PIB Headquarters
ہندوستان میں اعلیٰ قدر والی فصلوں کے تنوع کو فروغ دینا
ساحلی باغات سے لے کر ہمالیائی نٹ (گری دار میوے) کی فصلوں تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 APR 2026 11:25AM by PIB Delhi
کلیدی نکات:
- مرکزی بجٹ 2026-27 میں کسانوں کی آمدنی کو مضبوط کرنے اور زرعی پیداوار کو متنوع بنانے کے لیے ساحلی، شمال مشرقی اور پہاڑی علاقوں میں اعلیٰ قیمت والی فصلوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
- فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے شماریاتی ڈیٹا بیس (ایف اے او ایس ٹی اے ٹی) 2024 کے مطابق، ہندوستان ناریل کی پیداوار میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اور یہ شعبہ تقریباً 3 کروڑ افراد ، جن میں تقریباً 1 کروڑ کسان شامل ہیں، کے ذریعۂ معاش کو سہارا دیتا ہے۔
- ہندوستان کی کاجو کی برآمدات 2024-25 میں 369.17 ملین امریکی ڈالر رہی ، جبکہ اسی سال کے دوران کوکو کی برآمدات 295.58 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں ۔
- جنوری 2026 تک، ہندوستان میں آگر ووڈ کے تقریباً 150 ملین درخت ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد شمال مشرقی ریاستوں میں شجرکاری اور زرعی جنگلات کے نظام کے تحت واقع ہیں۔
- مالی سال 2024-25 میں اخروٹ کی برآمدات کی مالیت 7.80 ملین امریکی ڈالر تھی ، جس میں متحدہ عرب امارات ، ترکی ، عراق ، سنگاپور ، الجزائر(الجیریا) ، قطر ، بھوٹان ، کویت ، سیشلز اور نائیجیریا سمیت کلیدی منڈیاں شامل ہیں ۔
تعارف
وکست بھارت کے وژن میں زراعت بنیادی مقام رکھتی ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران اس شعبے میں 4.45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ ترقی ایک گہری کہانی سناتی ہے،تنوع اور قدر میں اضافے کی کہانی۔ اس تبدیلی کے مرکز میں باغبانی ہے، جو ہندوستان کی اعلیٰ قدر والی فصلوں کی معیشت کے مرکز کے طور پر ابھری ہے۔ پھلوں اور سبزیوں سے لے کر پھولوں، مصالحوں اور شجرکاری کی فصلوں تک، باغبانی دیہی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔ روایتی اہم فصلوں کے برعکس، اعلیٰ قدر والی باغبانی فصلیں زمین کے فی یونٹ زیادہ منافع پیدا کرتی ہیں اور زرعی مجموعی قدر میں اضافے میں نمایاں حصہ ڈالتی ہیں۔ باغبانی غذائیت کو مضبوط کرتی ہے، زرعی پروسیسنگ کو تقویت دیتی ہے، برآمدات کی حمایت کرتی ہے اور مقامی روزگار پیدا کرتی ہے۔ پائیدار اور آمدنی پر مبنی زرعی ترقی کی طرف ہندوستان کے سفر میں باغبانی پردیی نہیں بلکہ نہایت اہم ہے۔
اعلیٰ قدر والی فصلیں بنیادی طور پر باغبانی کی پیداوار، جیسے پھل، سبزیاں، پھول، مصالحے اور خوشبودار پودوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان فصلوں کو "اعلیٰ قدر" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اناج اور دالوں جیسی روایتی اہم فصلوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ خالص منافع فراہم کرتی ہیں۔
ہندوستان میں زرعی ترقی کے محرک کے طور پر باغبانی
زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں زرعی فصلوں کے ذیلی شعبے کے اندر باغبانی کا حصہ مجموعی قدرِ پیداوار (جی وی او) کا تقریباً 37 فیصد ہے اور یہ ہندوستان کی زرعی ترقی کے راستے کی بنیاد کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران باغبانی کی پیداوار 2013-14 کے 277.35 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 370.74 ملین ٹن ہو گئی ہے۔ یہ توسیع بڑے شعبوں میں وسیع البنیاد ترقی کی عکاسی کرتی ہے، جن میں شامل ہیں:
117.65 ملین ٹن پھل
217.80 ملین ٹن سبزیاں
35.29 ملین ٹن دیگر باغبانی فصلیں

پیداوار میں مسلسل اضافہ نہ صرف مجموعی زرعی پیداوار بلکہ زرعی معیشت کے اندر قدر میں اضافے (ویلیو ایڈیشن) میں بھی اس شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
باغبانی میں ہندوستان کی عالمی حیثیت اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید تقویت دیتی ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور آلو کی پیداوار میں یہ ملک دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ عالمی پیداوار میں پھلوں کا حصہ 9.18 فیصد اور سبزیوں کا حصہ 8.18 فیصد ہے۔ مزید برآں، ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا پیاز اور شلوٹ (خشک ، غیر ڈی ہائیڈریٹڈ) پیدا کرنے والا ملک ہے، جو عالمی پیداوار میں تقریباً 22.42 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔ یہ اشاریے عالمی خوراک کی سپلائی چین میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے انضمام اور اعلیٰ قدر والی فصلوں کی معیشت کی نمایاں صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
اعلیٰ قدر والی فصلوں کی ترقی کے لیے علاقائی طور پر مربوط حکمتِ عملی
مرکزی بجٹ 2026-27 میں زرعی آمدنی بڑھانے اور پیداواری نظام کو متنوع بنانے کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعلیٰ قدر والی زراعت کے فروغ کے لیے فصلوں سے متعلق، علاقائی طور پر مختلف حکمتِ عملی پر زور دیا گیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں ناریل، صندل کی لکڑی، کوکو اور کاجو؛ شمال مشرقی ریاستوں میں اگر ووڈ کی کاشت؛ اور پہاڑی علاقوں میں بہتر گری دار میوے جیسے بادام، اخروٹ اور پائن گری دار میوے کے لیے ہدف شدہ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ جغرافیائی طور پر منسلک پالیسی فریم ورک خطے کے مخصوص زرعی و موسمی فوائد سے فائدہ اٹھانے، ویلیو چین کے انضمام کو مضبوط بنانے، اور اعلیٰ معاشی منافع اور برآمدی صلاحیت والی فصلوں کی طرف ساختی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔

ساحلی علاقوں کی فصلیں: ناریل، کاجو، کوکو اور صندل کی لکڑی
ہندوستان کی ایک طویل ساحلی پٹی ہے جس میں متعدد چھوٹے اور بڑے جزائر شامل ہیں، جو سمندری ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے کئی اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ساحلی علاقے ایک قابلِ ذکر آبادی کا گھر ہیں اور ان کی خصوصیت متنوع آب و ہوا، ٹپوگرافی، مٹی، مویشی، ماہی گیری اور فصلیں ہیں۔ اس طرح کے سازگار زرعی و ماحولیاتی حالات ناریل، کاجو، کوکو اور صندل کی لکڑی جیسی اعلیٰ قدر والی فصلوں کی کاشت میں مدد دیتے ہیں، جس سے ساحلی علاقوں میں معاش کو تقویت ملتی ہے۔
ناریل کا شعبہ: ترقی، علاقائی حرکیات اور پالیسی مداخلت
ناریل کا شعبہ ہندوستان کی باغبانی معیشت کا ایک اہم جزو ہے، جو تقریباً 1 کروڑ کسانوں سمیت تقریباً 3 کروڑ افراد کے ذریعۂ معاش کو سہارا دیتا ہے۔ ہندوستان ناریل کی پیداوار میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے، جو کل عالمی پیداوار میں تقریباً 22.44 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے، اور کاشت کے تحت رقبے کے لحاظ سے تیسرے مقام پر ہے، جو ناریل کی کاشت کے عالمی رقبے کا تقریباً 19.32 فیصد ہے۔ باغبانی کے اعداد و شمار کے یونٹ کے مطابق، ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو، بھارت نے 2024-25 کے دوران 2.19 ملین ہیکٹر رقبے سے تقریباً 13.97 ملین ٹن ناریل کی پیداوار کی، جس کی اوسط پیداواریت 6.36 ٹن فی ہیکٹر رہی۔ یہ اعداد و شمار زرعی پیداوار، دیہی معاش اور وسیع تر باغبانی معیشت میں اس شعبے کی خاطر خواہ شراکت کو اجاگر کرتے ہیں۔

باغبانی کے اعداد و شمار کے یونٹ کے مطابق، ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو کے تحت کیرالہ میں ملک میں ناریل کی کاشت کے تحت سب سے بڑا رقبہ ہے، جو تقریباً 7.54 لاکھ ہیکٹر پر محیط ہے اور تقریباً 35.44 لاکھ ٹن پیداوار دیتا ہے۔ ناریل کی مجموعی پیداوار میں تمل ناڈو سب سے آگے ہے، جبکہ آندھرا پردیش میں سب سے زیادہ پیداواریت ریکارڈ کی گئی ہے، اس کے بعد مغربی بنگال اور تمل ناڈو کا نمبر آتا ہے۔ یہ علاقائی تغیرات ہندوستان کی ناریل اگانے والی ریاستوں میں پیداوار کی متنوع طاقتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ بنیادی پیداوار کے علاوہ، ناریل کا شعبہ زرعی برآمدات میں تیزی سے اہم شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے، جو حکومتِ ہند کے 2030 تک برآمدات کو 2 ٹریلین امریکی ڈالر اور 2047 تک 21 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچانے کے وژن کے مطابق ہے۔

2024-25 میں ناریل اور ناریل پر مبنی مصنوعات کی برآمدات 4,349.03 کروڑ روپے (513 ملین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے 3,469.44 کروڑ روپے کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ یہ 2001-02 کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جب برآمدات صرف 25.3 کروڑ روپے تھیں اور بڑی حد تک روایتی مصنوعات جیسے خام ناریل، ناریل کا تیل اور خشک ناریل تک محدود تھیں۔ ورجن ناریل کا تیل، ناریل کا دودھ، ناریل کا پانی اور دیگر اطلاقی مصنوعات(استعمال پر مبنی مصنوعات) کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے ساتھ، یہ شعبہ عالمی ویلیو چینز میں اپنی پوزیشن کو مستقل طور پر مضبوط کر رہا ہے۔
ادارہ جاتی اور پالیسی حمایت
ادارہ جاتی اور پالیسی تعاون نے بھی ہندوستان کے ناریل کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ناریل ترقیاتی بورڈ 22 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ناریل کی کاشت اور متعلقہ صنعتوں کی مربوط ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بورڈ نے بڑے پیمانے پر بکھرے ہوئے شعبے کو منظم کرنے اور ناریل کے کاشتکاروں کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ناریل کے کاشتکاروں کی پیداوار کنندہ تنظیموں (ایف پی اوز) کے قیام میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔
ان کوششوں کی تکمیل کرتے ہوئے حکومت نے ایک کثیر جہتی پالیسی فریم ورک نافذ کیا ہے، جس میں کھوپرا کے لیے کم از کم امدادی قیمت، ہدف شدہ ترقیاتی پروگرام، ہنرمندی کے فروغ کے اقدامات اور پورے ویلیو چین میں کاروباری فروغ شامل ہیں۔ یہ منظم مداخلتیں معیاری پودے لگانے کے مواد تک رسائی بڑھانے، کاشت کاری کو وسعت دینے، پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور بازار سے روابط کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہیں۔
مزید برآں، مرکزی بجٹ 2026-27 میں پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ناریل پروموشن اسکیم کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں ناریل کی کاشت کرنے والی بڑی ریاستوں میں عمر رسیدہ اور کم پیداوار والے درختوں کو بہتر پودوں اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام سے تبدیل کرنا شامل ہے۔
کاجو اور کوکو سیکٹر: پیداوار، تجارت اور ادارہ جاتی فریم ورک
کاجو اور کوکو کا انتظام اور فروغ کاجو اور کوکو کی ترقی کے ڈائریکٹوریٹ کے تحت ایک متحد ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ فصلیں مل کر ہندوستان میں اہم شجرکاری اجناس کی نمائندگی کرتی ہیں، جو زرعی تنوع، دیہی معاش اور برآمدی آمدنی میں معاون ہیں۔ کاجو اور کوکو کے شعبوں کا جائزہ مضبوط برآمدی صلاحیت کے ساتھ معاشی طور پر اہم شجرکاری فصلوں کے طور پر ان کے کردار کو واضح کرتا ہے۔
کاجو: بنجر زمین کی سونے کی کان
کاجو ایک اہم نقدی فصل ہے جو سولہویں صدی میں ہندوستان میں متعارف کرائی گئی تھی۔ یہ ایک انتہائی غذائیت سے بھرپور اور مرتکز غذا ہے، جو وافر توانائی فراہم کرتی ہے اور غذا میں چکنائی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ فصل اپنی لچک اور خشک سالی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہے اور مٹی کے خراب حالات میں بھی اچھی طرح ڈھل جاتی ہے۔ ان خصوصیات کی بدولت کاجو کی کاشت اہم ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہے، جن میں مٹی کے کٹاؤ میں کمی اور شجرکاری میں اضافہ شامل ہیں۔ خراب اور بنجر زمینوں پر نشوونما پانے کی اس کی صلاحیت نے اسے "بنجر زمین کی سونے کی کان" قرار دیا ہے، کیونکہ یہ غیر پیداواری زمین کو معاشی طور پر قیمتی اور پائیدار وسائل میں تبدیل کر دیتی ہے۔

ہندوستان میں کاجو کی کاشت تقریباً 12.05 لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جس کی سالانہ پیداوار 8.02 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے، جو ہندوستان کی ساحلی زرعی معیشت میں شجرکاری فصل کے طور پر کاجو کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اوڈیشہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، کرناٹک، کیرالہ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال اور شمال مشرقی خطے کے بعض حصوں میں اس کی کاشت علاقائی توازن اور پیداوار کے استحکام دونوں کو یقینی بناتی ہے۔
یہ مضبوط پیداواری بنیاد پروسیسنگ اور برآمدی سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہے، جس سے ہندوستان عالمی منڈیوں میں اپنی مستحکم موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ 2024-25 میں ہندوستان کی کاجو کی برآمدات مجموعی طور پر 369.17 ملین امریکی ڈالر رہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، ویتنام، جاپان، نیدرلینڈز اور سعودی عرب سمیت اہم مقامات شامل ہیں۔
کوکو: بین فصلی اور تجارتی صلاحیت
کوکو ایک تجارتی شجرکاری فصل ہے جو اس کے پھلوں کے بیجوں کے لیے کاشت کی جاتی ہے، جنہیں ذائقہ دار کوکو پاؤڈر اور دیگر مصنوعات تیار کرنے کے لیے خمیر کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ کوکو کی اہم مصنوعات میں کوکو پھلیاں، کوکو پاؤڈر، کوکو مکھن، کوکو کی چکنائی اور تیل، نیز کوکو کے خول اور بھوسے کی ضمنی مصنوعات شامل ہیں۔ ہندوستان میں کوکو شاذ و نادر ہی ایک علیحدہ فصل کے طور پر اگایا جاتا ہے اور بنیادی طور پر ناریل اور اریکا نٹ جیسے بلند قد باغات کے ساتھ بطور بین فصل کاشت کیا جاتا ہے، جہاں یہ دستیاب جگہ اور سازگار سایہ دار حالات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ تقریباً 40-50 فیصد سورج کی روشنی کے نفوذ کے ساتھ، کوکو ان حالات میں اچھی طرح بڑھتا ہے، کسانوں کو اضافی آمدنی فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی مٹی کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
کوکو اگانے والی بڑی ریاستیں آندھرا پردیش، کیرالہ، کرناٹک اور تمل ناڈو ہیں۔ ہندوستان نے عالمی کوکو منڈی میں بھی اپنی موجودگی قائم کی ہے۔ 2024-25 میں ہندوستان کی کوکو کی کل پیداوار تقریباً 32.91 ہزار میٹرک ٹن تھی۔ اسی سال کوکو کی برآمدات مجموعی طور پر 295.58 ملین امریکی ڈالر رہیں، جن میں امریکہ، نیدرلینڈز، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور نیپال سمیت اہم برآمدی مقامات شامل ہیں۔

ادارہ جاتی مدد: ڈائریکٹوریٹ آف کاجو اینڈ کوکو ڈیولپمنٹ
پورے ہندوستان میں کاجو اور کوکو کی کاشت کی منظم ترقی کو فروغ دینے کے لیے قومی سطح پر مخصوص ادارہ جاتی میکانزم قائم کیے گئے ہیں۔ کوچی، کیرالہ میں واقع ڈائریکٹوریٹ آف کاجو اینڈ کوکو ڈیولپمنٹ، وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کے تحت محکمۂ زراعت و کسانوں کی بہبود کے ماتحت دفتر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کاجو اور کوکو کے لیے ترقیاتی پروگراموں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے، اور مشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر (ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت ریاستی حکومتوں کے ذریعے نافذ کی جانے والی اسکیموں کی نگرانی بھی کرتا ہے۔
اس کی توجہ کے اہم شعبوں میں شامل ہیں:
• کاجو کی کاشت کے تحت رقبے میں توسیع
• کوکو کے لیے نئے پودے لگانے کے پروگرام
• اعلیٰ پیداوار والی اقسام کے ساتھ پرانے (سینائل) باغات کی تجدید
• کاجو اور کوکو کی نرسریوں کا قیام اور جدید کاری
• قبائلی کسانوں میں کوکو کے ہائبرڈ پودوں کی تقسیم
• کاجو قدر میں اضافے( ویلیو ایڈیشن) سے متعلق خواتین مستفیدین کی تربیت
• کوکو کی کاشت سے متعلق ورکشاپس کا انعقاد
ان جاری کوششوں کی بنیاد پر، مرکزی بجٹ 2026-27 میں ہندوستانی کاجو اور کوکو کے لیے ایک مخصوص پروگرام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس پہل کا مقصد خام کاجو اور کوکو کی پیداوار اور پروسیسنگ میں ہندوستان کو خود کفیل بنانا، برآمدی مسابقت کو بڑھانا، اور 2030 تک ہندوستانی کاجو اور کوکو کو پریمیم عالمی برانڈز کے طور پر قائم کرنا ہے۔
صندل کی لکڑی: ایک اعلیٰ قدر کی حامل ثقافتی فصل
سانتالم البم، جسے عام طور پر ہندوستانی صندل کی لکڑی یا چندن کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوستان میں درختوں کی ایک نہایت قیمتی اور ثقافتی طور پر اہم نوع ہے۔ یہ مذہبی رسومات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے اور عالمی سطح پر اپنے اعلیٰ درجے کے ضروری تیل کے لیے مشہور ہے، جو خوشبو اور عطر سازی کی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ صندل کی لکڑی کئی ممالک میں اگائی جاتی ہے، لیکن ہندوستانی صندل کی لکڑی اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے زیادہ قیمت حاصل کرتی ہے۔
ہندوستان کے 90 فیصد سے زیادہ صندل کی لکڑی کے وسائل کرناٹک اور تمل ناڈو میں واقع ہیں۔ اپنی اعلیٰ معاشی قدر کے باعث، صندل کی لکڑی کی کاشت میں دیہی روزگار پیدا کرنے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ذریعے برآمدی آمدنی بڑھانے کی مضبوط صلاحیت موجود ہے۔ مزید برآں، مرکزی بجٹ 2026-27 میں مرکوز کاشت کاری کو فروغ دینے اور صندل کی کٹائی کے بعد کی پروسیسنگ کو مضبوط بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
ہندوستان کے شمال مشرق میں اگر ووڈ کی صلاحیت کا استعمال
ہندوستان کا شمال مشرقی خطہ (این ای آر) بھرپور ماحولیاتی تنوع، لہردار مناظر اور وافر حیاتیاتی تنوع کی خصوصیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ اعلیٰ قدر کی شجرکاری اور زرعی جنگلاتی فصلوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا ہے، جن میں اگر ووڈ ایک اعلیٰ خوشبودار وسائل کے طور پر خاص معاشی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ جنوری 2026 تک ہندوستان میں تقریباً 150 ملین اگر ووڈ کے درخت موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد شمال مشرقی ریاستوں میں واقع ہیں، جہاں کاشت کاری کو شجرکاری اور زرعی جنگلاتی پروگراموں میں ضم کیا گیا ہے۔ خطے کے اندر، اکیلے تریپورہ میں اگر ووڈ مارکیٹ میں تقریباً 2,000 کروڑ روپے کے سالانہ کاروبار کا تخمینہ ہے۔
اگر ووڈ، جسے بین الاقوامی سطح پر اود یا اگر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک نہایت قیمتی رال دار لکڑی ہے جو روایتی ادویات، مذہبی رسومات اور عیش و عشرت کی خوشبوؤں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ پودا بنیادی طور پر اگر لکڑی کے چپس، پاؤڈر (چُورن) اور ضروری تیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں اگر لکڑی کے موتی اور کبھی کبھار کھدی ہوئی نوادرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کی پتیوں کو اگر ووڈ چائے تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 2024 میں حکومت کی جانب سے منظور کردہ اسٹریٹجک روڈ میپ اگر ووڈ کی پائیدار کاشت، پروسیسنگ اور تجارت کے فروغ پر مرکوز ہے۔
اس تناظر میں شمال مشرقی ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ جغرافیائی نقشہ سازی کے اقدامات کے ذریعے علاقے کی توسیع کے منصوبے تیار کریں، خاص طور پر تریپورہ اور آسام میں۔ جنگلی حیوانات و نباتات کی خطرے سے دوچار انواع میں بین الاقوامی تجارت سے متعلق کنونشن (سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت اگر لکڑی کے چپس کے لیے 151,080 کلوگرام اور اگر لکڑی کے تیل کے لیے 7,050 کلوگرام کی حد کے ساتھ برآمدی کوٹے میں اضافہ کر کے برآمدات کو فروغ دینے کے اقدامات بھی مضبوط کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، ضابطہ جاتی عمل کو ہموار بنانے کے لیے برآمدی درخواستوں کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) پورٹل میں ضم کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ ان اقدامات کو مرکزی بجٹ 2026-27 میں بیان کردہ پالیسی اقدامات کے ذریعے مزید تقویت ملے گی، جن میں کاشت کاری میں توسیع، پروسیسنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور شمال مشرقی خطے سے اگر ووڈ کی برآمدی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان کے ہمالیائی اور پہاڑی علاقوں میں اعلیٰ قدر والی نٹ(گری دار میوے) کی فصلیں
ہندوستان کے پہاڑی علاقوں میں متعدد نٹ (گری دار میوے)کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جو ٹھنڈی آب و ہوا اور مخصوص زرعی و ماحولیاتی حالات کے مطابق ہوتی ہیں، جن میں اخروٹ، بادام اور پائن گری دار میوے شامل ہیں۔ ان میں اخروٹ ملک کی سب سے اہم معتدل نٹ کی فصل ہے۔ جموں و کشمیر میں اس کی زیادہ تر کاشت ہوتی ہے، جبکہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، لداخ، اروناچل پردیش اور منی پور اس کے مقابلے میں نسبتاً کم حصہ ڈالتے ہیں۔
ہندوستانی اخروٹ سائز اور خول کی موٹائی میں مختلف ہوتے ہیں اور انہیں عام طور پر کاغذی خول، پتلے خول، درمیانے خول اور سخت خول والی اقسام میں درجہ بند کیا جاتا ہے۔ 2024-25 کے دوران اخروٹ کی پیداوار 3.22 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ مالی سال 2024-25 میں ہندوستان کی اخروٹ کی برآمدات کی مالیت 7.80 ملین امریکی ڈالر رہی، جن میں متحدہ عرب امارات، ترکی، عراق، سنگاپور، الجزائر، قطر، بھوٹان، کویت، سیشلز اور نائجیریا شامل ہیں۔

بادام ایک اور اعلیٰ قدر والی معتدل نٹ کی فصل ہے جسے بڑے پیمانے پر اس کی غذائیت اور صحت کے فوائد، خاص طور پر قلبی اور ہاضمہ کی صحت کے لیے، جانا جاتا ہے۔ باغبانی کے اعداد و شمار کے یونٹ، ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو کے مطابق، ہندوستان نے 2024-25 میں 13.94 ہزار میٹرک ٹن بادام کی پیداوار کی، جس میں کاشت زیادہ تر جموں و کشمیر، گجرات اور ہماچل پردیش میں مرکوز تھی۔ جموں و کشمیر ملک کی پیداوار کا 83 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، جبکہ اہم پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ کے مراکز پورے کشمیر کے علاقے میں واقع ہیں۔
ہمالیائی خطے میں ایک اور اہم نٹ کی فصل چلغوزہ (پائن نٹ) ہے، جو نہایت قیمتی چلغوزہ پائن نٹس پیدا کرتی ہے۔ اسے اکثر "راکی پہاڑوں کا چیمپئن" کہا جاتا ہے۔ یہ فصل ہماچل پردیش کے کنور ضلع میں قبائلی برادریوں کے لیے روزی روٹی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ چلغوزہ پائن شمال مغربی ہمالیہ کی اندرونی بنجر وادیوں میں اگتا ہے، یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں کم بارش اور شدید سردیوں میں برف باری ہوتی ہے، جس کے باعث یہ انواع ماحولیاتی طور پر موزوں اور مقامی برادریوں کے لیے معاشی طور پر اہم بن جاتی ہیں۔ یہ گری دار میوے نہایت غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور عام طور پر کچے یا بھون کر کھائے جاتے ہیں، اور ان میں موجود صحت بخش غیر سیر شدہ چکنائیاں لپڈ پروفائل کو بہتر بنانے اور دل کی صحت کو سہارا دینے میں مدد دیتی ہیں۔
اخروٹ، بادام اور پائن گری دار میووں کی زیادہ کثافت والی کاشت کو فروغ دینے اور پرانے و کم پیداوار والے باغات کی بحالی کے لیے، مرکزی بجٹ 2026-27 میں ایک مخصوص پروگرام کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور دیہی نوجوانوں کی شرکت کے ذریعے قدر میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
نتیجہ
مرکزی بجٹ 2026-27 ہندوستان میں اعلیٰ قدر والی زراعت کو فروغ دینے کے لیے فصل سے متعلق اور علاقائی طور پر منسلک حکمتِ عملیوں کی جانب ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ناریل، کاجو، کوکو اور صندل کی لکڑی جیسی ساحلی شجرکاری فصلوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ریاستوں میں اگر ووڈ کی کاشت کو مضبوط بنانے اور پہاڑی و متنوع زرعی ماحولیاتی علاقوں میں نٹ کی فصلوں اور پھولوں کی کاشت کو فروغ دینے کے اقدامات، مقامی زرعی و موسمی فوائد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ادارہ جاتی تعاون، برآمدات پر مبنی مداخلتیں اور پیداواریت میں اضافے کے پروگرام جیسے تکمیلی اقدامات زرعی ترقی میں باغبانی کے بڑھتے ہوئے کردار کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ہندوستان کے ابھرتے ہوئے زرعی منظرنامے میں تنوع، قدر میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری کے لیے اعلیٰ قدر والی فصلوں کو ایک کلیدی راستے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
حوالہ جات
اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے)
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2202999®=3&lang=1
وزارت خزانہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219960®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221410®=3&lang=2
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت
https://agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf
https://agriportal.cg.nic.in/horticulture/HortiEn/Default.aspx
https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2025-11.pdf
https://coconutboard.gov.in/Statistics.aspx
https://coconutboard.gov.in/docs/icj/icj-2026-01.pdf
https://coconutboard.gov.in/docs/operational-guidelines.pdf
https://coconutboard.gov.in/docs/FPO-concept-note.pdf
https://coconutboard.gov.in/ProducerSocieties.aspx
https://ccari.res.in/dss/Orchids.html
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1810905®=3&lang=2
کوسٹل ایگریکلچرل ریسورس انوینٹری. پی ڈی ایف
https://www.agriwelfare.gov.in/en/StatHortEst
وزارت تجارت اور صنعت
https://apeda.gov.in/cashew
https://www.ibef.org/exports/cashew-industry-india
https://agriexchange.apeda.gov.in/
https://apeda.gov.in/CocoaProducts
https://agriexchange.apeda.gov.in/Production/India/Details?HSCode=NMVQ&product_Nam e=`%C2%8C%C2%80%C2%8C~&Category=m%C2%89~%C2%8B%C2%91~%C2%91%C2%86%C2%8C%C2%8B%C2%90
https://apeda.gov.in/Walnuts
https://agriexchange.apeda.gov.in/Production/India/Details?HSCode=NMSN&product_Name=t~%C2%89%C2%8B%C2%92%C2%91&Category=c%C2%8F%C2%92%C2%86%C9%C2%
https://agriexchange.apeda.gov.in/Production/India/Details?HSCode=NMPU&product_Name=^%C2%89%C2%8A%C2%8C%C2%8B%C2%81&Category=c%C2%8F%C2%92%C2%2%96%C2%96%
https://agriexchange.apeda.gov.in/Production/India/Details?HSCode=NMPQ&product_Name=l%C2%8F%C2%80%C 2%85%C2%86%C2%81%C2%90&Category=c%C2%89%C2%8C%C2%8F%C2%86%C2%80%C2%92%C2%89%C2%91%C2%92%C2%8F%C2%82
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
https://iwst.icfre.gov.in/database/SIS/introduction.html
https://bsi.gov.in/uploads/documents/NonDetriment%20Findings%20(NDFs)/NDF%20Study%20Report%20of%20Aquilaria%20malaccensis%20(Agarwood)%20in%20India.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2179422®=3&lang=2
موسمیاتی تبدیلی-اور-خطرناک-انڈین-کوسٹ_کمپریسڈ.pdf
شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت
https://necouncil.gov.in/sites/default/files/Final%20Report-%20Action%20Plan%20on%20value%20Chain%20Development%20of%20Horticulture-Fruits%20%26%20Vegetables%20p0d%20d.
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2218232®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205285®=3&lang=2
سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
https://himcoste.hp.gov.in/RnD_Website/Research%20and%20development%20Projects/Chilgoza%20Booklet.pdf
اقوام متحدہ
https://www.fao.org/4/ac451e/ac451e0b.htm
https://www.fao.org/faostat/en/#rankings/countries_by_commodity
https://www.fao.org/faostat/en/#data/QCL
پی آئی بی پس منظر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=155126&id=155126&utm_®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?id=150334®=3&lang=2
پی ڈی ایف میں دیکھیں
پی آئی بی ریسرچ
***
(ش ح۔اس ک )
UR- 6035
(ریلیز آئی ڈی: 2253523)
وزیٹر کاؤنٹر : 15