|
بجلی کی وزارت
بجلی کی فراہمی، زیادہ سے زیادہ مانگ اور کوئلے کی دستیابی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAR 2026 4:18PM by PIB Delhi
ملک میں بجلی کی دستیابی مناسب مقدار میں موجود ہے۔ 28 فروری 2026 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت 524 گیگاواٹ(جی ڈبلیو) ہے۔ حکومتِ ہند نے اپریل 2014 سے اب تک 299.87 گیگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرکے بجلی کی کمی کے اہم مسئلے کو حل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بجلی کی قلت سے نکل کر خود کفالت کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔
ملک نے مالی سال 2024-25 میں کامیابی کے ساتھ 250 گیگاواٹ کی اب تک کی بلند ترین زیادہ سے زیادہ مانگ پوری کی۔ گزشتہ تین مالی سالوں اور موجودہ مالی سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے دوران زیادہ سے زیادہ مانگ اور توانائی کی ضرورت کے حوالے سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال(پاور سپلائی پوزیشن) کی تفصیلات جدول-1 میں دی گئی ہیں۔اسی طرح، گزشتہ تین مالی سالوں اور موجودہ مالی سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے لیے ریاست وار توانائی کے لحاظ سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال(پاور سپلائی پوزیشن) کی تفصیلات جدول-2 میں فراہم کی گئی ہیں۔فراہم کی گئی توانائی اور پوری کی گئی زیادہ سے زیادہ مانگ عموماً توانائی کی ضرورت اور زیادہ سے زیادہ مانگ کے مطابق رہی ہے، جس میں صرف معمولی فرق پایا گیا ہے، جو عموماً ریاستی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود رکاوٹوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
22 مارچ 2026 تک ملک کے کوئلہ پر مبنی بجلی گھروں کے پاس تقریباً 58.2 ملین ٹن(ا یم ٹی ) کوئلے کا ذخیرہ موجود ہے، جو 85 فیصد پلانٹ لوڈ فیکٹر (پی ایل ایف) پر اوسطاً 19 دن تک بجلی گھروں کو چلانے کے لیے کافی ہے۔
حکومت ہند نے آنے والے سالوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- پیداوار اور ذخیرہ بندی کی منصوبہ بندی:
i.نیشنل الیکٹرسیٹی پلان(این ای پی )کے مطابق 2031-32 تک ملک میں نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت تقریباً 874 گیگاواٹ ہونے کا امکان ہے۔ متوقع زیادہ سے زیادہ مانگ سے آگے پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ریاستوں نے سی ای اےکے مشورے سے اپنے ریسورس ایڈیکویسی پلانز (آر اے پی)تیار کیے ہیں، جو متحرک 10 سالہ رولنگ منصوبے ہیں اور ان میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ بجلی کی خریداری کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔
ii. تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے وسائل کی کافی مقدار کے منصوبوں کے مطابق تمام پیداواری ذرائع سے پیداواری صلاحیت پیدا کرنے/معاہدہ کرنے کا عمل شروع کریں ۔
iii. بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے حکومتِ ہند نے درج ذیل صلاحیت میں اضافے کے پروگرام شروع کیے ہیں:
- سال 2034-35 تک تھرمل (کوئلہ اور لِگنائٹ) بجلی کی متوقع ضرورت تقریباً 3,07,000 میگاواٹ ہے، جبکہ 31.03.2023 تک نصب شدہ صلاحیت 2,11,855 میگاواٹ تھی۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وزارتِ بجلی نے کم از کم 97,000 میگاواٹ اضافی کوئلہ اور لِگنائٹ پر مبنی حرارتی بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
مزید برآں درج ذیل اقدامات بھی کئے گئے ہیں: -
اپریل 2023 سے 31 جنوری 2026 تک تقریباً 18,160 میگاواٹ حرارتی (تھرمل) صلاحیت کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 38,745 میگاواٹ حرارتی صلاحیت اس وقت زیرِ تعمیر ہے، (جس میں 4,845 میگاواٹ کے دباؤ میں موجود (اسٹریسڈ) پاور پروجیکٹس بھی شامل ہیں)۔مزید یہ کہ 22,920 میگاواٹ کے منصوبوں کے معاہدے کیے جا چکے ہیں اور ان کی تعمیر کا آغاز ہونا باقی ہے۔ اسی طرح ملک میں کوئلہ اور لِگنائٹ پر مبنی 24,020 میگاواٹ اضافی ممکنہ صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے جو مختلف منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔
(ب) 31.01.2026 تک 12,723.50 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں ۔ مزید برآں 4,274 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ منصوبہ بندی کے مختلف مراحل میں ہیں اور انہیں 2031-32 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے ۔
(سی)31 جنوری 2026 تک 6,600 میگاواٹ جوہری (نیوکلیئر) بجلی کی صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جس کی تکمیل کا ہدف 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔ مزید 7,000 میگاواٹ جوہری صلاحیت مختلف منصوبہ بندی اور منظوری کے مراحل میں ہے۔
(ڈی )31جنوری 2026 تک مجموعی طور پر 1,54,830 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جس میں 64,670 میگاواٹ شمسی توانائی، 6,490 میگاواٹ ہوا (ونڈ)سے پیدا ہونے والی توانائی اور 59,990 میگاواٹ ہائبرڈ پاور شامل ہے۔اسی طرح 47,920 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت مختلف منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے، جس میں 35,440 میگاواٹ سولر اور 10,080 میگاواٹ ہائبرڈ پاور شامل ہے، اور اس کی تکمیل کا ہدف 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔
(ای) توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں 31 جنوری 2026 تک 13,120 میگاواٹ / 78,720 میگاواٹ آور کی پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (پی ایس پی) زیرِ تعمیر ہیں۔ مزید 9,580 میگاواٹ / 57,480 میگاواٹ صلاحیت کی پی ایس پی صلاحیت کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن ابھی تعمیر شروع نہیں ہوئی۔اسی طرح 31 جنوری 2026 تک 10,658.94 میگاواٹ / 28,739.32 میگاواٹ کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جبکہ 22,347.15 میگاواٹ / 69,836.70 میگاواٹ آور کی بی ای ایس ایس صلاحیت ٹینڈرنگ کے مرحلے میں ہے۔
- ترسیل (ٹرانسمیشن) کی منصوبہ بندی:
۱۔انٹراسٹیٹ اور انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن نظام کی منصوبہ بندی بجلی پیداوار میں اضافے کے مطابق کی گئی ہے، اور اس پر عملدرآمد بھی اسی ہم آہنگ ٹائم فریم میں کیا جا رہا ہے۔نیشنل الیکٹرسیٹی پلان کے مطابق، سال 2022-23 سے 2031-32 کے دس سالہ عرصے کے دوران 220 کے وی اور اس سے اوپر کے وولٹیج سطح پر تقریباً 1,91,474 سی کے ایم ٹرانسمیشن لائنیں اور 1,274 جی وی اے کی ٹرانسفارمیشن صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس کے علاوہ وزارتِ بجلی نے 14.06.2024، 21.03.2025 اور 15.12.2025 کو رہنمائی اصول جاری کیے ہیں، جن میں ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے رائٹ آف وے(آر او ڈبلیو) کے تحت معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ ان ہدایات کے مطابق زمین کی قیمت کو موجودہ مارکیٹ ریٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔یہ رہنما اصول اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں جس میں زمین مالکان ریاستی حکومت کی مقرر کردہ شرحوں سے زیادہ معاوضے کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے زمین کے حصول میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
3 .قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کا فروغ:
۱۔سو فیصد انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس) چارجز کو سولر اور ونڈ پاور کے ان منصوبوں کی بین ریاستی فروخت کے لیے معاف کر دیا گیا ہے جو 30 جون 2025 تک مکمل ہوں گے۔ یہ چھوٹ بعد میں ہر سال 25 فیصد کے حساب سے کم ہوتی جائے گی اور جون 2028 تک ختم ہو جائے گی۔اسی طرح یہ رعایت ان کو-لوکیٹڈبی ای ایس ایس منصوبوں کے لیے بھی ہے جو جون 2028 تک مکمل ہوں گے، ہائیڈرو پمپڈ اسٹوریج (پی ایس پی) منصوبوں کے لیے بھی جہاں تعمیراتی کام جون 2028 تک شروع ہو چکا ہو، گرین ہائیڈروجن منصوبوں کے لیے جو دسمبر 2030 تک مکمل ہوں، اور آف شور ونڈ منصوبوں کے لیے جو دسمبر 2032 تک مکمل ہوں گے۔
۲۔گرڈ سے منسلک شمسی ، ونڈ ، ونڈ سولر ہائبرڈ اور فرم اور ڈسپیچ ایبل آر ای (ایف ڈی آر ای) پروجیکٹوں سے بجلی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے معیاری بولی کے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں ۔
۳۔قابل تجدید توانائی کے نفاذ کی ایجنسیاں (آر ای آئی اے) آر ای بجلی کی خریداری کے لیے باقاعدگی سے بولیاں طلب کر رہی ہیں ۔
۴۔آٹومیٹک روٹ کے تحت 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی ہے ۔
۵۔قابلِ تجدید توانائی کے تیز رفتار فروغ کے لیے ضروری ترسیلی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال 2032 تک کا ٹرانسمیشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے۔
۶۔قابل تجدید توانائی کے انخلا کے لیے گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے اور نئی سب اسٹیشن کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کی گئی ہے ۔
۷۔بڑے پیمانے پر آر ای پروجیکٹوں کی تنصیب کے لیے آر ای ڈویلپرز کو زمین اور ٹرانسمیشن فراہم کرنے کے لیے سولر پارکس اور الٹرا میگا سولر پاور پروجیکٹوں کے قیام کی اسکیم نافذ کی جا رہی ہے ۔
۸۔پردھان منتری کسان ارجا سورکشیوم اتھان مہابھیان (پی ایم-کسم) پی ایم سوریا گھر مفٹ بجلی یوجنا ، اعلی کارکردگی والے شمسی پی وی ماڈیولز پر قومی پروگرام ، پردھان منتری جنجتی آدیواسی نیا مہا ابھیان (پی ایم جنمن) اور دھرتی ابھا جنجتی گراماتی اتکرش ابھیان (ڈی اے جے جی یو اے) نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن ، آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹوں کے لیے وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) اسکیم جیسی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔
۹۔قابل تجدید توانائی کی کھپت کی حوصلہ افزائی کے لیے قابل تجدید خریداری کی ذمہ داری (آر پی او) کے بعد قابل تجدید کھپت کی ذمہ داری (آر سی او) کو 2029-30 تک نوٹیفائی کیا گیا ہے ۔ آر سی او جو کہ انرجی کنزرویشن ایکٹ ، 2001 کے تحت تمام نامزد صارفین پر لاگو ہوتا ہے ، عدم تعمیل پر جرمانے عائد کئے جائیں گے ۔
۱۰۔ "آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹس کے قیام کے لیے حکمت عملی" جاری کی گئی ہے ۔
۱۱۔تبادلے کے ذریعے قابل تجدید توانائی کی فروخت کو آسان بنانے کے لیے گرین ڈے ایہیڈ مارکیٹ (جی ڈی اے ایم) اور گرین ٹرم ایہیڈ مارکیٹ (جی ٹی اے ایم) کا آغاز کیا گیا ہے ۔
۱۲۔شمسی پی وی ماڈیولز کے لیے سپلائی چین کی لوکلائزیشن کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم شروع کی گئی ہے ۔
ٹیبل-1
گزشتہ تین سالوں اور موجودہ سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے دوران ملک کی اصل بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی تفصیلات، توانائی اور زیادہ سے زیادہ مانگ کے لحاظ سے۔
|
Financial Year
|
Energy Requirement
|
Energy Supplied
|
Energy not Supplied
|
Peak Demand
|
Peak Met
|
Demand not Met
|
|
(MU)
|
(MU)
|
(MU)
|
(%)
|
(MW)
|
(MW)
|
(MW)
|
(%)
|
|
2022-23
|
15,13,497
|
15,05,914
|
7,583
|
0.5
|
2,15,888
|
2,07,231
|
8,657
|
4.0
|
|
2023-24
|
16,26,132
|
16,22,020
|
4,112
|
0.3
|
2,43,271
|
2,39,931
|
3,340
|
1.4
|
|
2024-25
|
16,93,959
|
16,92,369
|
1,590
|
0.1
|
2,49,856
|
2,49,854
|
2
|
0.0
|
|
2025-26 (upto February, 2026)
|
15,59,347
|
15,58,892
|
454
|
0.0
|
2,45,444
|
2,45,416
|
28
|
0.0
|
ٹیبل-2
Power Supply Position – Energy
|
|
|
|
|
|
|
( Figures in MU net )
|
|
State/
|
April, 2022 - March, 2023
|
April, 2023 - March, 2024
|
|
System /
|
Energy Requirement
|
Energy Supplied
|
Energy not Supplied
|
Energy Requirement
|
Energy Supplied
|
Energy not Supplied
|
|
Region
|
( MU )
|
( MU )
|
( MU )
|
( % )
|
( MU )
|
( MU )
|
(MU)
|
( % )
|
|
Chandigarh
|
1,788
|
1,788
|
0
|
0.0
|
1,789
|
1,789
|
0
|
0.0
|
|
Delhi
|
35,143
|
35,133
|
10
|
0.0
|
35,501
|
35,496
|
5
|
0.0
|
|
Haryana
|
61,451
|
60,945
|
506
|
0.8
|
63,983
|
63,636
|
348
|
0.5
|
|
Himachal Pradesh
|
12,649
|
12,542
|
107
|
0.8
|
12,805
|
12,767
|
38
|
0.3
|
|
Jammu & Kashmir
|
19,639
|
19,322
|
317
|
1.6
|
20,040
|
19,763
|
277
|
1.4
|
|
Punjab
|
69,522
|
69,220
|
302
|
0.4
|
69,533
|
69,528
|
5
|
0.0
|
|
Rajasthan
|
1,01,801
|
1,00,057
|
1,745
|
1.7
|
1,07,422
|
1,06,806
|
616
|
0.6
|
|
Uttar Pradesh
|
1,44,251
|
1,43,050
|
1,201
|
0.8
|
1,48,791
|
1,48,287
|
504
|
0.3
|
|
Uttarakhand
|
15,647
|
15,386
|
261
|
1.7
|
15,644
|
15,532
|
112
|
0.7
|
|
Northern Region
|
4,63,088
|
4,58,640
|
4,449
|
1.0
|
4,76,852
|
4,74,946
|
1,906
|
0.4
|
|
Chhattisgarh
|
37,446
|
37,374
|
72
|
0.2
|
39,930
|
39,872
|
58
|
0.1
|
|
Gujarat
|
1,39,043
|
1,38,999
|
44
|
0.0
|
1,45,768
|
1,45,740
|
28
|
0.0
|
|
Madhya Pradesh
|
92,683
|
92,325
|
358
|
0.4
|
99,301
|
99,150
|
151
|
0.2
|
|
Maharashtra
|
1,87,309
|
1,87,197
|
111
|
0.1
|
2,07,108
|
2,06,931
|
176
|
0.1
|
|
Dadra & Nagar Haveli and Daman & Diu
|
10,018
|
10,018
|
0
|
0.0
|
10,164
|
10,164
|
0
|
0.0
|
|
Goa
|
4,669
|
4,669
|
0
|
0.0
|
5,111
|
5,111
|
0
|
0.0
|
|
Western Region
|
4,77,393
|
4,76,808
|
586
|
0.1
|
5,17,714
|
5,17,301
|
413
|
0.1
|
|
Andhra Pradesh
|
72,302
|
71,893
|
410
|
0.6
|
80,209
|
80,151
|
57
|
0.1
|
|
Telangana
|
77,832
|
77,799
|
34
|
0.0
|
84,623
|
84,613
|
9
|
0.0
|
|
Karnataka
|
75,688
|
75,663
|
26
|
0.0
|
94,088
|
93,934
|
154
|
0.2
|
|
Kerala
|
27,747
|
27,726
|
21
|
0.1
|
30,943
|
30,938
|
5
|
0.0
|
|
Tamil Nadu
|
1,14,798
|
1,14,722
|
77
|
0.1
|
1,26,163
|
1,26,151
|
12
|
0.0
|
|
Puducherry
|
3,051
|
3,050
|
1
|
0.0
|
3,456
|
3,455
|
1
|
0.0
|
|
Lakshadweep (#)
|
64
|
64
|
0
|
0.0
|
64
|
64
|
0
|
0.0
|
|
Southern Region
|
3,71,467
|
3,70,900
|
567
|
0.2
|
4,19,531
|
4,19,293
|
238
|
0.1
|
|
Bihar
|
39,545
|
38,762
|
783
|
2.0
|
41,514
|
40,918
|
596
|
1.4
|
|
DVC
|
26,339
|
26,330
|
9
|
0.0
|
26,560
|
26,552
|
8
|
0.0
|
|
Jharkhand
|
13,278
|
12,288
|
990
|
7.5
|
14,408
|
13,858
|
550
|
3.8
|
|
Odisha
|
42,631
|
42,584
|
47
|
0.1
|
41,358
|
41,333
|
25
|
0.1
|
|
West Bengal
|
60,348
|
60,274
|
74
|
0.1
|
67,576
|
67,490
|
86
|
0.1
|
|
Sikkim
|
587
|
587
|
0
|
0.0
|
544
|
543
|
0
|
0.0
|
|
Andaman- Nicobar (#)
|
348
|
348
|
0
|
0.12914
|
386
|
374
|
12
|
3.2
|
|
Eastern Region
|
1,82,791
|
1,80,888
|
1,903
|
1.0
|
1,92,013
|
1,90,747
|
1,266
|
0.7
|
|
Arunachal Pradesh
|
915
|
892
|
24
|
2.6
|
1,014
|
1,014
|
0
|
0.0
|
|
Assam
|
11,465
|
11,465
|
0
|
0.0
|
12,445
|
12,341
|
104
|
0.8
|
|
Manipur
|
1,014
|
1,014
|
0
|
0.0
|
1,023
|
1,008
|
15
|
1.5
|
|
Meghalaya
|
2,237
|
2,237
|
0
|
0.0
|
2,236
|
2,066
|
170
|
7.6
|
|
Mizoram
|
645
|
645
|
0
|
0.0
|
684
|
684
|
0
|
0.0
|
|
Nagaland
|
926
|
873
|
54
|
5.8
|
921
|
921
|
0
|
0.0
|
|
Tripura (##)
|
1,547
|
1,547
|
0
|
0.0
|
1,691
|
1,691
|
0
|
0.0
|
|
North-Eastern Region
|
18,758
|
18,680
|
78
|
0.4
|
20,022
|
19,733
|
289
|
1.4
|
|
All India
|
15,13,497
|
15,05,914
|
7,583
|
0.5
|
16,26,132
|
16,22,020
|
4,112
|
0.3
|
(#) لکشدیپ اور انڈمان و نکوبار جزائر علیحدہ (اسٹینڈ الون) نظام ہیں، اس لیے ان کی بجلی کی فراہمی کی صورتحال کو علاقائی طلب اور فراہمی کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔
(##) بنگلہ دیش کو برآمد کی جانے والی بجلی کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
نوٹ: بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی رپورٹ ریاستی یوٹیلیٹیز/بجلی محکموں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
بجلی کی فراہمی کی صورتحال - توانائی
|
|
|
|
|
|
|
( Figures in MU net )
|
|
State/
|
April, 2024 - March, 2025
|
April, 2025 - February, 2026
|
|
System /
|
Energy Requirement
|
Energy Supplied
|
Energy not Supplied
|
Energy Requirement
|
Energy Supplied
|
Energy not Supplied
|
|
Region
|
( MU )
|
( MU )
|
( MU )
|
( % )
|
( MU )
|
( MU )
|
( MU )
|
( % )
|
|
Chandigarh
|
1,952
|
1,952
|
0
|
0.0
|
1,765
|
1,764
|
1
|
0.0
|
|
Delhi
|
38,255
|
38,243
|
12
|
0.0
|
36,023
|
36,015
|
8
|
0.0
|
|
Haryana
|
70,149
|
70,120
|
30
|
0.0
|
65,694
|
65,629
|
65
|
0.1
|
|
Himachal Pradesh
|
13,566
|
13,526
|
40
|
0.3
|
12,600
|
12,556
|
44
|
0.3
|
|
Jammu & Kashmir
|
20,374
|
20,283
|
90
|
0.4
|
18,501
|
18,484
|
17
|
0.1
|
|
Punjab
|
77,423
|
77,423
|
0
|
0.0
|
70,563
|
70,490
|
73
|
0.1
|
|
Rajasthan
|
1,13,833
|
1,13,529
|
304
|
0.3
|
1,02,187
|
1,02,187
|
0
|
0.0
|
|
Uttar Pradesh
|
1,65,090
|
1,64,786
|
304
|
0.2
|
1,51,573
|
1,51,548
|
26
|
0.0
|
|
Uttarakhand
|
16,770
|
16,727
|
43
|
0.3
|
15,290
|
15,236
|
54
|
0.4
|
|
Northern Region
|
5,18,869
|
5,17,917
|
952
|
0.2
|
4,75,646
|
4,75,360
|
286
|
0.1
|
|
Chhattisgarh
|
43,208
|
43,180
|
28
|
0.1
|
38,547
|
38,538
|
8
|
0.0
|
|
Gujarat
|
1,51,878
|
1,51,875
|
3
|
0.0
|
1,42,970
|
1,42,969
|
0
|
0.0
|
|
Madhya Pradesh
|
1,04,445
|
1,04,312
|
133
|
0.1
|
94,890
|
94,879
|
10
|
0.0
|
|
Maharashtra
|
2,01,816
|
2,01,757
|
59
|
0.0
|
1,83,454
|
1,83,446
|
9
|
0.0
|
|
Dadra & Nagar Haveli and Daman & Diu
|
10,852
|
10,852
|
0
|
0.0
|
10,251
|
10,251
|
0
|
0.0
|
|
Goa
|
5,411
|
5,411
|
0
|
0.0
|
4,943
|
4,943
|
0
|
0.0
|
|
Western Region
|
5,28,924
|
5,28,701
|
223
|
0.0
|
4,87,565
|
4,87,537
|
28
|
0.0
|
|
Andhra Pradesh
|
79,028
|
79,025
|
3
|
0.0
|
73,109
|
73,102
|
7
|
0.0
|
|
Telangana
|
88,262
|
88,258
|
4
|
0.0
|
77,291
|
77,283
|
8
|
0.0
|
|
Karnataka
|
92,450
|
92,446
|
4
|
0.0
|
85,519
|
85,509
|
11
|
0.0
|
|
Kerala
|
31,624
|
31,616
|
8
|
0.0
|
28,098
|
28,095
|
3
|
0.0
|
|
Tamil Nadu
|
1,30,413
|
1,30,408
|
5
|
0.0
|
1,20,162
|
1,20,151
|
11
|
0.0
|
|
Puducherry
|
3,549
|
3,549
|
0
|
0.0
|
3,202
|
3,198
|
3
|
0.1
|
|
Lakshadweep (#)
|
68
|
68
|
0
|
0.0
|
66
|
66
|
0
|
0.0
|
|
Southern Region
|
4,25,373
|
4,25,349
|
24
|
0.0
|
3,87,426
|
3,87,383
|
43
|
0.0
|
|
Bihar
|
44,393
|
44,217
|
176
|
0.4
|
43,751
|
43,737
|
14
|
0.0
|
|
DVC
|
25,891
|
25,888
|
3
|
0.0
|
22,636
|
22,633
|
3
|
0.0
|
|
Jharkhand
|
15,203
|
15,126
|
77
|
0.5
|
14,121
|
14,116
|
5
|
0.0
|
|
Odisha
|
42,882
|
42,858
|
24
|
0.1
|
40,490
|
40,484
|
6
|
0.0
|
|
West Bengal
|
71,180
|
71,085
|
95
|
0.1
|
66,876
|
66,812
|
64
|
0.1
|
|
Sikkim
|
574
|
574
|
0
|
0.0
|
501
|
501
|
0
|
0.0
|
|
Andaman- Nicobar (#)
|
425
|
413
|
12
|
2.9
|
389
|
370
|
19
|
4.9
|
|
Eastern Region
|
2,00,180
|
1,99,806
|
374
|
0.2
|
1,88,432
|
1,88,339
|
93
|
0.0
|
|
Arunachal Pradesh
|
1,050
|
1,050
|
0
|
0.0
|
1,098
|
1,097
|
0
|
0.0
|
|
Assam
|
12,843
|
12,837
|
6
|
0.0
|
12,711
|
12,710
|
1
|
0.0
|
|
Manipur
|
1,079
|
1,068
|
10
|
0.9
|
1,082
|
1,079
|
3
|
0.2
|
|
Meghalaya
|
2,046
|
2,046
|
0
|
0.0
|
1,917
|
1,917
|
0
|
0.0
|
|
Mizoram
|
709
|
709
|
0
|
0.0
|
691
|
691
|
0
|
0.0
|
|
Nagaland
|
938
|
938
|
0
|
0.0
|
922
|
922
|
0
|
0.0
|
|
Tripura (##)
|
1,939
|
1,939
|
0
|
0.0
|
1,770
|
1,770
|
0
|
0.0
|
|
North-Eastern Region
|
20,613
|
20,596
|
16
|
0.1
|
20,277
|
20,274
|
4
|
0.0
|
|
All India
|
16,93,959
|
16,92,369
|
1,590
|
0.1
|
15,59,347
|
15,58,892
|
454
|
0.0
|
(#) لکشدیپ اور انڈمان و نکوبار جزائر میں اسٹینڈ الون نظام ہیں، اس لیے ان کی بجلی کی فراہمی کی صورتحال علاقائی طلب اور فراہمی کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کی جاتی۔
(##) اس میں بنگلہ دیش کو برآمد کی جانے والی توانائی شامل نہیں ہے۔
نوٹ: بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی رپورٹ ریاستی یوٹیلیٹیز/بجلی محکموں کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
یہ معلومات بجلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب شری پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی ۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ش ہ ب)
U.No. 6169
(ریلیز آئی ڈی: 2254546)
|