ٹیکسٹائلز کی وزارت
بھارتی ہینڈلوم بُنائیوں کو عالمی زاویے سے پیش کیا گیا — 61ویں فیمینا مس انڈیا میں ’’وشو سُوتر‘‘ مجموعہ کی نمائش
دنیا کے لیے نئے انداز میں پیش کردہ بھارتی ہینڈلوم: ’’وشو سُوتر‘‘ میں 30 ممالک سے متاثر 30 بُنائیاں پیش کی گئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 APR 2026 3:07PM by PIB Delhi
ایک منفرد نوعیت کے اقدام کے تحت، حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل کے دفتر برائے ترقیاتی کمشنر (ہینڈلوم) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی نے “وشو سُوتر – بھارت کی بُنائیاں دنیا کے لیے” کے عنوان سے ایک ڈیزائنر مجموعہ پیش کیا، جسے بھوبنیشور میں منعقدہ 61ویں فیمینا مس انڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کا مقصد بھارتی ہینڈلوم کو ایک جدید عالمی ڈیزائن کے تناظر میں پیش کرنا ہے۔
اس اقدام کے تحت بھارت بھر کی 30 منفرد ہینڈلوم بُنائیوں کو یکجا کیا گیا ہے، جن میں ہر ایک کسی الگ ریاست کی نمائندگی کرتی ہے اور انہیں دنیا کے 30 مختلف ممالک سے حاصل کردہ ثقافتی اثرات، ملبوساتی انداز اور ڈیزائن کے رجحانات کے ساتھ نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
’’وشو سُوتر‘‘ ایک حکمتِ عملی پر مبنی کوشش ہے جس کا مقصد بھارتی ہینڈلوم کو عالمی سطح پر بااثر اور جدید ڈیزائن کے مطابق پیش کرنا ہے، جبکہ اس کی اصل شناخت اور روایت کو برقرار رکھا جائے۔ یہ منصوبہ بھارت کی ہینڈلوم روایات کی گہرائی اور تسلسل کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو نسل در نسل محفوظ اور نکھاری جاتی رہی ہیں اور ملک کے زندہ ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
عالمی فیشن کے نقطۂ نظر سے ترتیب دیے گئے اس مجموعے میں بھارتی بُنائیوں کو مختلف ثقافتی ملبوساتی انداز کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جیسے اڈیشہ اکت کو یونانی طرز، کانچی پورم کو ناروے کے انداز، موگا کو مصری عناصر، پٹولا کو ہسپانوی اثرات اور بنارسی کو متحدہ عرب امارات سے متاثر ملبوسات کے ساتھ پیش کیا گیا، جس سے بھارتی ہینڈلوم کو ایک نیا اور منفرد ڈیزائن زاویہ ملا ہے۔
’’وشو سُوتر – بھارت کی بُنائیاں دنیا کے لیے‘‘ نے بھارتی ہینڈلوم کی شان و عظمت کو اجاگر کیا، جسے 61ویں فیمینا مس انڈیا کے افتتاحی مرحلے میں 30 ریاستی فاتحین نے پیش کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم۔ بینا، ترقیاتی کمشنر (ہینڈلوم)، نے اس بات پر زور دیا کہ ہینڈلوم کا شعبہ بھارت کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور خواتین کی قیادت میں کاروبار کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کے ویژن ’’گاؤں سے عالمی سطح تک‘‘ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روایتی بُنائیوں کو جدید ڈیزائن کے رجحانات اور بدلتی ہوئی منڈی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہے۔
سادھوی ستیش سیل، 61ویں فیمینا مس انڈیا کی فاتحہ، روایتی کنبی بُنائی کا لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں، جسے وسطی یورپی اسکرٹ کے انداز میں نئے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اپنی وراثت میں جڑی ہوئی یہ کنبی بُنائی—جو ’’کن‘‘ (خاندان) اور ’’بی‘‘ (بیج) سے ماخوذ ہے—نسلی مہارت اور برادری کے دیرپا رشتوں کی علامت ہے۔
یہ اقدام حکومتِ ہند کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ روایتی صنعتوں کو ’’لوکل سے گلوبل‘‘ کے ویژن کے تحت عالمی سطح پر مسابقتی شعبوں میں تبدیل کیا جائے، نیز وزیرِ اعظم کے 5ایف فریم ورک—فارم سے فائبر، فائبر سے فیکٹری، فیکٹری سے فیشن اور فیشن سے بیرونِ ملک—کو فروغ دیا جائے۔ یہ اس امر کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دستکاری کی صنعتیں ثقافتی شعبوں کو مضبوط بنانے، پائیدار روزگار پیدا کرنے اور عالمی ٹیکسٹائل و فیشن منڈیوں میں بھارت کی موجودگی کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6040
(ریلیز آئی ڈی: 2253546)
وزیٹر کاؤنٹر : 17