PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

وِکست بھارت 2047 کے لیے صحت کے شعبے کو ترجیح دینا


بجٹ 27-2026 سیریز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAR 2026 3:51PM by PIB Delhi

اہم نکات

  • مرکزی بجٹ 2026-27 میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے مختص رقم میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ رقم 2025-26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں بڑھ کر 1,06,530.42 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
  • 17 نئی کینسر ادویات پر سو فیصد کسٹمز ڈیوٹی (درآمدی محصول) میں چھوٹ دی گئی ہے۔
  • مرکزی بجٹ 27-2026 کے تحت اگلے پانچ برسوں میں ایک لاکھ معاون صحت کے پیشہ ور افراد اور 1.5 لاکھ کیئرگیورز کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
  • بجٹ میں بجٹ میں بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے کے لیے آیوروید کے تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹس قائم کرنے اور جام نگر میں موجود ڈبلیو ایچ او گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سینٹر کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔۔

تعارف

بھارت کا صحت کا نظام ایک انقلابی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اقتصادی جائزہ 26-2025 کی بصیرت کی بنیاد پر تیار کردہ مرکزی بجٹ 27-2026 نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، احتیاطی صحت کے نظام اور ڈیجیٹل انضمام کے ذریعے ہمہ گیر صحت کی کوریج کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا ہے، جس میں نوجوانوں، پسماندہ طبقات اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔بجٹ میں غیر متعدی امراض(این سی ڈیز)کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ روایتی طب، ذہنی صحت کی خدمات اور بایوفارما شعبے کو بھی مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے 1,06,530.42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جو مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 10فیصد اضافہ اور گزشتہ 12 برسوں میں 194فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ محکمۂ صحت تحقیق کے لیے 4,821.21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی اخراجات میں یہ اضافہ ہمہ گیر صحت کی سہولیات اور طبی تحقیق میں اختراع کے لیے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

بجٹ 27-2026: صحت سے متعلق اعلانات

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے بجٹ میں گزشتہ سال کے نظرِ ثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں اضافہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ دہائی سے صحت کے شعبے میں مسلسل بڑھتی ہوئی فنڈنگ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سال متعدد صحت کے اقدامات کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں (روپے کروڑ میں)۔

اسکیم/پروگرام

بجٹ تخمینہ

2026-27

نظر ثانی شدہ تخمینہ 2025-26

اضافہ

فیصد اضافہ

مرکزی شعبہ جاتی اسکیمیں

 

 

 

 

پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(پی ایم – جے اے وائی)

9,500.00

9,000.00

500.00

5.56%

نیشنل ہیلتھ مشن(این ایچ ایم)

39,390.00

37,100.07

2,289.93

6.17%

پردھان منتری سواستھ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی)

11,307.00

10,900.00

407.00

3.73%

نیشنل ایڈز اور ایس ٹی ڈی کنٹرول پروگرام

3,477.00

2,661.50

815.50

30.64%

خون کی منتقلی کی خدمات

275.00

200.00

75.00

37.50%

صحت اور طبی تعلیم کے لیے انسانی وسائل

1,725.00

1,630.00

95.00

5.83%

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن

350.00

324.26

25.74

7.94%

پی ایم-آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن(پی ایم – اے بی ایچ آئی ایم)

4,770.00

2,845.00

1,925.00

67.66%

غیر اسکیم جزو

 

 

 

 

ایمس، نئی دہلی

5,500.92

5,238.70

262.22

5.01%

مرکزی حکومت کی صحت اسکیم اور پنشن یافتگان کے فوائد

8,697.86

8,106.96

590.90

7.29%

مرکزی ہسپتال

4,599.66

4,206.84

392.82

9.34%

پی جی آئی ایم آر، چندی گڑھ

2,504.65

2,417.86

86.79

3.59%

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)

4,000.00

3,150.50

850.00

26.98%

 

سال 2018 میں شروع کی گئی آیوشمان بھارت پردھان منتری-جن آروگیہ یوجنا (اے بی-پی ایم جے اے وائی) کے لیے فنڈنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی عوامی صحت بیمہ اسکیم کے طور پر یہ پروگرام اہل گھرانوں کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک کا ہیلتھ انشورنس فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے 12 کروڑ سے زائد کمزور اور مستحق خاندانوں کو معیاری علاج کی سہولت سستی قیمت پر حاصل ہو رہی ہے۔گزشتہ ایک دہائی میں دیگر صحت اسکیموں کے لیے بھی فنڈنگ میں اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ بھارت کے بدلتے ہوئے صحت کے تقاضوں اور مضبوط صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

بجٹ 27-2026: نئے اقدامات

مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ نئی پہلیں اور اسکیمیں بھارت کے صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں، جبکہ زیادہ تعداد میں صحت کے پیشہ ور افراد کی تربیت کا ہدف بھی رکھتی ہیں۔

غیر متعدی امراض میں اضافہ

حال ہی میں جاری ہونے والے اقتصادی جائزہ 26-2025 نے بھارت کے صحت کے منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں ملک نے زچگی اور بچوں کی صحت کے مسائل سے نمٹنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اوسط عمر 1973 میں 49.7 سال سے بڑھ کر 2023 میں 70.3 سال ہو گئی ہے، وہیں اب ایک نیا چیلنج سامنے آ رہا ہےوہ غیر متعدی امراض(این سی ڈی)جیسے دل کی بیماریاں، ذیابیطس، موٹاپا اور کینسر ہیں۔ 23-2021کے دوران ملک میں ہونے والی اموات میں سے 57فیصد ان ہی امراض کی وجہ سے ہوئیں۔

حکومتِ ہند غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے قومی پروگرام کو چلا رہی ہے، جس کا مقصد زیادہ خطرے والے افراد کی منظم شناخت کرنا اور انہیں مناسب علاج اور صحت کی سہولیات سے جوڑنا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران ریاستی پروگرام نفاذ کے منصوبوں کے لیے منظور شدہ فنڈز میں اضافہ ہوا ہے۔

آیوش اور روایتی طب: تہذیبی علم سے عالمی صحت کے نظام تک

عالمی شناخت اور حکمتِ عملی کا تناظر

بھارت کے روایتی علمی نظام وقت کے ساتھ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ صحت کے فریم ورک میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کووڈ کے بعد احتیاطی نگہداشت کی بڑھتی ہوئی مانگ نے پہلے سے مقبول آیوروید اور آیوش نظاموں کی قبولیت کو مزید وسعت دی ہے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 آیوش کو ایک جدید صحت، فلاح و بہبود اور معاشی موقع کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے ادویاتی پودوں کی کاشت کرنے والے کسانوں اور پراسیسنگ کے شعبے میں نوجوانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے ذریعے عوامی صحت، دیہی آمدنی اور بھارت کی عالمی سطح پر سافٹ پاور کو فروغ ملتا ہے۔

بجٹ 27-2026: آیوش اور روایتی طب کے مستقبل کی تعمیر

مرکزی بجٹ 2026-27 آیوش کے شعبے کو توسیع کے مرحلے سے نکال کر استحکام، معیار میں بہتری اور عالمی قیادت کی طرف ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے ذریعے اسے عملی بنیادوں پر قائم نظام سے سائنسی طور پر تصدیق شدہ عالمی صحت کے شعبوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ اسٹریٹجک اقدامات تعلیم، کلینیکل تربیت اور تحقیقاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں، تاکہ نہ صرف ملکی صحت کی فراہمی بہتر ہو بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مؤثر شمولیت ممکن بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی ریگولیٹری معیار اور سرٹیفکیشن کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ بھارتی آیوش مصنوعات کو ان عالمی منڈیوں میں جگہ مل سکے جہاں سائنسی شواہد پر مبنی حل کی مانگ بڑھ رہی ہے۔جام نگر میں عالمی ادارۂ صحت کے گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سینٹر کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ بھارت کو ایک عالمی مرکز کے طور پر پیش کرتا ہے، جہاں شواہد پر مبنی تحقیق، تربیت اور بین الاقوامی بیداری کو فروغ دیا جائے گا، اور روایتی نظاموں کو عالمی تحقیق اور علم کے فریم ورک سے جوڑا جائے گا۔آیوش مراکز کو علاقائی میڈیکل ہب میں شامل کرنا بھارت کی میڈیکل ویلیو ٹورزم کی پیشکش کو مزید مضبوط بناتا ہے، جہاں جدید تشخیص، علاج اور بحالی کی سہولیات کے ساتھ روایتی طب بھی دستیاب ہوگی۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات آیوش کو سائنسی توثیق، معیار کی ضمانت اور جدید صحت نظام کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے عالمی تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کی سمت لے جاتے ہیں۔

نتیجہ

مرکزی بجٹ 2026-27 میں صحت کے شعبے کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے، جس کے تحت وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے لیے مختص رقوم میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ حکومت کے اس مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کے صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور معیاری طبی خدمات تک ہمہ گیر رسائی کو یقینی بنایا جائے۔اہم وعدوں میں معاون صحت افرادی قوت میں توسیع شامل ہے، جو فوری طبی ضروریات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی معاشی اہداف کو بھی پورا کرتی ہے۔نئی پہلوں میں آیوش کے عالمی انضمام، شمالی بھارت میں این آئی ایم ایچ اےاین ایس -2کے قیام، اور بنیادی ڈھانچے، غذائیت اور ایمرجنسی کیئر میں سرمایہ کاری شامل ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بھارت کی آبادیاتی برتری ایک صحت مند، ہنر مند اور مضبوط معاشرے کی شکل اختیار کرے، اور صحت کا شعبہ 2047 تک وکست بھارت کے لیے ایک بنیادی ستون کے طور پر مستحکم ہو۔

حوالہ جاتحو

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

****

ش ح۔ ش آ ۔ش ہ ب

Urdu No-6177


(ریلیز آئی ڈی: 2254608) وزیٹر کاؤنٹر : 27