خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پورے بھارت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں خلائی تجربہ گاہیں قائم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا، پہلے مرحلے میں ایسی سات تجربہ گاہیں قائم کی جائیں گی


ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں نجی شعبے کی خلائی سرمایہ کاری 600 ملین امریکی ڈالر سے متجاوز

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے خلائی اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کا وینچر فنڈ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ اس شعبے کا ماحولیاتی نظام 400 سے زائد اداروں تک پہنچ چکا ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ٹیکنالوجی فنڈز اور ابتدائی مالی معاونت بھارت کی خلائی جدت کو تقویت دے رہے ہیں، جبکہ اِن-اسپیس مختلف اسکیموں اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ترقی کو آگے بڑھا رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 APR 2026 2:02PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 26 اپریل: مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج بھارت بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں خلائی تجربہ گاہیں قائم کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ پہلے مرحلے میں ایسی 7 تجربہ گاہیں قائم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کو سیٹلائٹ نظام، راکٹ سازی اور مشن ڈیزائن میں عملی تربیت فراہم کی جا سکے۔

یہ اقدام بھارت کے تیزی سے فروغ پاتے خلائی شعبے کے لیے باصلاحیت نوجوانوں کی مضبوط کھیپ تیار کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں غیر سرکاری اداروں کے لیے اس شعبے کے دروازے کھولنے کے بعد اس میدان میں 600 ملین امریکی ڈالر سے زائد نجی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

یہ جائزہ اِن-اسپیس کے چیئرمین ڈاکٹر پون گوئنکا کی تفصیلی بریفنگ کے بعد لیا گیا، جس میں انہوں نے بھارت کی خلائی اصلاحات میں ہونے والی پیش رفت اور قدر کے پورے سلسلے میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا خاکہ پیش کیا۔

بھارت کا نجی خلائی نظام تیزی سے وسعت اختیار کر چکا ہے۔ 2019 میں خلائی اسٹارٹ اپس کی تعداد ایک ہندسے تک محدود تھی، جو 2026 کے آغاز تک بڑھ کر 400 سے زائد ہو گئی ہے۔ یہ اسٹارٹ اپس اب لانچ وہیکلز، سیٹلائٹ اور پے لوڈ تیاری، زمینی بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا خدمات اور مدار میں خدمات جیسے ابھرتے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ بین الاقوامی صارفین، بشمول خلائی میدان میں پیش رفت رکھنے والے ممالک، کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوا ہے۔

اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ترقی کے مرحلے میں موجود اسٹارٹ اپس کی مدد کے لیے سڈبی کے اشتراک سے ایک ہزار کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ فعال کیا جا رہا ہے، جبکہ 500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی اپنانے کا فنڈ ابتدائی مرحلے کی اختراعات کو تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

اسی طرح سیڈ فنڈ اسکیم کے تحت تصوراتی اور ابتدائی نمونے کے مرحلے میں موجود اسٹارٹ اپس کو ایک کروڑ روپے تک کی گرانٹ دی جا رہی ہے، ساتھ ہی رہنمائی اور ماحولیاتی نظام کی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ماہر افرادی قوت کی تیاری کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں۔ اب تک 17 خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 900 شرکاء کو سیٹلائٹ سازی، لانچ وہیکل نظام اور خلائی سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں سند دی جا چکی ہے۔ یونیورسٹیوں میں قائم کی جانے والی مجوزہ خلائی تجربہ گاہیں عملی اور براہِ راست تربیت کے مواقع فراہم کرکے اس صلاحیتی سلسلے کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

بنیادی ڈھانچے کے محاذ پر بھی نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان میں عوامی و نجی شراکت داری کے ماڈل کے تحت نجی قیادت میں زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ مجموعہ، اسٹارٹ اپس کے لیے مشترکہ سیٹلائٹ بس پلیٹ فارم کی تیاری، اور احمد آباد میں اِن-اسپیس ٹیکنیکل سینٹر میں ڈیزائن، انضمام اور جانچ کی سہولتوں تک وسیع تر رسائی شامل ہے۔ ٹیکنالوجی منتقلی کے پروگرام، جن میں اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) بھی شامل ہے، صنعت کے تعاون سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

خلائی شعبے میں بھارت کی عالمی شراکت داری مسلسل گہری ہو رہی ہے اور اب اس کے روابط 45 سے زائد ممالک تک پھیل چکے ہیں۔ حالیہ تعاون میں سنگاپور اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے، بین الاقوامی خلائی فورمز میں بھارتی کمپنیوں کی شرکت، اور ملکی اسٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے اقدامات شامل ہیں۔

اپنے قیام سے اب تک اِن-اسپیس کو اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز، تعلیمی اداروں اور صنعت کی جانب سے ایک ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ 129 منظوری نامے جاری کیے جا چکے ہیں، جو بھارت کے اصلاح شدہ خلائی نظام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0019MXL.jpg

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو نئی دہلی میں اِن-اسپیس کے چیئرمین ڈاکٹر پون گوئنکا بریفنگ دیتے ہوئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002BQK5.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003WH40.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6314


(ریلیز آئی ڈی: 2255690) وزیٹر کاؤنٹر : 7