نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ نے شمولیتی اور پیداواری صلاحیت پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے  ڈی پی آئی @2047  کا روڈمیپ جاری کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 APR 2026 11:37AM by PIB Delhi

نئی دہلی، 28 اپریل 2026 | ٹیکنالوجی کے میدان میں مسابقت کے اصول تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اب برتری صرف اختراج  تک محدود نہیں  ہے، بلکہ اس کا دارومدار اخراعات کو مختلف شعبوں، اداروں اور نظاموں سے جوڑنے کی صلاحیت پر ہے اور پھر اس بات پر کہ اسے کتنی تیزی سے بڑے پیمانے پر عام کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے منظرنامے میں ڈیجیٹل بنیادیں  غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہیں، کیونکہ یہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے خیالات، اطلاقات اور خدمات تجرباتی مرحلے سے نکل کر قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اسی پس منظر میں نیتی آیوگ نے 27 اپریل 2026 کو ’’وکست بھارت‘‘ کے لیے ڈی پی آئی @2047 کا روڈمیپ جاری  کیا۔ یہ ایک اسٹریٹجک خاکہ ہے جو ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے سفر کے اگلے مرحلے کا خاکہ پیش کرتا ہے، جو شمولیتی، غیر خطی  اور پیداواری صلاحیت پر مبنی ترقی کو فروغ  دینے کا محرک ہوگا۔

اس روڈمیپ کی رونمائی نیتی آیوگ  کےنائب چیئرمین سمن بیری، اور حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر اجئے کمار سودنے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر ندھی چھبّر(سی ای او، نیتی آیوگ)، وی اننتھا ناگیشورن (چیف اکنامک ایڈوائزر)،دیب جانی گھوش، شنکر مرووادا(شریک بانی و سی ای او، ایک اسٹیپ فاؤنڈیشن) سمیت دیگر معزز مہمان اور شخصیات بھی موجود تھیں۔

تقریب میں صنعتوں کے سربراہان، اسٹارٹ اپس اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی، جو ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب کے اگلے مرحلے کے لیے مضبوط اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ روڈمیپ ایک اسٹیپ فاؤنڈیشن اور ڈیلوئٹے کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جو ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل راستہ متعین کرتا ہے: ڈی پی آئی  2.0 ( (2025–2035 جو بڑے پیمانے پر روزگار پر مبنی ترقی کو فروغ دے گا، اور اس کے بعد ڈی پی آئی 3.0  (2035–2047) جو وسیع پیمانے پر خوشحالی کے حصول کو ممکن بنائے گا۔ فی الحال فوری توجہ ڈی پی آئی  2.0 پر مرکوز ہے۔

ڈی پی آئی  2.0 کے تحت، اس روڈمیپ میں آٹھ شعبہ جاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ ایم ایس ایم ای، زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں موجود ساختیاتی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے، جبکہ قرض فراہمی، غیر مرکزی توانائی اور فوائد کی مؤثر ترسیل جیسے عوامل کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ ارادوں کو عملی نتائج میں بدلنے کے لیے چار اہم عملی ترجیحات بھی پیش کی گئی ہیں: اضلاع کی سطح پر طلب کو یکجا کرنا، ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے فائدہ اٹھانا، اور بہتر ڈیٹا کے استعمال، ڈیجیٹل لین دین، مضبوط انسانی صلاحیت اور اے آئی  کی یکساں  رسائی کے ذریعے بین شعبہ جاتی مواقع کو فعال بنانا۔

بنیادی طور پر،ڈی پی آئی 2.0 کا مقصد ہندوستان کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو شناخت، ادائیگیوں اور فلاحی خدمات سے آگے بڑھا کر روزگار، پیداواری صلاحیت اور منڈی تک رسائی کے کلیدی شعبوں تک پھیلانا ہے۔ اس سے اس بڑے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے کہ آئندہ برسوں میں ترقی صرف نئی ٹیکنالوجیز ایجاد کرنے سے نہیں، بلکہ ایسے مربوط نظام تشکیل دینے سے حاصل ہوگی جو اختراعات کو آپس میں جوڑیں، اسے تیزی سے پھیلائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

اوپن ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا کے قابلِ اعتماد بہاؤ اور ماحولیاتی نظام پر مبنی جدّت کو مربوط کر کے یہ روڈمیپ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جن میں مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کو شہریوں اور چھوٹے کاروباروں تک بڑے پیمانے پر مؤثر انداز میں پھیلایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ہندوستان کے ڈیجیٹل سفر میں اہم تبدیلی کی علامت ہے—جہاں پہلے توجہ صرف ڈیجیٹل شمولیت  پر تھی، اب اس کادائرہ وسیع کرکے صلاحیت، پیداواری کارکردگی اور وسیع پیمانے پر مواقع کی فراہمی تک لے جایا جا رہا ہے۔

اب اصل ترجیح عملدرآمد ہے۔ ضلعی سطح پر اپنائے جانے والے اقدامات، مقامی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور اعتماد، باہمی تال میل  اور حفاظتی اصولوں پر مبنی ڈی پی آئی 2.0 ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کاعملی راستہ فراہم کرتا ہے، جو پورے ہندوستان میں ہمہ جہت ترقی کو فروغ دے سکتا ہے اور ملک کو ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے ہدف کی جانب غیر خطی اور پیداواری صلاحیت پر مبنی ترقی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

اس موقع پر سمن بیری نے کہا کہ اب توجہ صرف جی ڈی پی  پر نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت پر مرکوز ہو گئی ہے۔ معیاری روزگار، مضبوط آمدنی اور بہتر معیارِ زندگی کا انحصار بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی پی آئی 1.0 نے یہ ثابت کیا ہے کہ نیٹ ورکس کا مؤثر استعمال ہماری پیش رفت کا راز ہے، اور یہ نیا روڈمیپ اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ترقی کا اگلا مرحلہ اس بات سے طے ہوگا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر(ڈی پی آئی) کس طرح بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں، اور اسے ملک کی ترقی کے مرکز میں رکھتے ہوئے ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اجے کمار سود نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی میں قیادت کا تعین اب اس صلاحیت سے ہوگا کہ ہم سائنس اور اختراعات کو کس حد تک قابلِ توسیع اور قابلِ اعتماد عوامی نتائج میں ڈھال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) نے بڑے پیمانے پر کھلے اور باہمی ہم آہنگ نظاموں کی طاقت کو ثابت کیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو مضبوط سائنسی اصولوں اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ یہ روڈمیپ اسی سمت کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ذمہ دارانہ استعمال اور عملی اثرات پر زور دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کے پاس سائنسی گہرائی اورایسی  ڈیجیٹل بنیادیں موجود ہیں کہ وہ دنیا کے لیے ایک مثال قائم کر سکے۔

محترمہ ندھی چھبّر نے واضح کیا کہ نیتی آیوگ کے ایف ٹی ایچ روڈمیپ کا اہم حصہ ریاستوں کو ان کی ترقیاتی حکمتِ عملیوں میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انہیں ایسے عملی راستے فراہم کیے جائیں جنہیں وہ اپنی ضروریات کے مطابق اپنا کر نافذ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے: جب ریاستیں تیزی سے ترقی کرتی ہیں تو ہندوستان اس سے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا ہے، اور ڈی پی آئی اس عمل میں ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

محترمہ دیب جانی گھوش نے کہا کہ یہ روڈمیپ واضح کرتا ہے کہ ڈی پی آئی2.0 کس طرح ہندوستان کو محض ڈیجیٹل شمولیت سے آگے لے جا کر پیداواری صلاحیت اور روزگار پر مبنی ترقی کی طرف منتقل کر سکتا ہے، جو ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے سفر کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اےآئی) کی دوڑ اب صرف جدید ماڈل، چِپس اور سرمایہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی ملک اپنی ڈیجیٹل بنیادوں کو پوری معیشت میں کس طرح مؤثر انداز میں پھیلاتا ہے۔ ہندوستان اس اگلے مرحلے میں مضبوط ساختی برتری، یعنی اس کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی پی آئی،  اے آئی اور کاروباری سرگرمیوں کو یکجا کر کے ہندوستان  ایک ایسا جامع، مقامی زبانوں پر مبنی اور بڑے پیمانے پر قابلِ اطلاق  اے آئی ماڈل تیار کر سکتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے، روزگار کو مضبوط کرے اور اہم شعبوں میں پیداواری صلاحیت کو فروغ دے۔

مکمل روڈمیپ تک رسائی کالنک: https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-04/DPI-2047-for-Viksit-Bharat-A-Strategic-Roadmap-to-Enable-Non-linear-Inclusive-Socio-economic-Growth.pdf

نیتی فرنٹیئر ٹیک ہب  کے بارے میں:

نیتی آیوگ کے تحت قائم نیتی فرنٹیئر ٹیک ہب ایک ’’ایکشن ٹینک‘‘ کے طور پر کام کرتا ہے، جس کا مقصد ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کے تحت ابھرتی ہوئی اہم ٹیکنالوجی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ لگانا اور ہندوستان کو ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس کا ہدف تیز رفتار معاشی ترقی، شمولیتی سماجی نتائج اور اسٹریٹجک مضبوطی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ہندوستان  جدید ٹیکنالوجی کی قیادت کرنے والا ملک بن سکے۔

یہ ہب حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے 100 سے زائد ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور 20 سے زیادہ شعبوں میں آئندہ 10 سالہ روڈمیپ تیار کر رہا ہے۔ اس کا مقصد جدید ترین ٹیکنالوجیز  کو بروئے کار لا کر معاشی ترقی کو فروغ دینا، سماجی بہتری کو یقینی بنانا اور ملک کی اسٹریٹجک صلاحیت کو مستحکم کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م ش ع ۔ع ن)

U. No. 6391


(ریلیز آئی ڈی: 2256175) وزیٹر کاؤنٹر : 16