زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے نئی دہلی میں سول سروسز ڈے کے موقع پر زراعت سے متعلق پینل مباحثے میں شرکت کی

کسانوں کو صرف قرض نہیں بلکہ اعتماد اور سادہ نظام کی ضرورت ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

کے سی سی کو سادہ طریقہ کار اور انسانی ہمدردی پر مبنی نقطۂ نظر کی ضرورت ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

ٹیکنالوجی مفید ہے، لیکن اس کی حدود کو سمجھنا ضروری ہے: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے چھوٹے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مربوط کاشتکاری پر زور دیا

اسکیمیں تبھی کامیاب ہوتی ہیں جب فوائد کسانوں تک آسانی اور مؤثر طریقے سے پہنچیں: جناب چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 APR 2026 7:36PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زرعی مالیاتی نظام کو زیادہ سادہ، عملی، انسانی ہمدردی پر مبنی اور نتائج پر مرکوز بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کو ساہوکاروں کے طریقوں، بلند شرحِ سود، پیچیدہ قرضہ جاتی عمل اور غیر حساس نظام سے راحت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اسکیم نے کسانوں کو نمایاں راحت فراہم کی ہے، تاہم اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جائے، دیہی ضروریات کے مطابق بینکاری نظام کو مضبوط کیا جائے، اسکیموں کے مؤثر زمینی نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے مربوط کاشتکاری کے ماڈل کو فروغ دیا جائے۔

 

 

قرضہ جاتی عمل کو سادہ بنانا ناگزیر ہے

نئی دہلی کے وگیان بھون میں سول سروسز ڈے کے موقع پر منعقدہ زراعتی پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ چونکہ وہ خود گاؤں میں پلے بڑھے ہیں، اس لیے انہوں نے قریب سے دیکھا ہے کہ دیہی علاقوں میں ساہوکاری کا نظام کیسے کام کرتا ہے، جہاں لوگ قرض لینے کے لیے برتن، زیورات، زمین یا گھریلو اشیاء رہن رکھنے پر مجبور ہوتے تھے، وہ بھی اکثر بے تحاشہ اور غیر منظم شرحِ سود پر۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ کسانوں کو اس استحصالی چکر سے آزاد کرایا جائے۔ اگرچہ کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور ادارہ جاتی بینکاری نے ٹریکٹر، آبپاشی، بیج اور دیگر زرعی ضروریات کے لیے قرض تک رسائی کو بہتر بنایا ہے اور پیداوار میں اضافہ کیا ہے، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ دیہی علاقوں میں بینک سے قرض حاصل کرنا اب بھی آسان نہیں ہے۔ کسانوں کو اکثر کاغذی کارروائی، ریکارڈ، محکمہ مال اور انتظامی مراحل کی کئی پرتوں سے گزرنا پڑتا ہے، اس لیے قرض کے عمل کو سادہ بنانا انتہائی ضروری ہے۔

 

نظام میں حساسیت اور توازن کی ضرورت

جناب چوہان نے زور دیا کہ نظام میں حساسیت اور توازن دونوں شامل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حساسیت تب پیدا ہوتی ہے جب انسان دوسروں کو اپنا سمجھ کر پیش آئے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بعض اوقات بااختیار عہدوں پر موجود افراد کسانوں کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ کسان کوئی درخواست گزار نہیں بلکہ اپنے حقوق، ضروریات اور وقار کے ساتھ نظام سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے کسان کا ذکر کیا جس نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے شہر میں گھر بنانے کی خاطر 18 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا، جو سود بڑھنے کے باعث 40 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ بعد میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ مدد کے لیے آئے، جس پر جناب چوہان نے بینکوں کے ساتھ ون ٹائم سیٹلمنٹ جیسے عملی حل تجویز کیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، لیکن اسے سمجھداری سے بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے گندم کی خریداری کے دوران سیٹلائٹ پر مبنی تصدیق کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کی مثال دی، جس سے کسانوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ زراعتی محکمہ، نابارڈ، آر بی آئی اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر زیادہ عملی اور قابلِ اعتماد نظام تیار کرنا چاہیے، اور اس عمل میں ٹیکنالوجی کی حدود کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

 

دیہی بینکاری میں مناسب انسانی وسائل کی فراہمی ضروری

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے دیہی بینکوں اور شاخوں میں عملے کی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) اسکیموں جیسے منریگا اجرت، پی ایم کسان ادائیگیاں اور دیگر اسکیموں کے پھیلاؤ کے باعث دیہی علاقوں میں کام کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ تاہم محدود عملہ مؤثر خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کسان اکثر 8 سے 10 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بینک پہنچتے ہیں، جہاں انہیں عملے کی کمی کے باعث لمبی قطاروں اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ان کے وقت، محنت اور روزگار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا موجودہ تقاضوں کے مطابق مناسب انسانی وسائل کی فراہمی کے لیے سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔

 

ترقی پسند کسانوں کے لیے زیادہ مالی معاونت کی ضرورت

جناب چوہان نے کہا کہ صرف کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) تمام چیلنجوں کا حل نہیں ہے۔ جدید زرعی طریقے جیسے باغبانی، شملہ مرچ کی کاشت، پولی ہاؤس، گرین ہاؤس، ڈرِپ آبپاشی اور اسپرنکلر سسٹم زیادہ سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شملہ مرچ جیسی فصل کی کاشت پر فی ایکڑ تقریباً 1.5 سے 2 لاکھ روپے کی لاگت آ سکتی ہے، جبکہ ممکنہ آمدنی 3 سے 4 لاکھ روپے فی ایکڑ ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا کسانوں کو ابتدائی سرمایہ اور مناسب معلومات دستیاب ہیں یا نہیں۔ اگرچہ حکومت سبسڈی فراہم کرتی ہے، لیکن اس کی حدود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ترقی پسند کسانوں کو زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ قدر والی زراعت اختیار کر سکیں۔

 

چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسانوں کے لیے مربوط کاشتکاری کا فروغ

مرکزی وزیر نے چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مربوط کاشتکاری کے ماڈلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سے ڈھائی ایکڑ زمین رکھنے والے کسان صرف اناج کی کاشت پر انحصار نہیں کر سکتے۔ انہیں پائیدار آمدنی کے لیے پھلوں، سبزیوں، مویشی پالنے، بکری پالنے، ماہی پروری اور شہد کی مکھیوں کی پرورش جیسے ضمنی شعبوں کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیری فارمنگ یا ماہی پروری جیسے شعبوں کے لیے بھی سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اگرچہ ان شعبوں تک کے سی سی کی رسائی بڑھائی گئی ہے، لیکن مستفید ہونے والوں کی تعداد ابھی محدود ہے۔ اس لیے مختلف اسکیموں اور وسائل کے انضمام کی ضرورت ہے تاکہ مربوط کاشتکاری کو عملی اور مؤثر بنایا جا سکے۔

 

عملی نفاذ پر توجہ

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ویئرہاؤس رسید فنانسنگ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک قابل تعریف اقدام ہے، لیکن اسے مزید مؤثر اور عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسان اکثر فوری مالی ضروریات، جیسے سماجی ذمہ داریوں یا قرض کی ادائیگی، کے باعث اپنی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر ذخیرہ شدہ پیداوار کے بدلے آسان اور بروقت قرض دستیاب ہو تو کسان بہتر منڈی قیمتوں کا انتظار کر سکتے ہیں اور اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ کئی اسکیمیں اچھی طرح تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کے طریقۂ کار، نتائج اور بنیادی مسائل کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پیچیدگیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کرنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی پہلوؤں جیسے این پی اے، رسائی، چھوٹے کسانوں کی شمولیت اور حقیقی فوائد پر بھی توجہ دیں۔

 

خود احتسابی اور اختراعی سوچ کی اپیل

جناب چوہان نے سول سرونٹس سے اپیل کی کہ وہ خود احتسابی کریں، عمل درآمد کو بہتر بنائیں اور روایتی دائرے سے ہٹ کر سوچ اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر خدمات کی فراہمی اور مؤثر نتائج کے لیے افسران کو اپنی صلاحیتوں، قابلیتوں اور خیالات کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ عملی اور اختراعی خیالات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور انہیں کسانوں اور ملک کے فائدے کے لیے عملی شکل دی جانی چاہیے۔

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 6142

 


(ریلیز آئی ڈی: 2254355) وزیٹر کاؤنٹر : 9