بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجلی کی فراہمی، زیادہ سے زیادہ مانگ اور کوئلے کی دستیابی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAR 2026 4:18PM by PIB Delhi

ملک میں بجلی کی دستیابی مناسب مقدار میں موجود ہے۔ 28 فروری 2026 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت 524 گیگاواٹ(جی ڈبلیو) ہے۔ حکومتِ ہند نے اپریل 2014 سے اب تک 299.87 گیگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرکے بجلی کی کمی کے اہم مسئلے کو حل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بجلی کی قلت سے نکل کر خود کفالت کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

ملک نے مالی سال 2024-25 میں کامیابی کے ساتھ 250 گیگاواٹ کی اب تک کی بلند ترین زیادہ سے زیادہ مانگ پوری کی۔ گزشتہ تین مالی سالوں اور موجودہ مالی سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے دوران زیادہ سے زیادہ مانگ اور توانائی کی ضرورت کے حوالے سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال(پاور سپلائی پوزیشن) کی تفصیلات جدول-1 میں دی گئی ہیں۔اسی طرح، گزشتہ تین مالی سالوں اور موجودہ مالی سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے لیے ریاست وار توانائی کے لحاظ سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال(پاور سپلائی پوزیشن)  کی تفصیلات جدول-2 میں فراہم کی گئی ہیں۔فراہم کی گئی توانائی اور پوری کی گئی زیادہ سے زیادہ مانگ عموماً توانائی کی ضرورت اور زیادہ سے زیادہ مانگ کے مطابق رہی ہے، جس میں صرف معمولی فرق پایا گیا ہے، جو عموماً ریاستی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود رکاوٹوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

22 مارچ 2026 تک ملک کے کوئلہ پر مبنی بجلی گھروں کے پاس تقریباً 58.2 ملین ٹن(ا یم ٹی ) کوئلے کا ذخیرہ موجود ہے، جو 85 فیصد پلانٹ لوڈ فیکٹر (پی ایل ایف) پر اوسطاً 19 دن تک بجلی گھروں کو چلانے کے لیے کافی ہے۔

حکومت ہند نے آنے والے سالوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

  1. پیداوار اور ذخیرہ بندی کی منصوبہ بندی:

i.نیشنل الیکٹرسیٹی پلان(این ای پی )کے مطابق 2031-32 تک ملک میں نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت تقریباً 874 گیگاواٹ ہونے کا امکان ہے۔ متوقع زیادہ سے زیادہ مانگ سے آگے پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ریاستوں نے سی ای اےکے مشورے سے اپنے ریسورس ایڈیکویسی پلانز (آر اے پی)تیار کیے ہیں، جو متحرک 10 سالہ رولنگ منصوبے ہیں اور ان میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ بجلی کی خریداری کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

ii. تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے وسائل کی کافی مقدار کے منصوبوں کے مطابق تمام پیداواری ذرائع سے پیداواری صلاحیت پیدا کرنے/معاہدہ کرنے کا عمل شروع کریں ۔

iii. بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے حکومتِ ہند نے درج ذیل صلاحیت میں اضافے کے پروگرام شروع کیے ہیں:

  • سال 2034-35 تک تھرمل (کوئلہ اور لِگنائٹ) بجلی کی متوقع ضرورت تقریباً 3,07,000 میگاواٹ ہے، جبکہ 31.03.2023 تک نصب شدہ صلاحیت 2,11,855 میگاواٹ تھی۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وزارتِ بجلی نے کم از کم 97,000 میگاواٹ اضافی کوئلہ اور لِگنائٹ پر مبنی حرارتی بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔          

مزید برآں درج ذیل اقدامات بھی کئے گئے ہیں: -

اپریل 2023 سے 31 جنوری 2026 تک تقریباً 18,160 میگاواٹ حرارتی (تھرمل) صلاحیت کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 38,745 میگاواٹ حرارتی صلاحیت اس وقت زیرِ تعمیر ہے، (جس میں 4,845 میگاواٹ کے دباؤ میں موجود (اسٹریسڈ) پاور پروجیکٹس بھی شامل ہیں)۔مزید یہ کہ 22,920 میگاواٹ کے منصوبوں کے معاہدے کیے جا چکے ہیں اور ان کی تعمیر کا آغاز ہونا باقی ہے۔ اسی طرح ملک میں کوئلہ اور لِگنائٹ پر مبنی 24,020 میگاواٹ اضافی ممکنہ صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے جو مختلف منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔

(ب) 31.01.2026 تک 12,723.50 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں ۔  مزید برآں 4,274 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ منصوبہ بندی کے مختلف مراحل میں ہیں اور انہیں 2031-32 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے ۔

(سی)31 جنوری 2026 تک 6,600 میگاواٹ جوہری (نیوکلیئر) بجلی کی صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جس کی تکمیل کا ہدف 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔ مزید 7,000 میگاواٹ جوہری صلاحیت مختلف منصوبہ بندی اور منظوری کے مراحل میں ہے۔

(ڈی )31جنوری 2026 تک مجموعی طور پر 1,54,830 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جس میں 64,670 میگاواٹ شمسی توانائی، 6,490 میگاواٹ ہوا (ونڈ)سے پیدا ہونے والی توانائی اور 59,990 میگاواٹ ہائبرڈ پاور شامل ہے۔اسی طرح 47,920 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت مختلف منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے، جس میں 35,440 میگاواٹ سولر اور 10,080 میگاواٹ ہائبرڈ پاور شامل ہے، اور اس کی تکمیل کا ہدف 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔

(ای) توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں 31 جنوری 2026 تک 13,120 میگاواٹ / 78,720 میگاواٹ آور کی پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (پی ایس پی) زیرِ تعمیر ہیں۔ مزید 9,580 میگاواٹ / 57,480 میگاواٹ صلاحیت کی پی ایس پی صلاحیت کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن ابھی تعمیر شروع نہیں ہوئی۔اسی طرح 31 جنوری 2026 تک 10,658.94 میگاواٹ / 28,739.32 میگاواٹ کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جبکہ 22,347.15 میگاواٹ / 69,836.70 میگاواٹ آور کی بی ای ایس  ایس صلاحیت ٹینڈرنگ کے مرحلے میں ہے۔

  1. ترسیل (ٹرانسمیشن) کی منصوبہ بندی:

۱۔انٹراسٹیٹ اور انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن نظام کی منصوبہ بندی بجلی پیداوار میں اضافے کے مطابق کی گئی ہے، اور اس پر عملدرآمد بھی اسی ہم آہنگ ٹائم فریم میں کیا جا رہا ہے۔نیشنل الیکٹرسیٹی پلان کے مطابق، سال 2022-23 سے 2031-32 کے دس سالہ عرصے کے دوران 220 کے وی اور اس سے اوپر کے وولٹیج سطح پر تقریباً 1,91,474 سی کے ایم ٹرانسمیشن لائنیں اور 1,274 جی وی اے  کی ٹرانسفارمیشن صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس کے علاوہ وزارتِ بجلی نے 14.06.2024، 21.03.2025 اور 15.12.2025 کو رہنمائی اصول جاری کیے ہیں، جن میں ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے رائٹ آف وے(آر او ڈبلیو) کے تحت معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ ان ہدایات کے مطابق زمین کی قیمت کو موجودہ مارکیٹ ریٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔یہ رہنما اصول اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں جس میں زمین مالکان ریاستی حکومت کی مقرر کردہ شرحوں سے زیادہ معاوضے کا مطالبہ کرتے ہیں، جس سے ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے زمین کے حصول میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

3 .قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کا فروغ:

۱۔سو فیصد انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس) چارجز کو سولر اور ونڈ پاور کے ان منصوبوں کی بین ریاستی فروخت کے لیے معاف کر دیا گیا ہے جو 30 جون 2025 تک مکمل ہوں گے۔ یہ چھوٹ بعد میں ہر سال 25 فیصد کے حساب سے کم ہوتی جائے گی اور جون 2028 تک ختم ہو جائے گی۔اسی طرح یہ رعایت ان کو-لوکیٹڈبی ای ایس ایس  منصوبوں کے لیے بھی ہے جو جون 2028 تک مکمل ہوں گے، ہائیڈرو پمپڈ اسٹوریج (پی ایس پی) منصوبوں کے لیے بھی جہاں تعمیراتی کام جون 2028 تک شروع ہو چکا ہو، گرین ہائیڈروجن منصوبوں کے لیے جو دسمبر 2030 تک مکمل ہوں، اور آف شور ونڈ منصوبوں کے لیے جو دسمبر 2032 تک مکمل ہوں گے۔

۲۔گرڈ سے منسلک شمسی ، ونڈ ، ونڈ سولر ہائبرڈ اور فرم اور ڈسپیچ ایبل آر ای (ایف ڈی آر ای) پروجیکٹوں سے بجلی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے معیاری بولی کے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں ۔

۳۔قابل تجدید توانائی کے نفاذ کی ایجنسیاں (آر ای آئی اے) آر ای بجلی کی خریداری کے لیے باقاعدگی سے بولیاں طلب کر رہی ہیں ۔

۴۔آٹومیٹک روٹ کے تحت 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی ہے ۔

۵۔قابلِ تجدید توانائی کے تیز رفتار فروغ کے لیے ضروری ترسیلی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال 2032 تک کا ٹرانسمیشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے۔

۶۔قابل تجدید توانائی کے انخلا کے لیے گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی انٹرا اسٹیٹ ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے اور نئی سب اسٹیشن کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کی گئی ہے ۔

۷۔بڑے پیمانے پر آر ای پروجیکٹوں کی تنصیب کے لیے آر ای ڈویلپرز کو زمین اور ٹرانسمیشن فراہم کرنے کے لیے سولر پارکس اور الٹرا میگا سولر پاور پروجیکٹوں کے قیام کی اسکیم نافذ کی جا رہی ہے ۔

۸۔پردھان منتری کسان ارجا سورکشیوم اتھان مہابھیان (پی ایم-کسم) پی ایم سوریا گھر مفٹ بجلی یوجنا ، اعلی کارکردگی والے شمسی پی وی ماڈیولز پر قومی پروگرام ، پردھان منتری جنجتی آدیواسی نیا مہا ابھیان (پی ایم جنمن) اور دھرتی ابھا جنجتی گراماتی اتکرش ابھیان (ڈی اے جے جی یو اے) نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن ، آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹوں کے لیے وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) اسکیم جیسی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔

۹۔قابل تجدید توانائی کی کھپت کی حوصلہ افزائی کے لیے قابل تجدید خریداری کی ذمہ داری (آر پی او) کے بعد قابل تجدید کھپت کی ذمہ داری (آر سی او) کو 2029-30 تک نوٹیفائی کیا گیا ہے ۔  آر سی او جو کہ انرجی کنزرویشن ایکٹ ، 2001 کے تحت تمام نامزد صارفین پر لاگو ہوتا ہے ، عدم تعمیل پر جرمانے عائد کئے جائیں گے ۔

۱۰۔ "آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹس کے قیام کے لیے حکمت عملی" جاری کی گئی ہے ۔

 ۱۱۔تبادلے کے ذریعے قابل تجدید توانائی کی فروخت کو آسان بنانے کے لیے گرین ڈے ایہیڈ مارکیٹ (جی ڈی اے ایم) اور گرین ٹرم ایہیڈ مارکیٹ (جی ٹی اے ایم) کا آغاز کیا گیا ہے ۔

 ۱۲۔شمسی پی وی ماڈیولز کے لیے سپلائی چین کی لوکلائزیشن کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پروڈکشن سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم شروع کی گئی ہے ۔

ٹیبل-1

گزشتہ تین سالوں اور موجودہ سال 2025-26 (فروری 2026 تک) کے دوران ملک کی اصل بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی تفصیلات، توانائی  اور زیادہ سے زیادہ مانگ کے لحاظ سے۔

Financial Year

Energy Requirement

Energy Supplied

Energy not Supplied

Peak Demand

Peak Met

Demand not Met

(MU)

(MU)

(MU)

(%)

(MW)

(MW)

(MW)

(%)

2022-23

15,13,497

15,05,914

7,583

0.5

2,15,888

2,07,231

8,657

4.0

2023-24

16,26,132

16,22,020

4,112

0.3

2,43,271

2,39,931

3,340

1.4

2024-25

16,93,959

16,92,369

1,590

0.1

2,49,856

2,49,854

2

0.0

2025-26 (upto February, 2026)

15,59,347

15,58,892

454

0.0

2,45,444

2,45,416

28

0.0

 

 

ٹیبل-2

Power Supply Position – Energy

 

 

 

 

 

 

( Figures in MU net )

State/

April, 2022 - March, 2023

April, 2023 - March, 2024

System /

Energy Requirement

Energy Supplied

Energy not Supplied

Energy Requirement

Energy Supplied

Energy not Supplied

Region

( MU )

( MU )

( MU )

( % )

( MU )

( MU )

(MU)

( % )

Chandigarh

1,788

1,788

0

0.0

1,789

1,789

0

0.0

Delhi

35,143

35,133

10

0.0

35,501

35,496

5

0.0

Haryana

61,451

60,945

506

0.8

63,983

63,636

348

0.5

Himachal Pradesh

12,649

12,542

107

0.8

12,805

12,767

38

0.3

Jammu & Kashmir

19,639

19,322

317

1.6

20,040

19,763

277

1.4

Punjab

69,522

69,220

302

0.4

69,533

69,528

5

0.0

Rajasthan

1,01,801

1,00,057

1,745

1.7

1,07,422

1,06,806

616

0.6

Uttar Pradesh

1,44,251

1,43,050

1,201

0.8

1,48,791

1,48,287

504

0.3

Uttarakhand

15,647

15,386

261

1.7

15,644

15,532

112

0.7

Northern Region

4,63,088

4,58,640

4,449

1.0

4,76,852

4,74,946

1,906

0.4

Chhattisgarh

37,446

37,374

72

0.2

39,930

39,872

58

0.1

Gujarat

1,39,043

1,38,999

44

0.0

1,45,768

1,45,740

28

0.0

Madhya Pradesh

92,683

92,325

358

0.4

99,301

99,150

151

0.2

Maharashtra

1,87,309

1,87,197

111

0.1

2,07,108

2,06,931

176

0.1

Dadra & Nagar Haveli and Daman & Diu

10,018

10,018

0

0.0

10,164

10,164

0

0.0

Goa

4,669

4,669

0

0.0

5,111

5,111

0

0.0

Western Region

4,77,393

4,76,808

586

0.1

5,17,714

5,17,301

413

0.1

Andhra Pradesh

72,302

71,893

410

0.6

80,209

80,151

57

0.1

Telangana

77,832

77,799

34

0.0

84,623

84,613

9

0.0

Karnataka

75,688

75,663

26

0.0

94,088

93,934

154

0.2

Kerala

27,747

27,726

21

0.1

30,943

30,938

5

0.0

Tamil Nadu

1,14,798

1,14,722

77

0.1

1,26,163

1,26,151

12

0.0

Puducherry

3,051

3,050

1

0.0

3,456

3,455

1

0.0

Lakshadweep (#)

64

64

0

0.0

64

64

0

0.0

Southern Region

3,71,467

3,70,900

567

0.2

4,19,531

4,19,293

238

0.1

Bihar

39,545

38,762

783

2.0

41,514

40,918

596

1.4

DVC

26,339

26,330

9

0.0

26,560

26,552

8

0.0

Jharkhand

13,278

12,288

990

7.5

14,408

13,858

550

3.8

Odisha

42,631

42,584

47

0.1

41,358

41,333

25

0.1

West Bengal

60,348

60,274

74

0.1

67,576

67,490

86

0.1

Sikkim

587

587

0

0.0

544

543

0

0.0

Andaman- Nicobar (#)

348

348

0

0.12914

386

374

12

3.2

Eastern Region

1,82,791

1,80,888

1,903

1.0

1,92,013

1,90,747

1,266

0.7

Arunachal Pradesh

915

892

24

2.6

1,014

1,014

0

0.0

Assam

11,465

11,465

0

0.0

12,445

12,341

104

0.8

Manipur

1,014

1,014

0

0.0

1,023

1,008

15

1.5

Meghalaya

2,237

2,237

0

0.0

2,236

2,066

170

7.6

Mizoram

645

645

0

0.0

684

684

0

0.0

Nagaland

926

873

54

5.8

921

921

0

0.0

Tripura (##)

1,547

1,547

0

0.0

1,691

1,691

0

0.0

North-Eastern Region

18,758

18,680

78

0.4

20,022

19,733

289

1.4

All India

15,13,497

15,05,914

7,583

0.5

16,26,132

16,22,020

4,112

0.3

 

(#) لکشدیپ اور انڈمان و نکوبار جزائر علیحدہ (اسٹینڈ الون) نظام ہیں، اس لیے ان کی بجلی کی فراہمی کی صورتحال کو علاقائی طلب اور فراہمی کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔

(##) بنگلہ دیش کو برآمد کی جانے والی بجلی کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

نوٹ: بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی رپورٹ ریاستی یوٹیلیٹیز/بجلی محکموں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

بجلی کی فراہمی کی صورتحال - توانائی

 

 

 

 

 

 

( Figures in MU net )

State/

April, 2024 - March, 2025

April, 2025 - February, 2026

System /

Energy Requirement

Energy Supplied

Energy not Supplied

Energy Requirement

Energy Supplied

Energy not Supplied

Region

( MU )

( MU )

( MU )

( % )

( MU )

( MU )

( MU )

( % )

Chandigarh

1,952

1,952

0

0.0

1,765

1,764

1

0.0

Delhi

38,255

38,243

12

0.0

36,023

36,015

8

0.0

Haryana

70,149

70,120

30

0.0

65,694

65,629

65

0.1

Himachal Pradesh

13,566

13,526

40

0.3

12,600

12,556

44

0.3

Jammu & Kashmir

20,374

20,283

90

0.4

18,501

18,484

17

0.1

Punjab

77,423

77,423

0

0.0

70,563

70,490

73

0.1

Rajasthan

1,13,833

1,13,529

304

0.3

1,02,187

1,02,187

0

0.0

Uttar Pradesh

1,65,090

1,64,786

304

0.2

1,51,573

1,51,548

26

0.0

Uttarakhand

16,770

16,727

43

0.3

15,290

15,236

54

0.4

Northern Region

5,18,869

5,17,917

952

0.2

4,75,646

4,75,360

286

0.1

Chhattisgarh

43,208

43,180

28

0.1

38,547

38,538

8

0.0

Gujarat

1,51,878

1,51,875

3

0.0

1,42,970

1,42,969

0

0.0

Madhya Pradesh

1,04,445

1,04,312

133

0.1

94,890

94,879

10

0.0

Maharashtra

2,01,816

2,01,757

59

0.0

1,83,454

1,83,446

9

0.0

Dadra & Nagar Haveli and Daman & Diu

10,852

10,852

0

0.0

10,251

10,251

0

0.0

Goa

5,411

5,411

0

0.0

4,943

4,943

0

0.0

Western Region

5,28,924

5,28,701

223

0.0

4,87,565

4,87,537

28

0.0

Andhra Pradesh

79,028

79,025

3

0.0

73,109

73,102

7

0.0

Telangana

88,262

88,258

4

0.0

77,291

77,283

8

0.0

Karnataka

92,450

92,446

4

0.0

85,519

85,509

11

0.0

Kerala

31,624

31,616

8

0.0

28,098

28,095

3

0.0

Tamil Nadu

1,30,413

1,30,408

5

0.0

1,20,162

1,20,151

11

0.0

Puducherry

3,549

3,549

0

0.0

3,202

3,198

3

0.1

Lakshadweep (#)

68

68

0

0.0

66

66

0

0.0

Southern Region

4,25,373

4,25,349

24

0.0

3,87,426

3,87,383

43

0.0

Bihar

44,393

44,217

176

0.4

43,751

43,737

14

0.0

DVC

25,891

25,888

3

0.0

22,636

22,633

3

0.0

Jharkhand

15,203

15,126

77

0.5

14,121

14,116

5

0.0

Odisha

42,882

42,858

24

0.1

40,490

40,484

6

0.0

West Bengal

71,180

71,085

95

0.1

66,876

66,812

64

0.1

Sikkim

574

574

0

0.0

501

501

0

0.0

Andaman- Nicobar (#)

425

413

12

2.9

389

370

19

4.9

Eastern Region

2,00,180

1,99,806

374

0.2

1,88,432

1,88,339

93

0.0

Arunachal Pradesh

1,050

1,050

0

0.0

1,098

1,097

0

0.0

Assam

12,843

12,837

6

0.0

12,711

12,710

1

0.0

Manipur

1,079

1,068

10

0.9

1,082

1,079

3

0.2

Meghalaya

2,046

2,046

0

0.0

1,917

1,917

0

0.0

Mizoram

709

709

0

0.0

691

691

0

0.0

Nagaland

938

938

0

0.0

922

922

0

0.0

Tripura (##)

1,939

1,939

0

0.0

1,770

1,770

0

0.0

North-Eastern Region

20,613

20,596

16

0.1

20,277

20,274

4

0.0

All India

16,93,959

16,92,369

1,590

0.1

15,59,347

15,58,892

454

0.0

(#) لکشدیپ اور انڈمان و نکوبار جزائر میں اسٹینڈ الون نظام ہیں، اس لیے ان کی بجلی کی فراہمی کی صورتحال علاقائی طلب اور فراہمی کے اعداد و شمار میں شامل نہیں کی جاتی۔

(##) اس میں بنگلہ دیش کو برآمد کی جانے والی توانائی شامل نہیں ہے۔

نوٹ: بجلی کی فراہمی کی صورتحال کی رپورٹ ریاستی یوٹیلیٹیز/بجلی محکموں کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

یہ معلومات بجلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب شری پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی ۔

********

) ش ح ۔ ش آ۔ش ہ ب)

U.No. 6169


(ریلیز آئی ڈی: 2254546) وزیٹر کاؤنٹر : 23
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी