نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
امور نوجوانان اور کھیل کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے بھارت کے کھیلوں کے مستقبل کے لیے ایک متحد اور کھلاڑی مرکوز وژن ترتیب دینے کے مقصد سے ’سری نگر کھیل سنکلپ‘ کا آغاز کیا
سری نگر کھیل سنکلپ ایک متحد عزم کی توثیق کرتا ہے جو کھلاڑیوں پر مرکوز اور باہمی تعاون پر مبنی کھیلوں کے نظام کے قیام کے لیے ہے
سری نگر میں ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے وزرائے امورِ نوجوانان و کھیل کے چنتن شیور کے دوسرے دن میں کھیلوں کی حکمرانی میں اصلاحات، مینوفیکچرنگ کے نظام اور نوجوانوں کی شمولیت پر توجہ مرکوز رہی
سری نگر کھیل سنکلپ ریاستوں، مرکز زیر انتظام علاقوں اور مرکزی حکومت کے مشترکہ عزم کی علامت ہے تاکہ بھارت کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے
چنتن شیور کے اختتامی اجلاسوں میں کھیلوں کی حکمرانی، مینوفیکچرنگ اور نوجوانوں کی شرکت مرکزی موضوعات رہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 APR 2026 4:59PM by PIB Delhi
سری نگر، 26 اپریل 2026: سری نگر میں منعقدہ تین روزہ چنتن شیور کے آخری دن، ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے ریاستی وزرائے کھیل اور نمایاں اسپورٹس شخصیات کے ہمراہ ’س ری نگر کھیل سنکلپ‘ دستاویز کا اجرا کیا۔
اس دستاویز میں باہمی وفاقیت کے اصول کے تحت کھیلوں کی ثقافت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ قومی وژن پیش کیا گیا ہے، جس میں کھلاڑیوں پر مرکوز ترقی، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ٹیلنٹ کی شناخت، علاقائی اسپورٹس کلسٹروں کی ترقی، اور اتحاد، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، صحت، سیاحت اور معاشی ترقی کے لیے کھیلوں کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ یہ دستاویز بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے لیے بھارت کی خواہش کا بھی اعادہ کرتی ہے۔

سری نگر کھیل سنکلپ مرکز، ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے اس متحد عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیلوں کو قومی تعمیر کے مرکز میں رکھا جائے اور اس کے اس کردار کو تسلیم کیا جائے جو سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے، برادریوں کو مضبوط بنانے اور ایک زیادہ صحت مند اور بااختیار نسل کی تشکیل میں اہم ہے۔ یہ ایک باہمی تعاون اور کھلاڑی مرکوز نقطۂ نظر پر زور دیتا ہے، جہاں حکومتیں اور کھیلوں سے وابستہ ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی کوششوں اور وسائل کو یکجا کریں تاکہ ملک بھر کے کھلاڑیوں کے لیے ایک مربوط اور معاون نظام تشکیل دیا جا سکے۔

چنتن شیور کے آخری دن کا آغاز فٹ انڈیا کے ”سنڈیز آن سائیکل“ سائکلتھون سے ہوا، جس کی قیادت محترم مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ اور وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے نے کی، جس کے ذریعے فٹنس، نظم و ضبط اور عوامی شمولیت کے پیغام کو تقویت دی گئی۔

اس کے بعد اسپورٹس گورننس، کھیلوں کے سامان کی مینوفیکچرنگ، اور ایم وائی بھارت کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت پر مرکوز اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ادارہ جاتی ڈھانچوں کو مضبوط بنانے، شفافیت اور مختلف شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کھیلوں کی انتظامیہ کو پیشہ ورانہ بنانے پر زور دیا گیا۔ غور و خوض میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ کلسٹر پر مبنی ترقی، جدت طرازی اور ملکی صنعت کی معاونت کے ذریعے بھارت کو کھیلوں کے سامان کی تیاری کا عالمی مرکز بنایا جائے، جبکہ نوجوانوں کی شرکت اور قیادت کے لیے منظم پلیٹ فارموں کی تشکیل کی اہمیت بھی واضح کی گئی۔
اختتامی دن کی بات چیت میں مرکز، ریاستوں اور تمام شراکت داروں پر مشتمل ایک متحد اور مربوط حکمت عملی کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا، جبکہ چنتن شیور کو مکالمے، ہم آہنگی اور اجتماعی اقدامات کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا گیا، جس کا مقصد بھارت میں ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نوجوان اور کھیلوں کا نظام تشکیل دینا ہے۔
**********
ش ح۔ ف ش ع
U: 6318
(ریلیز آئی ڈی: 2255753)
وزیٹر کاؤنٹر : 7