صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند کی ایمس  ناگپور کے جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت


چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائے، یہ کبھی بھی ہمدردی، دیانتداری اور مریض پر مرکوز طرز عمل کی جگہ نہیں لے سکتی: صدر جمہوریہ ہنددروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 APR 2026 1:18PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (15 اپریل 2026) کو ناگپور ، مہاراشٹر میں ایمس ناگپور  کے جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب میں شرکت کی اور پروگرام سے خطاب کیا ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ طب کا شعبہ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے حساسیت کے ساتھ ایک راستہ ہے۔ ایک ڈاکٹر نہ صرف بیماریوں کا علاج کرتا ہے بلکہ بیماری میں مبتلا افراد کے ذہنوں میں امید بھی پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہمدردانہ مشورہ نہ صرف مریض بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ اکثر ڈاکٹروں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم ایسے حالات میں بھی انہیں مریض اور اس کے خاندان کے ساتھ حساسیت برقرار رکھنی چاہیے۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی ہمیشہ طبی ماہرین کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔ یہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

 صدر  جمہوریہ نے کہا کہ شہریوں کی اچھی صحت ملک کی ترقی کے لیے اتنی ہی اہم ہے ،جتنی ان کی اپنی ذاتی فلاح و بہبود کے لیے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ شہری صحت مند رہیں اور قوم کی تعمیر میں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ حصہ ڈال سکیں، حکومت ہند نے گزشتہ دہائی کے دوران کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

 صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک بھر میں نئے ایمس کے قیام سے نہ صرف بہتر طبی علاج تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے ،بلکہ طبی تعلیم کے مواقع بھی بڑھے ہیں ۔  انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اپنے قیام کے چند ہی سالوں میں ایمس ناگپور نے خود کو طبی تعلیم ، تحقیق اور صحت کی  بہترین دیکھ بھال کی خدمات کے لیے ایک سرکردہ مرکز کے طور پر قائم کر لیا ہے ۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ موجودہ دور صحت کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی کا وقت ہے ۔  دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل صحت خدمات اور جدید تحقیق جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے طب کے شعبے میں بے مثال پیش رفت ہو رہی ہے ۔  ہمیں ان تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ۔  دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات میں عدم مساوات کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ معیاری صحت کی دیکھ بھال ہر ایک تک پہنچے ،اس کے لیے تکنیکی ترقی کا فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ۔  انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایمس ناگپور اس سمت میں مسلسل کام کر رہا ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ڈاکٹروں کو معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔  لوگ ان کا احترام کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں ۔  وہ ڈاکٹروں کو ان کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپتے ہیں ۔  اس لیے یہ ڈاکٹروں کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مریضوں کے مفادات کواولین ترجیح دیں ۔  اس ذمہ داری کو دیانتداری سے پورا کرکے  وہ اپنی اور طبی پیشے کی ساکھ کو مزید بلند کر سکتے ہیں ۔

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ خدمت کے جذبے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کو زندگی بھر سیکھنے کے عزم کو بھی اپنانا چاہیے۔ جستجو ترقی کی بنیاد ہے۔ طبی سائنس میں نئے حل دریافت کرنے کی لگن نہ صرف انہیں بہترین ڈاکٹر بننے میں مدد دے گی بلکہ انہیں خدمت کے مزید مواقع بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کو مشورہ دیا کہ وہ جدت، تحقیق اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کو اپنے اندر راسخ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ طب کے شعبے میں اخلاقی اقدار کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائے، یہ کبھی بھی ہمدردی، دیانتداری اور مریض پر مرکوز طرز عمل کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ ہمدردی کے جذبے کو پروان چڑھاتے رہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ طبی برادری سے وابستہ افراد خوش قسمت ہیں کہ انہیں انسانیت کی خدمت کا ایک منفرد موقع حاصل ہوا ہے۔ انہیں اس ذمہ داری پر فخر کرنا چاہیے اور اسے حساسیت کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں کامیابی حاصل کریں گے ،بلکہ اپنے ہم وطنوں کو صحت مند رکھنے میں بھی کردار ادا کریں گے۔ ایسے اقدامات کی بدولت ہم اپنی آزادی کی صد سالہ سالگرہ تک ایک ’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

 

صدر جمہوریہ کی تقریر کے لیے یہاں کلک کریں:

 

****

ش ح۔ م ع ن۔ خ م

U. No. 4658


(ریلیز آئی ڈی: 2252163) وزیٹر کاؤنٹر : 15