نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ نے سینٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک کے دسویں کنووکیشن تقریب سے خطاب کیا
وکست بھارت ایک مشترکہ قومی مشن ہے جس کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے: نائب صدرجمہوریہ
تعلیمی میدان میں خواتین کی قیادت ناری شکتی کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے: نائب صدر جمہوریہ
کامیابی کی پیمائش سماجی اثرات سے ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتی مفاد سے: نائب صدر جمہوریہ
جدیدیت کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی و ثقافتی وراثت سے جڑے رہنا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 APR 2026 5:17PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج کرناٹک کے گلبرگہ میں سینٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک کے دسویں کنووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔
فارغ التحصیل طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے، نائب صدرجمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھتے ہوئے، وہ معاشرے اور قوم کے لیے بامقصد تعاون کرنے کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔
بھارت کی ترقی کی رفتار پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیش کردہ ’وکست بھارت‘ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ قومی مشن ہے جس کے لیے ہر شہری کو اپنی بہترین کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اختراعی عمل کریں، دیانتداری کے ساتھ قیادت کریں اور قوم کی تعمیر میں سرگرمی کے ساتھسےوہریہبھر کے کاظام موسم گرما ک حصہ لیں۔
نائب صدرجمہوریہ نے ’آتم نربھر بھارت‘ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خود انحصاری کی جڑیں عالمی سطح پر مسابقتی رہتے ہوئے داخلی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، اختراع کو فروغ دینے اور مقامی اداروں کی مدد کرنے میں پیوست ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں گریجویٹس نوجوانوں کو اپنی مہارتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرنا چاہیے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مواقع کے مطابق خود کو ڈھالنا اورتیار کرنا چاہیے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے،نائب صدرجمہوریہ نے تعلیمی میدان میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں منعقد ہونے والے کنووکیشنز میں میڈل جیتنے والوں میں خواتین مستقل طور پر اکثریت میں ہیں اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس سال یونیورسٹی میں گولڈ میڈلسٹ حاصل کرنے والوں میں 80 فیصد سے زائد خواتین ہیں۔ انہوں نے اسے ’ناری شکتی‘ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور تمام شعبوں میں مساوات اور قیادت کی طرف وسیع تر سماجی تبدیلی کی عکاسی قرار دیا۔
نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ جہاں دنیا بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں یہ موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی کی تبدیلی اور سماجی عدم مساوات جیسے چیلنجز بھی پیش کرتی ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ ان چیلنجوں کا مقابلہ ہمت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ کریں اور کامیابی کی پیمائش محض ذاتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ معاشرے پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات سے کریں۔
انہوں نے طلباء سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جدیدیت اور عالمی نقطۂ نظر کو اپناتے ہوئے بھارت کے بھرپور ثقافتی اور علمی ورثے سے جڑے رہیں۔
والدین، فیکلٹی اور انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے نوجوان ذہنوں کی تشکیل اور قوم سازی میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلباء پر زور دیا کہ وہ چیلنجوں کے سامنے لچکدار رہیں، ناکامیوں سے سیکھیں اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے انہیں بڑے خواب دیکھنے، ذمہ داری سے کام کرنے اور ’وکست بھارت‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کی تعمیر میں پورے دل سے تعاون کرنے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر موجود افراد میں کرناٹک کے گورنر جناب تھاور چند گہلوت، سینٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک کے وائس چانسلر پروفیسر ستیہ نارائنا، فیکلٹی ممبران، عملہ، والدین اور طلباء شامل تھے۔
************
ش ح۔م م ع۔ص ج
(U: 6179)
(ریلیز آئی ڈی: 2254580)
وزیٹر کاؤنٹر : 12