PIB Backgrounder
جنگل سے فیشن تک
قبائلی ہندوستان کاگلوبل ویلیو چین میں داخلہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2026 11:08AM by PIB Delhi
بھارت کے قبائلی علاقوں میں خاموش انقلاب
ہندوستان کی قبائلی برادریاں عالمی معیشت میں اپنے مقام کو نئے سرے سے متعین کر رہی ہیں، اور جنگلات پر مبنی روزگار کو پائیدار، اعلیٰ قدر کی حامل مصنوعات میں تبدیل کر رہی ہیں جو جدید صارفین کے رجحانات سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ تبدیلی محض بقا سے کاروبار کی طرف ایک سفر کی عکاسی کرتی ہے، جہاں قبائلی معیشتوں کو ازسرِ نو تصور کیا جا رہا ہے اور روایت اب تنہائی کا شکار نہیں بلکہ قومی اور عالمی منڈیوں کے ساتھ مربوط ہو چکی ہے۔
یہ تبدیلی واضح طور پر‘ بھارت ٹرائبز فیسٹ- 2026’میں نظر آتی ہے، جو 18 سے 30 مارچ 2026 تک سندر نرسری، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ میلہ ٹرائبل کوآپریٹیو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ٹی آر آئی ایف ای ڈی) کی جانب سے وزارتِ قبائلی امور کے اشتراک سے منعقد کیا گیا ہے اور ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جہاں ہندوستان کی قبائلی وراثت اپنی سب سے متحرک شکل میں زندہ ہو اٹھتی ہے۔ دستکاری، ثقافت، کاروباری صلاحیت اور روزگار کا جشن مناتے ہوئے، یہ میلہ قبائلی روایات کو ملک کے ثقافتی اور معاشی منظرنامے میں نمایاں مقام دیتا ہے۔
یہ تبدیلی ہدفی پالیسی اقدامات کے ذریعہ ممکن ہو رہی ہے، جن میں“ آری آئی ایس اے-ریسا: ایک اعلیٰ درجے کا قبائلی برانڈ” شامل ہے، ساتھ ہی ون دھن یوجنا اور ٹرائبز انڈیا نیٹ ورک جیسے پروگرامز بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ قبائلی دستکار جنگلات پر مبنی معیشت سے نکل کر عالمی ویلیو چینز میں فعال شرکت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس عمل سے ایک ایسی کہانی جنم لیتی ہے جو وراثت اور امنگ دونوں کا امتزاج ہے—جہاں جنگلات اور فیشن کا ملاپ ہوتا ہے، اور قدیم ہنر اپنی حقیقی منڈی قدر حاصل کرتے ہیں۔
ٹرائبز انڈیا ماڈل: ون دھن سے ویلیو چین تک
ہندوستان کی قبائلی معیشت کو باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعہ ازسرِ نو تشکیل دیا جا رہا ہے، جہاں روزگار کے تحفظ کو منڈی تک رسائی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ قبائلی برادریاں جو ملک کے ماہر ترین دستکاروں میں شامل ہیں، صرف مدد نہیں بلکہ بااختیار بنائے جانے کی ضرورت رکھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض خام مال فراہم کرنے والوں سے آگے بڑھ کر ایسے برانڈز کے خالق اور مالک بنیں جو عالمی منڈیوں میں اعلیٰ قیمت حاصل کر سکیں۔
ٹریفیڈ کی قیادت میں ٹرائبز انڈیا نیٹ ورک قبائلی پیدا کنندگان کو براہِ راست شہری صارفین سے جوڑتا ہے، جس سے درمیانی سلسلے ختم ہو جاتے ہیں۔ ون دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے ایس) وہ کمیونٹی کی ملکیت مراکز ہیں جو وزارتِ قبائلی امور اور ٹریفیڈ کی جانب سے قائم کیے گئے ہیں تاکہ قبائلی جمع کنندگان کے لیے پائیدار روزگار کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مراکز معمولی جنگلاتی پیداوار (ایم ایف پی) کی ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ اور برانڈنگ پر توجہ دیتے ہیں تاکہ قبائلی آمدنی میں اضافہ ہو۔ ہر وی ڈی وی کے کلسٹر کو 15 قبائلی سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی ایس) کے وفاق کی صورت میں منظم کیا جاتا ہے، جنہیں ون دھن کیندر بھی کہا جاتا ہے۔ ہر ایس ایچ جی میں زیادہ سے زیادہ 20 قبائلی نان ٹمبر فاریسٹ پروڈکٹس (این ٹی ایف پی )جمع کرنے والے یا دستکار شامل ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک کلسٹر میں تقریباً 300 مستفید افراد اکٹھے ہو کر اجتماعی کاروباری ترقی کو ممکن بناتے ہیں۔
یہ ماڈل اجتماعی خریداری، مشترکہ پراسیسنگ ڈھانچے، مہارتوں کی ترقی اور مضبوط مارکیٹ روابط کو ممکن بناتا ہے جس سے کارکردگی اور سودے بازی کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بستر کی وہ خواتین جو مہوا یا املی کی پراسیسنگ کرتی ہیں، اب صرف کاشتکار نہیں رہیں بلکہ چھوٹے پیمانے کی کاروباری شخصیات کے طور پر ابھر رہی ہیں اور جو باقاعدہ ویلیو چینز کا حصہ بن چکی ہیں۔ اسی دوران، “ریسا” قبائلی دستکاری کو ایک نئی بلندی پر لے جا رہا ہے اور اسے عالمی منڈی میں ایک اعلیٰ معیار کی پیشکش کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔
قبائلی پیدا کنندگان خام جنگلاتی اشیاء، معمولی جنگلاتی پیداوار اور دستکاری کی مصنوعات ان ون دھن وکاس کیندر مراکز تک لاتے ہیں جہاں معیار کی درجہ بندی، ویلیو ایڈیشن، پیکیجنگ اور دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ مصنوعات ٹرائبز انڈیا کے رٹیل نیٹ ورک—بڑے ہوائی اڈوں اور اعلیٰ درجے کے مالز میں موجود اسٹورز، نیز ای - کامرس پلیٹ فارمز—کے ذریعے بین الاقوامی خریداروں اور فیئر ٹریڈ مارکیٹس تک پہنچتی ہیں۔
ٹریفیڈ نے ڈیزائن اداروں کے ساتھ شراکت داریاں بھی قائم کی ہیں، جن میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی) شامل ہے، تاکہ روایتی دستکاری کو جدید صارفین کی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جا سکے، بغیر اس کی ثقافتی اصل کو متاثر کیے۔ چھتیس گڑھ کا ایک ڈوکرا لاکٹ، جو کبھی مقامی بیوپاری کو معمولی قیمت پر فروخت ہوتا تھا، اب اپنی مستند شناخت کے ساتھ کئی گنا زیادہ قیمت حاصل کر رہا ہے۔
|
آر آئی ایس اے-ریسا: ٹائم لیس ٹرائبل – ایک پریمیم قبائلی برانڈ

آر آئی ایس اے-ریسا، وزارتِ قبائلی امور کی قیادت میں ایک اہم فلیگ شپ پہل ہے جس کا مقصد قبائلی دستکاری کو ملکی اور عالمی پریمیم منڈیوں میں نمایاں مقام دینا ہے۔ یہ ٹرپُرا کے روایتی‘ ریسا’ کپڑے سے متاثر ہے اور وراثت کو جدید ڈیزائن اور برانڈنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔
اہم خصوصیات
- ڈیزائنرز اور دستکاروں کے درمیان اشتراک تاکہ جدید اور مارکیٹ کے لیے موزوں کلیکشنز تیار کیے جا سکیں
- جدت، معیار اور عالمی سطح پر پیشکش پر خصوصی توجہ
- قبائلی دستکاری کے کلسٹرز کی ترقی اور مضبوطی
نمایاں دستکاریاں
- ایری اور موگا ریشم – آسام
- کوٹپیڈ کپاس – اوڈیشہ
- چانگپا پشمینہ – لداخ
- ٹوڈا کڑھائی – تمل ناڈو
- لونگپی مٹی کے برتن – منی پور
- ترتک پیتل کی کٹلری – لداخ
- ڈوکرا آرٹ – چھتیس گڑھ
|
قبائلی معیشت میں خواتین کا کردار
اس پوری کہانی میں سب سے انقلابی پہلو صنفی تبدیلی ہے۔ خواتین محض مستفید ہونے والی نہیں ہیں بلکہ وہ پیداوار کرنے والی، رہنما اور معیار کی نگہبان کے طور پر اس تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ خواتین کی قیادت میں قائم کوآپریٹیوز معاشی خودمختاری کے مراکز بن چکے ہیں، جو اجتماعی بچت، مائیکرو قرضوں اور خام مال میں مشترکہ سرمایہ کاری کو ممکن بناتے ہیں۔ بہت سی خواتین کے لیے ٹریفیڈ نے انہیں پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ معاشی شناخت فراہم کی ہے، جس کے ذریعے پہلے غیر تسلیم شدہ بقا پر مبنی کام کو باقاعدہ محنت کے طور پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
بھارت ٹرائبز فیسٹ-2026 میں یہ تبدیلیاں صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ خواتین کی ذاتی زندگیوں اور کہانیوں میں بھی واضح طور پر جھلکتی ہیں، جو ان کی آوازوں اور تجربات کی ایک مؤثر جھلک پیش کرتی ہیں۔
روایت کو مستقبل سے جوڑنے والی تبدیلی ساز شخصیات
چوبیس (24) سالہ دیبونگشی چکما، جو چکما قبائل سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان کاروباری خاتون ہیں اور میزورم کے ضلع لانگتلائی کے کمال نگر کی رہنے والی ہیں، خاموشی سے تبدیلی کی ایک مضبوط داستان رقم کر رہی ہیں۔ ان کی کہانی میں روایت کو پیچھے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اسے عالمی منڈی تک ساتھ لے جایا جاتا ہے۔
چکما ثقافتی وراثت میں گہرائی سے جڑی ہوئی، وہ مقامی علم کے نظام کو وقار، شناخت اور معاشی خودمختاری کے راستوں کے طور پر نئے انداز میں پیش کر رہی ہیں۔
بودھی بلوم سوسائٹی کی بانی کے طور پر، دیبونگشی 500 سے زائد اراکین پر مشتمل ایک متحرک اجتماعی گروہ کی قیادت کرتی ہیں، جس میں خواتین کو بااختیار بنانے پر خاص اور شعوری توجہ دی جاتی ہے، خصوصاً وہ خواتین جو سماجی اور معاشی کمزوریوں کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں مطلقہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا یہ اقدام کسی ایک ہنر تک محدود نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک متنوع اور کمیونٹی پر مبنی ماڈل کو فروغ دیتا ہے۔
ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں اور روایتی خوراکی طریقوں سے لے کر جھوم (منتقلی/شفٹنگ) کاشتکاری اور بانس سے تیار کردہ مصنوعات تک، ان کا کام ماحولیات، ثقافت اور کاروبار کو خوبصورتی سے یکجا کرتا ہے۔
“میں نہیں چاہتی کہ میری کوئی بھی بہن یا عورت تکلیف میں یا بے روزگار رہے۔ میرا ویژن یہ ہے کہ مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ میری کمیونٹی کی ہر عورت خود کفیل اور بااختیار بن سکے۔ میں اپنی روایات کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں اور اپنی ثقافت کو فخر کے ساتھ عالمی سطح پر پیش کرنا چاہتی ہوں۔”
ایک ایسے خطے میں جہاں میکانائزڈ انفراسٹرکچر محدود ہے، دیبونگشی کا سفر قبائلی برادریوں کی مضبوطی اور اختراعی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔ ٹریفیڈ کے ساتھ اشتراک کے ذریعے ان کی مصنوعات اب مقامی منڈیوں سے کہیں آگے تک پہنچ رہی ہیں، جس سے روایتی طریقوں کو پائیدار آمدنی میں بدلا جا رہا ہے، ساتھ ہی ثقافتی اصالت کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
چونکہ عالمی صارفین ہاتھ سے بنی اور ماحول دوست مصنوعات کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں، ان کا کام پائیداری اور ورثے کے سنگم پر اپنی جگہ بناتا ہے۔
ورثے کو ہینڈلوم میں ڈھالنا
23 سال کی عمر میں، اُرمِلا سونور، جو جھارکھنڈ کے کاجری گاؤں کی ایک سنتھال دستکار ہیں، ایک نوجوان ڈیزائنر کے طور پر ابھر رہی ہیں جو اپنے ثقافتی اور ماحولیاتی ماحول سے متاثر ہیں۔ ان کا کام “بارہ کھنڈ” نامی ایک مقدس مقامی رسم اور اپنے گاؤں کے پہاڑی مناظر سے رہنمائی لیتا ہے، جنہیں وہ ایسے ہاتھ سے بنے ساڑیوں میں ڈھالتی ہیں جو نہ صرف بصری طور پر دلکش ہیں بلکہ شناخت میں بھی گہرائی رکھتے ہیں۔
انہوں نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی بُنائی کے فن کے لیے وقف کر دی اور یوں ورثے کو روزگار میں بدلتے ہوئے مقامی روایات کو محفوظ رکھا۔ ان کے ڈیزائن نہ صرف انہیں معاشی طور پر سہارا دیتے ہیں بلکہ سنتھال ثقافت کو وسیع تر پہچان بھی دلاتے ہیں، اور مقامی دستکاری کو قومی و عالمی منڈیوں میں ایک نمایاں مقام پر لاتے ہیں۔ اپنے کام کے ذریعے وہ دستکاروں کی نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں جو ثقافتی سفیر کے طور پر اپنی برادری کی وراثت کو تخلیقی انداز اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
“میں چاہتی ہوں کہ ہمارا گاؤں اور ہماری روایات میرے کام کے ذریعے پہچانی جائیں۔ جب کوئی میری ساڑی دیکھے تو فوراً پہچان لے کہ یہ کاجری سے آئی ہے۔ ہینڈلوم کے ذریعے میں اپنی مقامی ثقافت کو شناخت اور نمایاں مقام دینا چاہتی ہوں۔”
وہ بزرگ جو دھاگے کو تھامے رکھتے ہیں
بیالیس(42) سالہ سنگیتا، جو تمل ناڈو کی نیلگیری پہاڑیوں سے تعلق رکھنے والی ایک ٹوڈا دستکار ہیں، کے لیے کڑھائی کوئی سکھایا ہوا ہنر نہیں بلکہ ایک عمر بھر کی وراثت ہے۔ وہ موٹے سفید کپڑے پر سرخ اور سیاہ دھاگے سے پیچیدہ ہندسی نمونے بناتی ہیں، جو نسل در نسل خواتین کے ذریعے منتقل ہوتے آئے ہیں۔
ٹوڈا برادری کی آبادی ایک ہزار سے بھی کم ہے، اس لیے یہ روایت نہایت نازک اور کمزور حالت میں ہے۔ نیلگیری کے باہر جو زیادہ تر نمونے دیکھے جاتے ہیں، وہ دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں، جن کا آغاز اکثر کم عمری یعنی نوجوانی میں ہوتا ہے۔
سنگیتا نہ صرف اس فن کی عملی ماہر ہیں بلکہ ایک پل کا کردار بھی ادا کرتی ہیں، جو اس دستکاری کو وسیع تر پلیٹ فارمز تک لے جاتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اس کا اعتراف اور منافع ان خواتین تک پہنچے جو اسے زندہ رکھتی ہیں۔
کچرے سے قدر تک: ایک پائیدار دستکاری کا سفر
پینتالیس(45 )سالہ انیتا رانا، جو اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر سے تعلق رکھنے والی تھارو قبیلے کی خاتون ہیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ روایتی ماحولیاتی علم پائیدار روزگار کو کس طرح مضبوط بنا سکتا ہے۔ وہ خواتین کے ایک ایسے اجتماعی گروہ کا حصہ ہیں جو اب 300 سے زائد اراکین پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے انہیں بہتر منڈی تک رسائی، منصفانہ قیمتیں، اور سرس میلے اور قبائلی میلوں جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی دستکاری پیش کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
ان کا ہنر منجا گھاس کی بُنائی پر مبنی ہے—ایک موسمی اور قدرتی طور پر تحلیل ہونے والا وسیلہ جسے روزمرہ استعمال کی اشیاء، جیسے روٹی رکھنے کے ڈبے- میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو پلاسٹک کا ماحول دوست متبادل فراہم کرتا ہے۔ نوجوان خواتین کو تربیت دے کر انیتا نہ صرف اس مقامی روایت کو محفوظ رکھ رہی ہیں بلکہ اپنی کمیونٹی میں باعزت روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ پائیداری، روایت اور کاروبار کس طرح مل کر دیرپا اثر پیدا کر سکتے ہیں۔
“منجا گھاس کی بُنائی ہماری ثقافت کا حصہ بھی ہے اور ماحول کے لیے ایک اچھا حل بھی۔ جو کچھ ہم بناتے ہیں وہ مکمل طور پر قدرتی ہوتا ہے اور فطرت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ میں چاہتی ہوں کہ نئی نسل یہ ہنر سیکھے تاکہ ہماری روایت جاری رہے اور زیادہ خواتین باعزت طریقے سے آمدنی حاصل کر سکیں۔”
شناخت میں جڑی ترقی
جیسے جیسے ہندوستان کی قبائلی برادریاں عالمی ویلیو چینز کا حصہ بن رہی ہیں، ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ جو کچھ قبائلی دستکار تخلیق کرتے ہیں، اسے مشینیں نقل نہیں کر سکتیں—اور یہی انفرادیت بڑے پیمانے کی پیداوار کے دور میں ان کی سب سے مضبوط طاقت بن چکی ہے۔ ٹریفیڈ اور ریسا جیسے اقدامات اسی قوت کو پائیدار آمدنی اور وقار میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
ون دھن وکاس کیندروں کی توسیع، ٹرائبز انڈیا کی ای - کامرس موجودگی میں اضافہ، اور بھارت ٹرائبز فیسٹ - 2026 جیسے پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی نمائش کے ساتھ، مختلف خطوں کے دستکار اب منڈی سے اپنے انداز میں جڑ رہے ہیں—بطور تخلیق کار، نہ کہ محض مستفید ہونے والے افراد کے ساتھ۔
جنگلاتی پیداوار سے لے کر عالمی ڈیزائن کے میدانوں تک، قبائلی ہندوستان صرف اشیاء پیدا نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کی تشکیل کر رہا ہے جو پائیدار، شمولیتی اور اپنی جڑوں سے گہرا تعلق رکھنے والا ہے۔
حوالہ جات
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241924®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2242221®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2106121®=3&lang=2
پی ڈی ایف کے لئے کلک کریں
********
ش ح- ظ الف-م ع
UR-6206
(ریلیز آئی ڈی: 2254799)
وزیٹر کاؤنٹر : 17