PIB Backgrounder
ہندوستان کا سبز راستہ
تحفظ سے لے کر کلائمیٹ ایکشن تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 APR 2026 4:49PM by PIB Delhi
تعارف
اکیسویں صدی میں ترقی اور ماحول کے درمیان تعلق پالیسی مباحثے کے حاشیہ سے نکل کر قومی فیصلہ سازی کے مرکز تک آ پہنچا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ کام خاص طور پر پیچیدہ ہے، کیونکہ اسے تیز رفتار معاشی ترقی کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی اقدامات کے ساتھ متوازن رکھنا ہے۔
ہندوستان کے سبز راستے(گرین پاتھ وے) کی کلید اس سمجھ میں ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی قومی پیش رفت کے باہمی طور پر تقویت دینے والے ستون ہیں۔ یہ ویژن موسمیاتی تبدیلی کی موجودہ حقیقت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مختلف خطوں اور شعبوں میں واضح ہوتے جا رہے ہیں، ملک نے اسے کسی دور کے خطرے کے بجائے ایک موجودہ ترقیاتی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے، جس کے لیے تیاری اور پیشگی تخفیفی اقدامات دونوں ضروری ہیں۔ اسی مناسبت سے، ہندوستان نے ایک متوازن حکمت عملی اپنائی ہے جو بیک وقت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو مضبوط کرتی ہے، موسمیاتی لچک پیدا کرتی ہے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتی ہے۔
عالمی سطح پر ہندوستان موسمیاتی انصاف، مساوات اور پائیدار ترقی کے لیے ایک معتبر آواز کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کا طریق کار ظاہر کرتا ہے کہ تحفظ اور موسمیاتی اقدامات ترقی کے باہمی طور پر تقویت دینے والے ستون ہیں اور یہ کہ عوام کی خوشحالی اور کرۂ ارض کے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی
ہندوستان دنیا کے 17 عظیم حیاتیاتی تنوع رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اگرچہ یہ عالمی زمینی رقبے کا صرف 2.4 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن دنیا بھر میں درج شدہ انواع میں سے تقریباً 8 فیصد کا حامل ہے۔ اس ملک میں 96,000 سے زائد حیوانی انواع اور 47,000 نباتاتی انواع پائی جاتی ہیں، جن میں دنیا کے تقریباً نصف آبی پودوں کی انواع بھی شامل ہیں۔ یہ غیر معمولی قدرتی ورثہ تحفظ کو محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بنا دیتا ہے۔
ملک کا حیاتیاتی تنوع سے متعلق حکومتی ڈھانچہ حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 پر مبنی ہے، جسے قومی حیاتیاتی تنوع ایکشن پلان کی حمایت حاصل ہے اور یہ حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان نے 1992 میں اس کنونشن پر دستخط کیے تھے۔
سن 2024 میں کولمبیا کے شہر کالی میں حیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) کی کاپ16 کانفرنس کے موقع پر ہندوستان نے اپنی تازہ ترین قومی حیاتیاتی تنوع حکمت عملی اور ایکشن پلان(این بی ایس اے پی) 2024–2030 کا آغاز کیا۔ اس روڈمیپ کا مقصد 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنا اور اسے پلٹنا ہے، جبکہ 2050 تک فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کا طویل مدتی ویژن پیش کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ حکومت کے تمام شعبوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کی شمولیت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں 23 وزارتیں اور متعدد شراکت دار شامل ہیں۔ یہ منصوبہ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے مطابق ہے اور ماحولیاتی نظام کی بحالی، انواع کی بحالی، دلدلی علاقوں اور ساحلی تحفظ، اور قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی اور حیاتیاتی تنوع مینجمنٹ کمیٹیوں جیسے اداروں کے ذریعے مضبوط حکمرانی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
|
قانونی اور پالیسی فریم ورک
ہم ماحولیاتی قوانین
- وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ-1972: جنگلی جانوروں، پرندوں اور پودوں کا تحفظ؛ محفوظ علاقوں کا قیام۔
- واٹر (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ- 1974: پانی کی آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول۔
- فاریسٹ (تحفظ) ایکٹ- 1980: جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے ضوابط۔
- ایئر (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ-1981: فضائی آلودگی پر قابو پانا اور اس میں کمی لانا۔
- ماحولیات (تحفظ) ایکٹ- 1986: ایک جامع قانون جو مرکزی حکومت کو ماحول کے تحفظ اور بہتری کے اختیارات فراہم کرتا ہے۔
- حیاتیاتی تنوع ایکٹ-2002: حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، اس کا پائیدار استعمال اور فوائد کی منصفانہ تقسیم۔
یہ تمام قوانین مل کر ایک جامع ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتے ہیں جو ماحولیاتی توازن، وسائل کے پائیدار انتظام، آلودگی کے کنٹرول اور طویل مدتی ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
|
محفوظ علاقے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے پروگرامز
ہندوستان نے جنگلی حیات کے تحفظ اور خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت کے لیے درج ذیل اہم پروگرامز نافذ کیے گئے ہیں:
محفوظ علاقے (پروٹیکٹیڈایریا): محفوظ علاقوں کا نیٹ ورک- 2014 میں 745 سے بڑھ کر 2025 میں 1,134 تک پہنچ گیا ہے۔ جنگلی حیات کی راہداریوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ مختلف رہائش گاہوں کو آپس میں جوڑا جا سکے اور جانوروں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پروجیکٹ ٹائیگر: ٹائیگر ریزروز کی تعداد 2014 میں 46 سے بڑھ کر 2025 میں 58 ہو گئی ہے، جو تقریباً 85,000 مربع کلومیٹر رقبہ پر محیط ہیں۔ تازہ ترین اضافہ مدھیہ پردیش میں واقع مادھو ٹائیگر ریزرو ہے۔ آل انڈیا ٹائیگر تخمینہ کاری کے چھٹے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے جو 2022 کے اس جائزے پر مبنی ہے جس میں 3,167 شیروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ہندوستان اہم ماحولیاتی مناظر میں شناخت کیے گئے 32 ٹائیگر کوریڈورز کے ذریعہ رہائش گاہوں کے باہمی ربط کو بھی یقینی بناتا ہے، جس سے طویل مدتی تحفظ کی منصوبہ بندی اور جینیاتی پھیلاؤ کو تقویت ملتی ہے۔

پروجیکٹ ایلیفنٹ: ہاتھیوں کے محفوظ علاقوں کی تعداد 2014 میں 26 سے بڑھ کر 2025 میں 33 ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں مزید 8,610 مربع کلومیٹر رقبہ تحفظ کے دائرے میں آ گیا ہے۔ ملک کی 15 ریاستوں میں ہاتھیوں کے لیے 150 راہداریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پروجیکٹ چیتا: 2025میں پروجیکٹ چیتا توسیعی مرحلے میں داخل ہوا۔ چیتوں کو گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری میں متعارف کرایا گیا، جبکہ نورادہی اور بنی گراس لینڈز میں مزید توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ دسمبر 2025 تک چیتوں کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ گئی، جن میں ہندوستان میں پیدا ہونے والے 19 بچے بھی شامل ہیں۔
پروجیکٹ اسنو لیپارڈ: ہندوستان نے 2019 سے 2023 کے درمیان اپنی پہلی ملک گیر اسنو لیپارڈ آبادی کا تخمینہ مکمل کیا، جس کے مطابق ان کی تعداد 718 ہے۔ لداخ میں 477 جبکہ اتراکھنڈ میں 124 اسنو لیپارڈز ریکارڈ کیے گئے۔ اسنو لیپارڈ پاپولیشن اسیسمنٹ انڈیا 2.0 ( ایس پی اے آئی 2.0) کو وائلڈ لائف ویک 2025 کے دوران شروع کیا گیا تاکہ تحفظ کی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
پروجیکٹ ڈولفن: اس منصوبے کے تحت 2021 سے 2023 کے دوران ملک گیر سروے میں دریائی ڈولفنز کی تعداد 6,327 تخمینہ رکھی گئی تھی۔ جنوری 2026 میں بجنور سے دوسرے مرحلے کے سروے کا آغاز ہوا، جس میں دریائے گنگا، سندھ، برہم پتر، سندربن اور اوڈیشہ کے علاقے شامل ہیں۔ اس میں گنگا ڈولفن، انڈس ڈولفن اور ایراوڈی ڈولفن کا جائزہ لیا جائے گا۔
انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس: ہندوستان اپریل 2023 میں قائم ہونے والے اس عالمی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں بڑی بلیوں کی سات اقسام کا تحفظ ہے۔ اس کا فریم ورک معاہدہ 23 جنوری 2025 کو نافذ ہوا جس میں رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر 18 ہو چکی ہے۔
قومی سطح کے منصوبے برائے انواع کا تحفظ: وائلڈ لائف ویک 2025 (2 تا 8 اکتوبر) کے دوران پانچ قومی سطح کے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں پروجیکٹ ڈولفن (فیز - II)، پروجیکٹ سلوٹھ بیئر اور پروجیکٹ گھڑیال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دریائی ڈولفنز، ٹائیگرز، اسنو لیپارڈ اور بسٹرڈز کے لیے چار قومی سطح کے ایکشن پلانز اور فیلڈ گائیڈز بھی جاری کیے گئے جو آبادی کے تخمینہ اور مانیٹرنگ پروگرامز کا احاطہ کرتے ہیں۔
یہ انواع پر مرکوز تحفظی اقدامات ایک وسیع تر زمینی حکمت عملی سے جڑے ہوئے ہیں، جس کا مقصد جنگلات کے رقبہ میں اضافہ، ماحولیاتی نظام کی بحالی، اور رہائش گاہوں کی مضبوطی ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ اور سبز رقبہ میں اضافے کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں طویل مدتی ماحولیاتی استحکام اور وسائل کے پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماحولیاتی نظام کی بحالی (ایکو سسٹم ریاسٹوریشن)
ہندوستان کے متنوع ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی، جنگلاتی آگ، ناقص رہائش گاہیں ، ساحلی کٹاؤ اور غیر منصوبہ بند زمین کے استعمال کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ماحولیاتی انحطاط براہِ راست پانی کی دستیابی، روزگار اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے، حکومت ہندوستان نے ایک کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے جو اہم ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ، بحالی اور موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔ یہ حکمت عملی وسیع پیمانے پر تحفظ، ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی اور زمینی، ساحلی اور آبی ماحولیاتی نظاموں میں ہدفی بحالی کے اقدامات کو یکجا کرتی ہے۔

جنگلاتی اور حیاتیاتی ذخیرہ گاہوں کے ماحولیاتی نظام
ہندوستان کی زمینی تحفظی کوششیں ایک مضبوط بایوسفیئر ریزرو نیٹ ورک پر مبنی ہیں۔ اس وقت ملک میں 18 باضابطہ طور پر منظور شدہ بایوسفیئر ریزروز موجود ہیں، جو 91,425 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے 13 کو یونیسکو کے عالمی نیٹ ورک آف بایوسفیئر ریزروز (ڈبلیو این بی آر) کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ ستمبر 2025 میں ہماچل پردیش میں واقع کولڈ ڈیزرٹ بایوسفیئر ریزرو کی شمولیت نے عالمی سطح پر ہندوستان کی تحفظی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
جنگلاتی ماحولیاتی نظام کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہندوستان نے جنگلاتی آگ کی روک تھام اور کنٹرول کا ایک جامع نظام قائم کیا ہے۔ فاریسٹ سروے آف انڈیا سیٹلائٹ پر مبنی حقیقی وقت کی نگرانی کا نظام چلاتا ہے، جس کے تحت ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے فوری انتباہات جاری کیے جاتے ہیں۔ اس نظام کی معاونت ایک 24 گھنٹے فعال قومی کنٹرول روم کرتا ہے، جو ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات کی نگرانی کرتا ہے۔
ایک پیڑ ماں کے نام (پلانٹ فار مدر مہم)
ایک قومی عوامی شمولیت کی مہم کے طور پر شروع کی گئی‘ایک پیڑ ماں کے نام’ کا مقصد شہریوں کو اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ وہ اپنی ماؤں کے نام پر ایک درخت لگائیں اور ساتھ ہی ماحولیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ مہم عوامی شرکت پر مبنی سب سے بڑی ماحولیاتی تحریکوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 262.4 کروڑ پیڑ کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔
دلدلی علاقوں اور ساحلی ماحولیاتی نظام
جنگلات اور مینگرووز سے آگے بڑھتے ہوئے ہندوستان کی تحفظی حکمت عملی دلدلی علاقوں اور ساحلی خطوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے، جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پانی کی دستیابی اور موسمیاتی موافقت میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مینگرووز کو طوفانوں، سمندری لہروں کے دباؤ اور ساحلی کٹاؤ کے خلاف قدرتی حفاظتی دیوار کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے بھارت ‘مینگروو انشی اییٹو فار شور لائن ہیبیٹاٹس اینڈ ٹینجیبل انکمز (ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی)’ پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ 2025 میں اس اقدام کے تحت 4,536 ہیکٹر رقبہ پر مینگرووز بحال کیے گئے، جبکہ 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 22,560 ہیکٹر خراب شدہ مینگرووز کے علاقوں کی نشاندہی مستقبل میں شجرکاری اور بحالی کے لیے کی گئی۔
ہندوستان نے دلدلی علاقوں کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2025 میں 11 نئے رامسر سائٹس قرار دیے گئے، جس کے بعد 31 جنوری 2026 تک ان کی کل تعداد 98 ہو گئی، جو 2014 میں 26 تھی۔ اس طرح ہندوستان ایشیا میں سب سے زیادہ اور دنیا میں تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ حالیہ شامل کیے گئے مقامات میں پٹنہ برڈ سینکچری (اتر پردیش) اور چھری-دھند (گجرات) شامل ہیں۔ شہری دلدلی علاقوں کے انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ادے پور اور اندور ہندوستان کے پہلے رامسر سے تسلیم شدہ ویٹ لینڈ سٹیز بن گئے ہیں۔

ساحلی ماحولیاتی نظام کی مضبوطی
ساحلی ماحولیاتی نظام کی لچک کو بڑھانے کے لیے‘قومی ساحلی مشن (این سی ایم)’کو 2025–31 تک توسیع دی گئی ہے، جس کے لیے 767 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ مشن‘قومی ایکشن پلان برائے موسمیاتی تبدیلی (این اے پی سی سی) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد ہندستان کی ساحلی پٹی کو موسمیاتی اثرات کے خلاف زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ اس میں مربوط ساحلی زون مینجمنٹ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور کمیونٹی پر مبنی موافقت شامل ہے۔ یہ مشن مینگرووز، مرجان کی چٹانوں اور دیگر ساحلی ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ پر توجہ دیتا ہے تاکہ یہ قدرتی حفاظتی رکاوٹوں کے طور پر کام کر سکیں، ساحلی کٹاؤ اور سمندری سطح میں اضافے کے مسائل سے نمٹا جا سکے، سائنسی منصوبہ بندی اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں تاکہ ساحلی ترقی متوازن ہو۔
بلیو فلیگ بیچز (بی ایف بی) وہ ساحلی مقامات ہیں جنہیں صفائی، پانی کے معیار، حفاظت اور پائیدار انتظام کے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے پر سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن‘فاؤنڈیشن فار انوائرنمنٹل ایجوکیشن’ کی جانب سے جاری کی جاتی ہے اور ہندوستان میں اسے وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) کے تحت انٹیگریٹڈ کوسٹل زون مینجمنٹ پروگرام کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ سن 2025–26 کے سیزن تک ہندوستان نے 18 ساحلوں کو بلیو فلیگ سرٹیفیکیشن حاصل کیا، جو 7 ساحلی ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں واقع ہیں۔
انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تنازع کا انتظام(ایچ ڈبلیو سی ایم)
انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں مربوط کارروائی، تنازع والے علاقوں کی نشاندہی اور فوری ردعمل دینے والی ٹیموں کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔ ریاستی اور ضلع سطح کی کمیٹیاں مالی امداد (ایکس گریشیا ریلیف) کا جائزہ لیتی ہیں، اور حکومت موت یا زخمی ہونے کے معاملات میں 24 گھنٹوں کے اندر امداد کی ادائیگی کو یقینی بناتی ہے۔
وائلڈ لائف ویک 2025 (2 تا 8 اکتوبر) کے دوران ‘انسان اور جنگلی حیات کے تنازع کے انتظام کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس’ اور‘ٹائیگرز آؤٹ سائیڈ ٹائیگر ریزروپروجیکٹ’ کا آغاز کیا گیا۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ کو علیحدہ شعبے کے طور پر نہیں بلکہ جامع اور شمولیتی ترقی اور سماجی مساوات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ موسمیاتی اقدامات، کمیونٹی کی شمولیت اور بقائے باہمی کی حکمت عملیوں کو ترقی کے وسیع فریم ورک میں شامل کر کے ہندوستان ماحولیاتی ذمہ داری کو پائیدار اور منصفانہ ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے۔
موسمیاتی اور اسٹریٹجک پالیسی فریم ورکس

قومی ایکشن پلان برائے موسمیاتی تبدیلی (این اے پی سی سی) اور اس کے نو قومی مشنز:این اے پی سی سی ہندوستان کی موسمیاتی حکمت عملی کے لیے ایک جامع اور مرکزی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے مشنز میں شمسی توانائی، توانائی کی کارکردگی، پائیدار رہائش، پانی، ہمالیائی ماحولیاتی نظام، گرین انڈیا، پائیدار زراعت، اسٹریٹجک علم اور بعد میں شامل کیے گئے دیگر مشنز شامل ہیں۔ یہ تمام مشنز مختلف شعبہ جاتی منصوبہ بندی میں موسمیاتی موافقت (ایڈپٹیشن) اور تخفیف (مائٹیگیشن) کو یکجا کرتے ہیں۔

پیرس معاہدے کے تحت قومی طور پر طے شدہ شراکت(این ڈی سی):2022 میں اپڈیٹ شدہ این ڈی سی کے مطابق ہندوستان نے 2030 تک سن 2005 کی سطح کے مقابلے میں اپنی جی ڈی پی کی اخراجی شدت (امیشن انٹین سٹی) میں 45 فیصد کمی کرنے اور 2030 تک غیر فوسل فیول ذرائع سے تقریباً 50 فیصد مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا عہد کیا ہے۔ 2025 تک ہندوستان پہلے ہی 2005 سے 2020 کے درمیان اخراجی شدت میں تقریباً 36 فیصد کمی کر چکا ہے اور غیر فوسل فیول بجلی پیدا کرنے کی 50 فیصد حد مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر چکا ہے۔
طویل مدتی کم اخراج ترقیاتی حکمت عملی(ایل ٹی –ایل ای ڈی ایس) : 2022 میں یو این ایف سی سی سی کو جمع کرائی گئی اس حکمت عملی میں ہندوستان نے 2070 تک نیٹ زیرو اخراج حاصل کرنے کے راستوں کی وضاحت کی ہے۔
قومی گرین ہائیڈروجن مشن اور قابلِ تجدید توانائی کے توسیعی اہداف: 2023 میں شروع کیا گیا یہ مشن بھارت کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار، استعمال اور برآمد کا عالمی مرکز بنانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے تحت 2030 تک سالانہ 5 ملین میٹرک ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی معاونت کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی تیز رفتار توسیع جاری ہے، اور ہندوستان 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل فیول بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
یہ تمام اقدامات ہندوستان کے تحفظ سے موسمیاتی عمل کی طرف سفر کو مضبوط بناتے ہیں اور ماحولیاتی تحفظ کو پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔
مشن لائف (مشن ایل آئی ایف ای)
موسمیاتی تبدیلی پانی کی دستیابی، روزگار اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جائیں تو عالمی اندازوں کے مطابق تقریباً تین ارب افراد پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں اور 2050 تک عالمی معیشت کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 18 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بڑے پیمانے پر رویوں میں تبدیلی اس صورتحال میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔ اگر ایک ارب افراد پائیدار طرزِ زندگی اختیار کریں تو عالمی کاربن اخراج میں تقریباً 20 فیصد کمی ممکن ہے۔
ہندوستان کی حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا‘مشن لائف (ماحول کے لیے طرزِ زندگی)’ افراد اور برادریوں کو موسمیاتی طور پر ذمہ دار رویے اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس مشن کے تحت دسمبر 2025 تک 6 کروڑ سے زائد افراد نے 34 لاکھ سے زیادہ سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے اور 4.96 کروڑ عہد (پلیجز) کیے جا چکے ہیں۔
بین الاقوامی موسمیاتی عہد اور کثیرالملکی شمولیت
ہندوستان کی اندرونی پیش رفت کو مسلسل بین الاقوامی شمولیت کی حمایت حاصل ہے۔
پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میکانزم کو عملی شکل دینے کے لیے بھارت نے ‘قومی نامزد ادارہ برائے عمل درآمد’(نیشنل ڈیزائنڈ یڈ ایجنسی فار امپلیمینٹیشن آف آرٹیکل) کو قومی اتھارٹی کے طور پر مقرر کیا ہے۔
نومبر 2025 میں برازیل کے شہر بیلیم میں منعقدہ‘ یو این ایف سی سی سی کاپ30 میں ہندوستان نے اپنی موسمیاتی قیادت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی طرف جانا ضروری ہے۔ ہندوستان نے ترقی پذیر ممالک کے لیے بہتر موسمیاتی مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان نے برازیل کے‘ٹروپیکل فاریسٹ فارایورفیسلیٹی(ٹی ایف ایف ایف) کے آغاز کا خیرمقدم کیا اور بطور مبصر اس میں شمولیت اختیار کی۔
بھارت ‘بین الاقوامی سولر الائنس (آئی ایس اے)’ کے ذریعے عالمی سطح پر شمسی توانائی کے تعاون کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہے جس کا ویژن “ایک دنیا، ایک سورج، ایک گرڈ” ہے۔ اکتوبر 2025 میں نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہآٹھویں آئی ایس اے اسمبلی میں 550 سے زائد مندوبین اور 30 وزارتی نمائندوں نے شرکت کی، جس نے صاف توانائی کی طرف عالمی منتقلی کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
‘مونٹریال پروٹوکول’ کے تحت ہندوستان نے اوزون کو نقصان پہنچانے والے اہم مادّوں کے خاتمے میں مقررہ وقت سے پہلے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2021 میں ‘کِگالی ترمیم’ کی توثیق کے بعد بھارت ہائیڈرو فلورو کاربنز (ایچ ایف سی ایس) کے بتدریج خاتمے کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ 2025 تک بھارت نے ہائیڈروکلورو فلورو کاربنز (ایچ سی ایف سی) کی پیداوار اور استعمال میں 67.5 فیصد کمی حاصل کر لی ہے۔
ہندوستان کے بین الاقوامی موسمیاتی عہد اس کے قابلِ پیمائش داخلی اقدامات سے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ کثیرالملکی شمولیت رہنمائی اور تعاون فراہم کرتی ہے، جبکہ ملکی سطح پر عمل درآمد ان وعدوں کو ساختی تبدیلی میں تبدیل کرتا ہے۔ عالمی ذمہ داری اور قومی عملدرآمد کا یہ امتزاج ہندوستان کی تیز رفتار صاف توانائی کی توسیع میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
صاف توانائی کی توسیع اور توانائی کے ڈھانچے کی تبدیلی
بھارت کی صاف توانائی کی توسیع فوسل فیول پر انحصار سے ایک متنوع اور کم کاربن توانائی نظام کی طرف ایک فیصلہ کن ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے تحت وعدوں اور اندرونی اصلاحات کی رہنمائی میں یہ منتقلی توانائی کی سلامتی، پائیداری اور طویل مدتی معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کا مقصد رکھتی ہے۔

سن 2025 میں ہندوستان نے غیر فوسل ایندھن ذرائع سے مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت میں 50 فیصد سے زائد کا ہدف حاصل کر لیا، جو اس کے 2030 کے مقررہ ہدف سے پانچ سال پہلے مکمل ہوا۔

بتاریخ 31 جنوری 2026 تک ہندوستان کی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت
مورخہ 31 جنوری 2026 تک ہندوستان کی کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت 520,510.95 میگاواٹ ہے۔ اس میں 248,541.62 میگاواٹ فوسل فیول سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ 271,969.33 میگاواٹ غیر فوسل ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ غیر فوسل توانائی کے حصے میں 8,780 میگاواٹ جوہری توانائی اور 263,189.33 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی شامل ہے۔
قابلِ تجدید توانائی میں ہندوستان کی عالمی پوزیشن
انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (آئی آر این این اے) کی رینیوایبل انرجی اسٹیٹسٹکس 2025 کے مطابق (دسمبر 2024 تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر)، ہندوستان شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت میں دنیا میں تیسرے نمبر پر، ہوا سے توانائی میں چوتھے نمبر پر اور مجموعی قابلِ تجدید توانائی میں بھی چوتھے نمبر پر ہے۔
توانائی منتقلی کی عملی مثالیں
توانائی کی یہ منتقلی مختلف سطحوں پر واضح نظر آتی ہے۔ 9 اکتوبر 2022 کو گجرات کا موڈھیرا بھارت کا پہلا 24 گھنٹے شمسی توانائی سے چلنے والا گاؤں بن گیا، جہاں مربوط سولر نظام کے ذریعے مسلسل صاف توانائی فراہم کی جاتی ہے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش میں واقع اومکا ریشور فلوٹنگ سولر پارک (4 جنوری 2025 تک کے مطابق) ہندوستان کا سب سے بڑا اور ایشیا کے بڑے فلوٹنگ سولر پارکس میں سے ایک ہے۔ یہ منصوبے وسائل کے مؤثر استعمال اور جدید طریقوں سے قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

توانائی کی کارکردگی اور بہتری
توانائی کی کارکردگی میں بہتری، بجلی کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جی ڈی پی کی فی یونٹ بجلی کے شعبے کی CO₂ اخراجی شدت 2015–16 میں 61.45 ٹن فی کروڑ روپے سے کم ہو کر 2022–23 میں 40.52 ٹن فی کروڑ روپے رہ گئی ہے، جو صاف اور زیادہ مؤثر ترقیاتی راستوں اور تکنیکی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ پیش رفت ان پالیسی اقدامات سے مضبوط ہوتی ہے جو مختلف شعبوں میں طویل مدتی اخراج میں کمی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کی موسمیاتی حکمت عملی ریگولیٹری فریم ورکس، مارکیٹ پر مبنی نظام اور تکنیکی جدت کو یکجا کرتی ہے، تاکہ احتساب مضبوط ہو اور کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی تیز ہو سکے۔
کاربن مارکیٹس، صنعتی منتقلی اور موسمیاتی مالیاتی نظام
ہندوستان کی موسمیاتی حکمت عملی میں ضابطہ کاری، مارکیٹ میکانزم اور تکنیکی ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ ‘کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم’ کا نفاذ ہندوستان کی اندرونی کاربن مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ نظام عالمی معیارات کے مطابق تعمیل (کمپلائنس) اور آف سیٹ میکانزم قائم کرتا ہے اور قابلِ پیمائش اخراج میں کمی کو فروغ دیتا ہے۔
جنوری 2026 میں حکومت نے مزید شعبوں کے لیے ‘گرین ہاؤس گیس اخراج کی شدت کے اہداف’ جاری کیے۔ اس توسیع کے بعد بڑے اخراجی صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 490 ادارے اس نظام کے دائرے میں آ گئے ہیں، جس سے شفافیت، احتساب اور شعبہ جاتی کاربن کمی کو تقویت ملی ہے۔
کاربن کیپچر، استعمال اور ذخیرہ (سی سی یو ایس): ایک اہم کم کاربن ٹیکنالوجی کے طور پر ابھرا ہے، جو صنعتی اخراج کو کم کرنے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پکڑ کر دوبارہ استعمال یا محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرتا ہے۔ مرکزی بجٹ 2026–27 میں اس کے لیے پانچ سال میں 20,000 ہزار کروڑ مختص کیے گئے ہیں، تاکہ کیمیکل اور بھاری صنعتوں جیسے شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کی تحقیق، تجرباتی استعمال اور توسیع ممکن ہو سکے۔
کاربن مارکیٹس اور صنعتی اخراج میں کمی کے یہ اقدامات طویل مدتی اخراجی کمی پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی نظم و نسق کو فوری آلودگی کے مسائل سے بھی نمٹنا ہوتا ہے۔ اس لیے مارکیٹ پر مبنی نظام ضابطہ جاتی اقدامات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تاکہ آلودگی کے اثرات کو منبع پر ہی کنٹرول کیا جا سکے اور عوامی صحت و ماحول کو حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔
آلودگی کے کنٹرول سے پائیدار ترقی تک
بھارت کا ماحولیاتی نظم ایک مضبوط قانونی ڈھانچے پر مبنی ہے۔
واٹر (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ-1974 اورایئر (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ-1981 آلودگی کے کنٹرول کو یقینی بناتے ہیں۔نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن ایکٹ- 2021 فضائی معیار کی حکمرانی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
عملدرآمد ریاستی حکومتوں اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر کیا جاتا ہے۔ نفاذ کی ذمہ داری مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ اور ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز یا کمیٹیوں پر ہے۔ یہ قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ ماحولیاتی اصولوں کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ قوانین مختلف قومی پروگراموں کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں جو ترجیحی آلودگی کے مسائل کو مربوط اور مقررہ وقت میں حل کرتے ہیں۔
قومی صاف ہوا پروگرام اور آلودگی میں کمی
‘نیشنل کلین ایئر پروگرام’ جنوری 2019 میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) کی جانب سے شروع کیا گیا، جس کا مقصد 130 شہروں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
شہروں میں سڑکوں کی دھول، گاڑیوں کے اخراج، کچرا جلانے اور صنعتی آلودگی کے خلاف مخصوص ایکشن پلانز نافذ کیے جا رہے ہیں۔ 2017–18 کو بنیاد بناتے ہوئے، 2024–25 میں 130 میں سے 103 شہروں میں پی ایم10 کی سطح میں بہتری دیکھی گئی۔ 64 شہروں میں 20 فیصد جبکہ 25 شہروں میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعتی ضمنی پیداوار (بائی-پروڈکٹس) کے بہتر انتظام پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ثانوی ماحولیاتی اثرات کو روکا جا سکے۔ فلائی ایش کے سائنسی استعمال کو مضبوط بنانا اس مربوط آلودگی کنٹرول حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
فلائی ایش کا انتظام اور استعمال
فلائی ایش کا غیر سائنسی طریقے سے تصرف زمین کی خرابی، صحت کے مسائل اور ماحولیاتی خطرات کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں سانس کے ذریعے اندر جانے والے باریک ذرات (آر آر پی ایم) اور بعض زہریلے عناصر کی موجودگی پائی جاتی ہے۔
وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) نے کوئلے اور لِگنائٹ پر مبنی تھرمل پاور پلانٹس کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر 100 فیصد فلائی ایش کا مؤثر استعمال یقینی بنائیں، تاکہ اس کے ماحول دوست اور مفید استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
مالی سال 2024–25 کے دوران ہندوستان میں 340 ملین ٹن سے زائد فلائی ایش پیدا ہوئی، جس میں سے 332.63 ملین ٹن کو مؤثر طور پر استعمال کیا گیا۔
کل پیدا شدہ فلائی ایش میں سے:
- 32 فیصد سڑکوں اور فلائی اوورز کی تعمیر میں استعمال ہوئی
- 27 فیصد سیمنٹ کی صنعت میں استعمال ہوئی
- 14 فیصد اینٹوں اور ٹائلوں کی تیاری میں استعمال ہوئی

فضلہ ری سائیکلنگ میں توسیع
ہندوستان نے فضلہ کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ ری سائیکلنگ پلانٹس کی تعداد 2019–20 میں 829 سے بڑھ کر 2024–25 میں 3,036 ہو گئی ہے، جو ری سائیکلنگ کی صلاحیت میں وسیع توسیع کی عکاسی کرتی ہے اور پائیدار ترقی کے ہدف 12 (ایس ڈی جی-12) کی حمایت کرتی ہے۔
توسیعی پیداواری ذمہ داری(ای پی آر)
وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) نے پلاسٹک پیکیجنگ، ای-ویسٹ، ٹائروں اور بیٹریوں کے لیے ای پی آر فریم ورکس نافذ کیے ہیں۔ یہ نظام سرکلر اکانومی کو مضبوط بناتے ہیں اور سائنسی فضلہ مینجمنٹ کو فروغ دیتے ہیں۔
دسمبر 2025 تک:
- 71,401 پروڈیوسرز اور 4,447 ری سائیکلرز رجسٹرڈ ہیں
- 375.11 لاکھ ٹن فضلہ کی ری سائیکلنگ ممکن بنائی گئی
- 339.51 لاکھ ٹن کے EPR سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن میں سے
- 237.85 ٹن (اعداد و شمار کے مطابق) پروڈیوسرز کو منتقل کیے گئے
موثر آلودگی کنٹرول اور فضلہ کا انتظام پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ صاف ہوا، محفوظ پانی اور سائنسی فضلہ پروسیسنگ براہِ راست عوامی صحت، پیداواری صلاحیت اور معیارِ زندگی پر اثر ڈالتی ہے۔ ریگولیٹری نفاذ کو مضبوط بنا کر اور ری سائیکلنگ و وسائل کے مؤثر استعمال کو بڑھا کر ہندوستان ماحولیاتی تحفظ کو معاشی مواقع، روزگار کی تخلیق اور سماجی بہبود سے جوڑ رہا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پائیداری جامع اور شمولیتی ترقی کا لازمی جزو ہے۔
پائیدار ترقی اور شمولیتی نمو
ہندوستان پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی ایس) کے نفاذ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور نیتی آیوگ اس عمل کی مرکزی ادارہ جاتی نگرانی کرتا ہے۔ یہ ادارہ تمام 17 اہداف کی پیش رفت کو قومی اور ریاستی سطح پر مربوط کرتا ہے، جس سے مسابقتی اور تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ ملتا ہے۔ایس ڈی جی انڈیا انڈیکس 2023–24 کے مطابق ہندوستان کا مجموعی اسکور 71 تک پہنچ گیا ہے، جو 2020–21 میں 66 اور 2018 میں 57 تھا، اور یہ مسلسل قومی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ہندوستان نے خاص طور پر ایس ڈی جی-7 (سستی اور صاف توانائی) میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ نومبر 2025 تک مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 51.55 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو فوسل فیول سے ہٹ کر توانائی کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جہاں بجلی کے شعبے کی CO₂ اخراجی شدت 2015–16 میں 61.45 ٹن فی کروڑ روپےسے کم ہو کر 2022–23 میں 40.52 ٹن فی کروڑ روپےرہ گئی ہے۔ یہ پیش رفت صاف اور زیادہ مؤثر معاشی ترقی کی عکاسی کرتی ہے اور ہندوستان کے وسیع تر موسمیاتی عزم کو مضبوط کرتی ہے۔
خلاصہ
ہندوستان کی ماحولیاتی تبدیلی ایک جامع، ادارہ جاتی اور مسلسل کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی میں ریکارڈ اضافہ، کاربن مارکیٹس کا نفاذ، آلودگی کے کنٹرول میں بہتری، محفوظ علاقوں میں توسیع، انواع کے تحفظ کے پروگرام، جنگلات اور مینگرووز کی بحالی، دلدلی علاقوں کا تحفظ اور شہری و دیہی سطح پر عوامی شرکت—یہ سب مل کر ایک جامع ماحولیاتی حکمت عملی کی تشکیل کرتے ہیں۔
سن 2050 تک فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی کے ویژن کی حمایت عملی اقدامات سے کی جا رہی ہے۔ ہندوستان گھریلو عملدرآمد اور عالمی تعاون کو یکجا کرتے ہوئے ماحولیاتی استحکام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں اپنا کردار مسلسل مضبوط کر رہا ہے، تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
حوالہ جات
وزارت ماحولیات و جنگلات اور کلائمیٹ چینج
https://moef.gov.in/convention-on-biological-diversity-cbd
https://moef.gov.in/uploads/2022/01/National-Human-Wildlife-Conflict-Mitigation-Strategy-and-Action-Plan-of-India-2.pdf
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی(این ٹی سی اے)
http://ntca.gov.in/corridor-management/
فاریسٹ سروے آف انڈیا
انڈیا کوڈ
پریس انفارمیشن بیورو
Principal Scientific Adviser
وزارت نئی اور قابل تجدید توانائی(ایم این آر ای)
مائی گوو
وزارت شماریات اور پروگرام امپلیمینٹیشن
نیتی آیوگ
اوزون سیل –مانٹریل پروٹوکول
نیوز آن ایئر
Click here to see PDF
********
ش ح- ظ الف-م ش
UR-6148
(ریلیز آئی ڈی: 2254453)
وزیٹر کاؤنٹر : 24