وزارت خزانہ
بھارت اور بھوٹان نے 20 تا 21 اپریل 2026 کو منار، کیرالم میں کسٹمز کے ساتویں مشترکہ گروپ (جے جی سی) کا اجلاس منعقد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 APR 2026 5:09PM by PIB Delhi
ہندوستان اور بھوٹان کے درمیان کسٹمز کے ساتویں مشترکہ گروپ (جے جی سی) کا اجلاس 20 تا 21 اپریل 2026 کو کیرالم کے منار میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس جناب یوگیندر گارگ، خصوصی سکریٹری اور رکن (کسٹمز)، سنٹرل بورڈ آف اِن ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (سی بی آئی سی)، حکومت ہند اور جناب سونم جامتسو، ڈائریکٹر جنرل، محکمہ محصولات و کسٹمز، وزارتِ خزانہ، شاہی حکومتِ بھوٹان کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا۔

بھارت اور بھوٹان کے درمیان قریبی اور دیرینہ تجارتی تعلقات قائم ہیں، اور ہندوستان بھوٹان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جو بھوٹان کی کل تجارت کا تقریباً 80 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2024–25 میں 1.9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 46 فیصد سے زیادہ اضافہ کو ظاہر کرتی ہے۔

دوطرفہ روابط کے ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت جے جی سی اجلاس کسٹمز تعاون، تجارتی سہولت کاری اور سرحدی نظم و نسق سے متعلق امور کو حل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ بھوٹان کی خشکی میں گھرے ہونے کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر زمینی کسٹمز اسٹیشنوں کے ذریعے تجارت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس وقت ہندوستان -بھوٹان سرحد کے ساتھ 10 نامزد زمینی کسٹمز اسٹیشن موجود ہیں، جو مغربی بنگال (6) اور آسام (4) کی ریاستوں میں واقع ہیں۔
اجلاس کے دوران، فریقین نے متعدد ترجیحی شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں مربوط سرحدی انتظام (سی بی ایم)، کسٹمز ڈیٹا کے پیشگی تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)، انٹیلیجنس شیئرنگ اور نفاذتعاون کے ذریعے انسدادِ اسمگلنگ کے نظام کو مضبوط بنانا، کسٹمز عمل کی ڈجیٹائزیشن، اور الیکٹرانک کارگو ٹریکنگ سسٹم (ای سی ٹی ایس) کے تحت ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حرکت میں سہولت شامل ہیں۔ اجلاس میں سرحدی انفراسٹرکچر کی بہتری، تجارتی سہولت کاری کو فروغ دینے اور کسٹمز طریق کار کو ہم آہنگ اور سادہ بنانے جیسے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بھوٹانی وفد نے کوچی بندرگاہ کا دورہ بھی کیا۔ وفد کو درآمدات و برآمدات کے طریق کار کا جائزہ فراہم کیا گیا، جس میں جہازوں کی برتھنگ اور کنٹینرز کی ہینڈلنگ کے عمل شامل تھے، جو گینٹری کرینز کے ذریعے انجام دئیے جاتے ہیں۔ بھوٹانی نمائندوں کو بحری نفاذ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جیسے سمندری گشت، مشتبہ جہازوں کی شناخت، تلاشی کی کارروائیاں، گشت کے دوران استعمال ہونے والے مواصلاتی نظام مثلاً سیٹلائٹ فونز اور آٹومیٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (اے آئی ایس)، نیز مشتبہ کارگو کی شناخت اور اس کے معائنے کے طریقۂ کار شامل ہیں۔
اجلاس خوشگوار نوٹ پر اختتام پذیر ہوا، جہاں دونوں فریقین نے کسٹمز تعاون کو مزید مضبوط بنانے، سرحد پار تجارت کو ہموار بنانے اور تجارت، کامرس اور ٹرانزٹ کے معاہدے کے فریم ورک کے تحت محفوظ اور مؤثر سرحدی نظم و نسق کو یقینی بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
********
ش ح- ظ الف-خم
UR-6128
(ریلیز آئی ڈی: 2254189)
وزیٹر کاؤنٹر : 13