مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صاف ستھرا کیمپس، کچرے سے پاک: حفظان صحت کے لیے اسمارٹ صفائی نظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 APR 2026 11:09AM by PIB Delhi

سوچھ بھارت مشن اربن 2.0 کے تحت ایک نمایاں اقدام کے ذریعے ایک ممتاز طبی ادارے کو ماحولیاتی ذمہ داری کی مثال میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں اسے “زیرو ویسٹ ٹو لینڈفل” ماڈل بنایا گیا ہے۔

پائیدار شہری ترقی کی سمت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیوبرکلوسس اینڈ ریسپائیریٹری ڈیزیز (این آئی ٹی آر ڈی)، جو دلی میونسپل کارپوریشن کے تحت کام کرتا ہے، کو باضابطہ طور پر “زیرو ویسٹ ٹو لینڈفل” کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ کامیابی بھارت کے حفظان صحت کے شعبے میں ذمہ دارانہ اور ماحول دوست ویسٹ مینجمنٹ کے لیے ایک معیار قائم کرتی ہے۔یہ پہل Why Waste Wednesdaysوائی ویسٹ ویڈنسڈیز فاؤنڈیشن کی جانب سے اس کے فلیگ شپ پروگرام “سوچھ سنکلپ” کے تحت نافذ کی گئی، جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ منظم منصوبہ بندی اور اجتماعی کوششیں کس طرح بامعنی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

27 ایکڑ پر محیط وسیع و عریض کیمپس پر مشتمل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیوبرکلوسس اینڈ ریسپائیریٹری ڈیزیز (این آئی ٹی آر ڈی)روزانہ تقریباً 1 سے 1.2 ٹن کچرا پیدا کرتا ہے، جس میں 500 سے 650 کلوگرام گیلا کچرا شامل ہوتا ہے۔صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت کام کرنے والا یہ ادارہ 2026 کے ٹھوس کچرے کے بندوبست سے متعلق رہنما خطوط کے تحت بلک ویسٹ جنریٹر کے زمرے میں مکمل تعمیل حاصل کرنے والا ایک نمایاں طبی ادارہ بن کر ابھرا ہے۔ یہ کامیابی این آئی ٹی آر ڈی کے پائیدار طرزِ عمل کے لیے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتی ہے اور بھارت کے صحت کے شعبے میں کچرے کے ذمہ دارانہ بندوبست کے لیے ایک معیار قائم کرتی ہے۔

اس منصوبے میں کچرے کے پائیدار بندوبست کے لیے ایک جامع اور منظم حکمتِ عملی اپنائی گئی، جس کا آغاز تفصیلی ویسٹ آڈٹ اور بنیادی سروے سے ہوا، تاکہ موجودہ کچرے کے بہاؤ ، موجودہ طریقۂ کار اور آپریشنز میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس تشخیصی مرحلے نے ادارے میں کچرا پیدا ہونے کے انداز کو واضح کیا اور طے شدہ اقدامات کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کی۔ان معلومات کی بنیاد پر ایک وسیع آگاہی اور صلاحیت سازی مہم شروع کی گئی، جس کے تحت اسپتال کے عملے، منتظمین اور معاون عملے کے لیے تقریباً 50 خصوصی تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔ ان سیشنز میں شرکاء کو کچرے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور کمپوسٹنگ کے بہترین طریقوں سے آگاہ کیا گیا، ساتھ ہی جوابدہی اور ماحولیاتی ذمہ داری کا شعور بھی اجاگر کیا گیا۔ ادارے کی ہر سطح پر فعال شمولیت کو یقینی بنا کر اس پروگرام نے وسیع پیمانے پر شرکت حاصل کی، نمایاں رویہ جاتی تبدیلی کو فروغ دیا اور زیرو ویسٹ اقدام کی طویل مدتی کامیابی کی مضبوط بنیاد رکھ دی۔

اس مضبوط بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے، منصوبے کے تحت زمینی سطح پر ایک مؤثر اور پائیدار ویسٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر قائم کیا گیا۔ حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے گیلے کچرے کی کمپوسٹنگ سینٹر قائم کیا گیا، جبکہ ری سائیکل ہونے والے مواد کی مؤثر درجہ بندی، جمع آوری اور مناسب ترسیل کے لیے خشک کچرے کے ریسورس سینٹر کو مزید مضبوط بنایا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ مواد کو لینڈفل میں جانے سے بچایا جاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ باغبانی اور لینڈ اسکیپنگ سے پیدا ہونے والے فضلے کو سنبھالنے کے لیے خصوصی ہارٹیکلچر ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز بھی نافذ کیے گئے، جس سے کیمپس میں پیدا ہونے والے ہر قسم کے کچرے کو مؤثر انداز میں پروسیس کرنا ممکن ہو گیا۔

ادارے کی ویسٹ پروسیسنگ صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پورے کیمپس میں حکمتِ عملی کے تحت 40 گائیا کمپوسٹنگ بنز نصب کیے گئے ہیں، جن کے ساتھ بڑے سبز کچرے کو مؤثر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے دو ہارٹیکلچر ویسٹ شریڈر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔مزید برآں، ایک مخصوص مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جو حقیقی وقت میں تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ ایک کنزیوم ایبلز مینجمنٹ اسپیس بھی بنایا گیا ہے تاکہ وسائل کے استعمال کو ٹریک، منظم اور بہتر بنایا جا سکے۔یہ تمام انفراسٹرکچر اجزاء مل کر ایک مربوط اور مؤثر نظام تشکیل دیتے ہیں، جو نہ صرف آپریشنل کارکردگی کو یقینی بناتا ہے بلکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیوبرکلوسس اینڈ ریسپائیریٹری ڈیزیز (این آئی ٹی آر ڈی)کے زیرو ویسٹ ماڈل کی طویل مدتی پائیداری کو بھی یقینی بناتا ہے۔ یہ ماڈل دیگر طبی اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال  قائم کرتا ہے۔

دلی میونسپل کارپوریشن کے ساؤتھ زون کی ٹیم نے مہرولی وارڈ میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیوبرکلوسس اینڈ ریسپائیریٹری ڈیزیز (این آئی ٹی آر ڈی) میں 40 ایروبن کمپوسٹنگ یونٹس کا افتتاح کیا۔

یہ کامیابی صحت کے شعبے میں ماحول دوست طریقۂ کار کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کچرے کے بندوبست جامع نظام کو مسلسل آگاہی مہمات، عملے کی تربیت اور منصوبہ بند انفراسٹرکچر کے ساتھ مؤثر طور پر جوڑ کر این آئی ٹی آر ڈی نے یہ ثابت کیا ہے کہ بڑے طبی ادارے بھی کارکردگی یا مریضوں کی دیکھ بھال پر سمجھوتہ کیے بغیر پائیدار انداز میں کام کر سکتے ہیں۔

آپریشنل کامیابی کے علاوہ، یہ اقدام قومی سطح پر ایک معیار قائم کرتا ہے اور ملک بھر کے دیگر اسپتالوں اور طبی اداروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زیرو ویسٹ طریقۂ کار نہ صرف ممکن ہے بلکہ مؤثر بھی ہے۔ سوچھ بھارت مشن اربن 2.0 کے تحت این آئی ٹی آر ڈی کا یہ اقدام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اجتماعی کوششیں، دور اندیش قیادت اور منظم حکمتِ عملی کس طرح نظامی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ یہ پائیداری کے لیے ادارہ جاتی عزم کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے اور صحت و شہری ترقی کے میدان میں ایک صاف، سرسبز اور ذمہ دار مستقبل کی ترغیب دیتا ہے۔

*****

 (ش ح ۔  ک ح۔ع ن)

U. No. 6161


(ریلیز آئی ڈی: 2254446) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी