا


این ایس او سروے نے پورے ہندوستان میں صحت کی دیکھ بھال تک بہتر رسائی کو اجاگر کیا

صحت کی دیکھ بھال پر اوسط خرچ کم رہا ، مالی بوجھ میں کمی کااشارہ

عوامی صحت کی سہولیات میں صفر اوسط آؤٹ پیشنٹ اخراجات مفت ضروری صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک وسیع رسائی کی عکاسی کرتے ہیں

عوامی صحت کی سہولیات میں اسپتال میں داخل ہونے والے تمام معاملات میں سے نصف سے زیادہ میں جیب سے باہر کا خرچ (او او پی ای) 1100روپے ہے ۔جو سستی صحت کی دیکھ بھال کے لیے حکومت کے عزم کی زمینی سطح پر حصولیابی کی عکاسی کرتا ہے

صحت کے حصول کے رویّے میں بہتری آئی ہے کیونکہ 2025 میں بیماری کی اطلاع دینے والی آبادی (پی پی آر اے) کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے جو 2017-18 کے مقابلے میں ہے: دیہی علاقوں میں یہ شرح 6.8 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد ہو گئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ 9.1 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد ہو گئی ہے

دیہی علاقوں میں عوامی صحت کی سہولیات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جہاں بیرونی مریضوں (آوٹ پیشنٹ کیئر)کی شرح 2014 میں 28 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 35 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ بنیادی صحت کی خدمات کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث ہوا ہے۔

سرکاری صحت انشورنس/مالی معاونت کی اسکیموں کی کوریج میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو دیہی علاقوں میں 12.9 فیصد سے بڑھ کر 45.5 فیصد اور شہری علاقوں میں 8.9 فیصد سے بڑھ کر 31.8 فیصد ہو گئی ہے

آمدنی کے نچلے دو طبقوں میں اپنی جیب سے کم خرچ کی کم سطح اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کے اقدامات سستی، قابلِ رسائی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں

ہسپتالوں میں زچگی کی شرح دیہی علاقوں میں 95.6 فیصد اور شہری علاقوں میں 97.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو زچگی سے متعلق صحت کی خدمات میں بہتری اور مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 APR 2026 1:12PM by PIB Delhi

قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے 80ویں راؤنڈ کے گھریلو اخراجات (صحت) سروے کے نتائج ملک بھر میں صحت کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، جو حکومت کے ہدف بند اقدامات ، عوامی صحت خدمات کے دائرہ کار میں توسیع، اور انشورنس کوریج میں اضافے سے ممکن ہوئی ہے۔

یہ سروے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں مجموعی طور پر 1,39,732 گھرانوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں 76,296 دیہی اور 63,436 شہری گھرانے شامل تھے۔ اس طرح یہ سروے صحت کی سہولیات تک رسائی، ان کی استطاعت  اور استعمال کے رجحانات سے متعلق مضبوط اور زمینی سطح کی معلومات فراہم کرتا ہے۔

این ایس اوکے 80ویں راؤنڈ کے نتائج حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں مسلسل بڑھتی ہوئی عوامی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہیں۔ بہتر بجٹ مختص کرنے کے باعث صحت کے بنیادی، ثانوی اور اعلیٰ درجے کے نظام میں نمایاں توسیع ممکن ہوئی ہے، انسانی وسائل کو مضبوط بنایا گیا ہے، اور احتیاطی، فروغِ صحت اور علاج معالجے پر مبنی اہم اقدامات کو وسعت دی گئی ہے۔ صحت کے شعبے کو سرکاری اخراجات میں مسلسل ترجیح دینے سے ملک بھر میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے، خدمات کی فراہمی میں بہتری آئی ہے اور گھرانوں پر صحت کے مالی بوجھ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ہسپتال میں داخلے کے ایک کیس پر جیب سے ہونے والا درمیانی طبی خرچ(او او پی ای) 2025 میں 11,285 روپے ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں نصف سے زیادہ ہسپتال داخلوں میں نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ صرف چند زیادہ لاگت والے کیسز اوسط خرچ کو بڑھاتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ اخراجات عام نہیں بلکہ مخصوص اور پیچیدہ/خصوصی علاج والے کیسز تک محدود ہیں۔ مزید یہ کہ سرکاری صحت سہولیات میں ہونے والے نصف سے زیادہ ہسپتال داخلوں میں او او پی ای صرف 1,100 روپے تک محدود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غیر ہسپتال داخلہ علاج کے لیے سرکاری صحت مراکز میں درمیانی او او پی ای صفر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑی تعداد میں شہری بنیادی صحت خدمات مکمل طور پر مفت حاصل کر رہے ہیں۔حکومت کے فری ڈرگز سروس انیشیٹو(ایف ڈی ایس آئی) اور فری ڈائیگنوسٹکس انیشیٹو (ایف ڈی آئی)  جو 2015 میں شروع کیے گئے تھے، نے ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی مفت ادویات اور تشخیصی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔ بنیادی صحت سہولیات تک رسائی میں اس بڑے تبدیلی کے ساتھ ملک بھر میں موجود 1.84 لاکھ آیوشمان آروگیا مندرز (اے اے ایم ایس) بھی شامل ہیں، جو احتیاطی ، فروغِ صحت  اور علاجی  خدمات کو کمیونٹی کے قریب لا کر جامع بنیادی صحت کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ یہ مراکز ڈیجیٹل صحت اختراعات سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ رسائی بہتر ہو سکے۔

تشخیصی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت نمونوں کی ترسیل کے نظام نے مختلف سطحوں پر تشخیصی سہولیات کی دستیابی اور رسائی میں بہتری پیدا کی ہے۔ مزید برآں، افورڈیبل میڈیسنز اینڈ ریلی ایبل امپلانٹس فار ٹریٹمنٹ(امرت) اقدام کے تحت 29 ریاستوں/مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں 220 سے زائد فارمیسیوں کے ذریعے 6,500 سے زیادہ ادویات مارکیٹ ریٹ پر 50 فیصد تک رعایت پر فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے علاج کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

یہ تمام پیش رفتیں آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(پی ایم-جے اے وائی) اور دیگر ہدف بند حکومتی اقدامات سے مزید مضبوط ہوئی ہیں، جنہوں نے صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنایا، مالی رکاوٹوں کو کم کیا، اور عوامی صحت کے نظام پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

 

1.png

 

حوصلہ افزا طور پر، صحت کی سہولیات کی یہ بہتر استطاعت صحت کی خدمات کی طلب میں نمایاں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہی ہے۔ بیماری کی اطلاع دینے والی آبادی (پی پی آر اے) کی شرح 75ویں اور 80ویں راؤنڈ کے درمیان تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔دیہی علاقوں میں 6.8 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد اور شہری علاقوں میں 9.1 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد۔ یہ اضافہ صحت سے متعلق بہتر آگاہی اور صحت کے حصول کے لیے فعال رویّے میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

سروے ایک اہم وبائیاتی تبدیلی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جس کے تحت متعدی امراض میں کمی جبکہ غیر متعدی امراض جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ تبدیلی معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کی مسلسل کوششوں، بین القطاعی اشتراک اور کمیونٹی سطح کے پلیٹ فارمز جیسے گاؤں کی صحت، صفائی اور غذائیت کمیٹیوں(وی ایچ ایس این سیز)  اور بنیادی  اور کمینٹی سطح پر بڑے پیمانے پر اسکریننگ پروگراموں کا نتیجہ ہے۔

بڑھتی ہوئی طلب کے جواب میں عوامی صحت سہولیات کا استعمال بھی مضبوط ہوا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں بیرونی مریضوں کے لیے، جہاں استعمال کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ بہتری جامع بنیادی صحت خدمات کی توسیع کا نتیجہ ہے، جس میں احتیاطی، فروغِ صحت اور ابتدائی تشخیصی خدمات پر زور دیا گیا ہے، اور جس کی حمایت مفت ادویات اور تشخیصی سہولیات کی دستیابی سے کی گئی ہے۔

 

2.png

مالی تحفظ  میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو حکومت کی مالی معاونت والی صحت انشورنس کوریج کے تیزی سے پھیلاؤ کی بدولت ممکن ہوا ہے، جس میں آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(پی ایم-جے اے وائی) اور مختلف ریاستی اسکیمیں شامل ہیں۔ ملک میں ان سرکاری صحت مالی/انشورنس اسکیموں کے تحت کوریج دیہی علاقوں میں 12.9 فیصد سے بڑھ کر 45.5 فیصد اور شہری علاقوں میں 8.9 فیصد سے بڑھ کر 31.8 فیصد ہو گئی ہے، جو تین گنا سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہے جو کمزور طبقات کو صحت کے تباہ کن مالی اخراجات  سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کو آگے بڑھاتا ہے۔

مزید یہ کہ گھرانوں کی سطح پر حاصل شدہ تفصیلی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آمدنی کے نچلے دو طبقات میں اپنی جیب سے ہونے والے صحت کے اخراجات میں کمی کا رجحان پایا جاتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقات حکومت کے اقدامات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے عالمی، مساوی اور سرکاری صحت خدمات کے نظام اور آیوشمان بھارت پی ایم-جے اے وائی جیسے مالی معاونت/انشورنس پروگراموں کی زمینی سطح کی مؤثر عملداری کی عکاسی کرتے ہیں۔

سروے زچہ و بچہ صحت میں مسلسل بہتری کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں ادارہ جاتی کی شرح دیہی علاقوں میں 2017-18 کے 90.5 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 95.6 فیصد اور شہری علاقوں میں 96.1 فیصد سے بڑھ کر 97.8 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے محفوظ زچگی کو فروغ دینے اور معیاری زچگی صحت خدمات تک رسائی کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے، جن میں کوالٹی ایشورنس، جننی سرکشا یوجنا (JSY)، جننی شِشو سرکشا کاریکرم (JSSK) اور پردھان منتری سُرکشِت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) شامل ہیں۔

سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو تہائی (66.8 فیصد) دیہی زچگیاں سرکاری صحت مراکز میں ہو رہی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح تقریباً 47 فیصد (تقریباً نصف) ہے۔

3.png

 

این ایس او سروے سے پچھلے تین دوروں میں صحت عامہ کی سہولیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بھی پتہ چلتا ہے ۔  اس سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں 2014 میں تقریبا 28فیصد دیہی آبادی بیرونی مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے عوامی سہولیات کی طرف بڑھ گئی تھی ،وہی 2025 میں 35فیصد تک بڑھ گئی ہے ۔

این ایس او سروے کے نتائج سب کے لیے سستی ، قابل رسائی اور مساوی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی تصدیق کرتے ہیں ۔

 

*****

 ( ش ح ۔ا ک۔ت ا)

U. No. 6444


(ریلیز آئی ڈی: 2256603) وزیٹر کاؤنٹر : 14