نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نوجوانوں کو وکست بھارت 2047 کی تعمیر میں صرف مستفید ہونے والے نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے: ڈاکٹر منسکھ منڈویا


گراس روٹس کے مکالمے سے لے کر قومی عمل تک، نوجوانوں کی آوازیں پالیسی کی تشکیل کریں: محترمہ رکشا نکھل کھڈسے

مرحلہ وار مشاورتیں شواہد پر مبنی اور جامع فیصلہ سازی کو ممکن بناتی ہیں: ڈاکٹر پلوی جین گوول

نوجوانوں کے أمور اور کھیلوں کے وزرا کے لیے چنتن شیویر سری نگر میں شروع، وکست بھارت ایٹ 2047 کے تحت نوجوانوں کی قیادت میں ترقی پر توجہ مرکوز

شمولی اور شراکتی حکمرانی بھارت کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو بروئے کار لانے کی کلید ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 APR 2026 7:40PM by PIB Delhi

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نوجوانوں کے أمور اور کھیلوں کے وزراء کا تین روزہ چنتن شیویر آج شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی)، سری نگر میں شروع ہوا۔ شیویر کی قیادت  نوجوانوں کے أمور کھیل کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا اور نوجوانوں کے أمور کھیل کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا نکھل کھڈسے کر رہے ہیں۔

پہلا دن، جس کا موضوع ’’سمواد سے سمادھان‘‘ تھا، مائی بھارت کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت کے فریم ورک کو مضبوط بنانے پر مرکوز تھا، جس میں پالیسی سنرجی، انسٹیٹیوشنل کوآرڈینیشن اور آؤٹ پٹ اورینٹڈ پروگرام کی فراہمی پر زور دیا گیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں، مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے انکلوژو اور شراکتی حکمرانی کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ انھوں نے کہا، ’’اس چنتن شیویر کا وژن یہ ہے کہ ہر نوجوان کی آواز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کر کے انفرادی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

بھارت کی آبادیاتی طاقت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’بھارت کے پاس دنیا کا سب سے طاقت ور ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ ہے، اور وکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان ایسی پالیسیاں بنانے میں فعال طور پر شامل ہوں جو بالآخر ان کے فائدے میں ہوں۔‘‘

انھوں نے مزید کوآپریٹو نیشن بلڈنگ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا، ’’ہمیں نوجوانوں کو 2047 کے اہداف کے حصول میں برابر شراکت دار بنانا چاہیے، نہ کہ صرف اسکیموں کے مستفیدین۔‘‘

انسٹیٹیوشنل میکانزم کو نمایاں کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا، ’’نوجوانوں کی مناسب پرورش ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسرز (ڈی وائی اوز) کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جو بنیادی سطح سے ابھرنے والے آئیڈیاز کو مؤثر طریقے سے منتقل کر سکتے ہیں۔‘‘

گراس روٹس کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا جب انھوں نے کہا، ’’ہماری بنیاد کو متحرک یوتھ کلبوں کے ذریعے مضبوط کرنا چاہیے جو یوتھ انگیجمنٹ کا پلیٹ فارم بن سکیں۔‘‘

مضبوط پالیسی میکنگ پراسس کی اپیل کرتے ہوئے، انھوں نے زور دیا، ’’اسٹیک ہولڈروں سے مشاورت مؤثر پالیسی میکنگ کے لیے ضروری ہے، اور ٹرانسپیرنسی کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان پٹس براہ راست آؤٹ پٹس میں تبدیل ہوں اور لیکیج نہ ہو۔‘‘

منسٹر آف اسٹیٹ محترمہ رکشا نکھل کھڈسے نے نشان دہی کی کہ چنتن شیویر بامعنی مکالمے اور عمل کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’یہ چنتن شیویر ملک کے نوجوانوں کے لیے اہم مسائل کی نشان دہی اور قابل عمل حکمت عملیوں کی تیاری کے لیے مفید گفتگو کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید شراکتی حکمرانی پر زور دیا اور کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ نوجوان ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں فعال طور پر شامل ہوں۔‘‘

گراس روٹس ان پٹس کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا، ’’بات چیت گراس روٹس سطح سے ڈی وائی اوز سے لے کر قومی سطح تک جاری رہنی چاہیے، تاکہ پالیسیاں حقیقی ضروریات اور ایسپیریشنز کی عکاسی کریں۔‘‘

ڈاکٹر پلوی جین گوول، سیکرٹری، ڈیپارٹمنٹ آف یوتھ افیئرز، نے کہا کہ موجودہ چنتن شیویر پہلے کی ڈیلبریشنز پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا، ’’یہ چنتن شیویر بنگلور میں شروع کیے گئے کنسلٹیٹو پراسس کا تسلسل ہے، جو مرحلہ وار اپروچ پر مبنی ہے۔‘‘

حکمرانی میں انکلوژیویٹی پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’چنتن شیویر کا مرحلہ وار انعقاد ہر سطح کے افسران کو اپنے چیلنجز اور انوویٹو آئیڈیاز پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا، ’’ایسی اسٹرکچرڈ کنسلٹیشنز باخبر اور ایویڈینس بیسڈ ڈیسیژن میکنگ کو ممکن بناتی ہیں، جس میں نوجوان وکست بھارت 2047 کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘

اس سے پہلے، جناب نتیش کمار مشرا، ایڈیشنل سیکرٹری (یوتھ افیئرز) نے پارٹیسیپینٹس کا خیرمقدم کیا اور شیویر کے مقاصد بیان کیے۔

پہلے دن کے ٹیکنیکل سیشنز میں اینول ایکشن پلان 2026–27 پر تفصیلی ڈیلبریشنز شامل تھیں، جس میں پالیسی سنرجی، اسٹریٹجک پرائیورٹیز، گیپ اینالسس اور امپلیمنٹیشن فریم ورکس پر توجہ دی گئی۔ پریزینٹیشنز میں یوتھ کلب ڈیولپمنٹ، سسٹین ایبلٹی ماڈلز، اور پچھلے پروگرام سائیکلز سے حاصل شدہ لرننگز کو بھی نمایاں کیا گیا۔

مباحثوں میں مزید مائی بھارت پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل یوتھ انگیجمنٹ کو مضبوط بنانے، ماس پارٹیسیپیشن کو بڑھانے، اور مائی بھارت اور نیشنل سروس اسکیم (این ایس) کے درمیان سنرجیز کو بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا، جس میں فنڈ فلو میکانزم اور پروگرام کوآرڈینیشن شامل ہیں۔

دن کا اختتام کی انسائٹس کے امتزاج اور تھیمیٹک گروپس کی تشکیل کے ساتھ ہوا تاکہ آئندہ سیشنز میں فوکسڈ ڈیلبریشنز کو آگے بڑھایا جا سکے۔ چنتن شیویر اگلے دو دنوں میں کراس لرننگ، پالیسی سنرجی اور ایکشن ایبل آؤٹ کمز پر زور دے کر جاری رہے گا، جو وکست بھارت ایٹ 2047 کے تحت ایمپاورڈ یوتھ ایکو سسٹم کی تعمیر کے وسیع تر وژن میں حصہ ڈالے گا۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 6288


(ریلیز آئی ڈی: 2255422) وزیٹر کاؤنٹر : 11