زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے کھادوں میں آتم نربھرتا (خود کفالت) حاصل کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک  غور و خوض سیشن کا انعقاد کیا


ڈاکٹر ایم ایل جات، سکریٹری ڈی اے آر ای نے کہا کہ 2047 تک آتم نربھر بھارت کے ہدف کے حصول میں زرعی شعبہ کلیدی کردار ادا کرے گا

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھادوں کی درآمد پر انحصار کم کرنا نہایت ضروری ہے، جبکہ مٹی کی صحت کو مضبوط بنانا، کھادوں کا متوازن استعمال اور کسانوں میں آگاہی پیدا کرنا پائیدار زراعت کے لیے بنیادی عوامل ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 APR 2026 6:13PM by PIB Delhi

نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے آج کھادوں میں آتم نربھرتا (خود کفالت) حاصل کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی غرض سے ایک برین اسٹارمنگ سیشن (بی ایس ای ) کا انعقاد کیا۔ اس مباحثے میں متعلقہ سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، کھاد صنعت اور کسانوں کے نمائندگان نے شرکت کی اور اس اہم شعبے میں آتم نربھرتا کی ضرورت پر متفقہ طور پر زور دیا۔

1.jpg

سیشن کے بعد ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، جو محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم کے سکریٹری، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے صدر ہیں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ  ہندوستان  نے 2047 تک آتم نربھر بھارت کا ہدف مقرر کیا ہے، اور اس سفر میں زرعی شعبہ کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ سبز انقلاب کے دوران کھادوں نے پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن موجودہ چیلنج کھادوں کے استعمال کی کم ہوتی ہوئی کارکردگی اور ان کے بے دریغ استعمال سے متعلق ہے۔

ڈاکٹر جاٹ نے مزید کہا کہ ملک میں سالانہ تقریباً 33 ملین ٹن کھاد استعمال ہوتی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے درآمداتی انحصار کم کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی حکمت عملیوں پر مشتمل ایک جامع نقطۂ نظر اپنانا ہوگا۔ انہوں نے مٹی کی صحت کو بہتر بنانے، کھادوں کے متوازن اور ضرورت کے مطابق استعمال کو فروغ دینے اور کسانوں میں آگاہی بڑھانے کو اس سمت میں اہم اقدامات قرار دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کھادوں کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجیز جیسے پریسیژن نیوٹرینٹ مینجمنٹ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سینسر پر مبنی نظاموں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دالوں اور تیل دار اجناس کی جانب فصلوں کی تنوع، ویسٹ ٹو ویلتھ اقدام کے تحت نامیاتی فضلے کی ری سائیکلنگ اور حیاتیاتی ذرائع کے استعمال میں اضافہ بھی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

2.jpg

برین اسٹارمنگ سیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے بتایا کہ شرکاء نے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی تحقیق و ترقی (آراینڈ ڈی) اہداف کے ساتھ ایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی اپنانے اور اس کے لیے معاون پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اس روڈ میپ میں کھادوں کی تحقیق کو مضبوط بنانے، اسمارٹ متبادل کھادوں کی تیاری، غیر استعمال شدہ مقامی معدنیات (جیسے گلوکونائٹ، فاسفیٹ راک، مائیکا، پولی ہیلائٹ) اور صنعتی ضمنی مصنوعات کے استعمال، حیاتیاتی ذرائع کے فروغ، مٹی کے مائیکرو بایوم کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے، بہتر کمپوسٹنگ تکنیک، زیادہ مؤثر غذائی اجزاء کے استعمال (این یو ای) کے لیے فصلوں کی افزائش، اور اچھی زرعی طریقوں (جی اے پی ) کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ ان اقدامات میں کھادوں اور نامیاتی ذرائع کے امتزاج کے ساتھ پریسیژن نیوٹرینٹ مینجمنٹ، مٹی کی بحالی، فصلوں کی تنوع اور باقیات کی ری سائیکلنگ بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، انٹیگریٹڈ نیوٹرینٹ سپلائی اینڈ مینجمنٹ (آئی این ایس اے ایم) کو فروغ دینے کے لیے ایک مشن موڈ پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس مجوزہ مشن کا ہدف آئندہ تین برسوں میں معدنی کھادوں کے کم از کم 25 فیصد استعمال کو نامیاتی کھادوں سے بدلنا ہے۔ بھارت وستار اے آئی پلیٹ فارم جیسے ڈجیٹل ٹولز کے ذریعے سال بھر تیز رفتار ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بڑے پیمانے پر اپنانے میں مددگار قرار دیا گیا۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ موجودہ توسیعی نظام زیادہ تر کھادوں کے استعمال میں اضافے پر زور دیتا ہے، نہ کہ ان کے مؤثر استعمال پر۔

نمائندگان اس بات پر متفق ہوئے کہ موجودہ کھاد پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی (پیراڈائم شفٹ) کی ضرورت ہے۔ اس میں یوریا کو نیوٹرینٹ بیسڈ سبسڈی کے دائرے میں لانا، سبسڈی کو جی اے پی اپنانے کی ترغیب کے طور پر استعمال کرنا، سبسڈی کو مٹی کے صحت کارڈ سے منسلک کرنا اور کسانوں کو براہِ راست نقد منتقلی (ڈائرکٹ کیش ٹرانسفر) کے امکانات پر غور شامل ہے۔ سستی یوریا کی دستیابی اس کے غیر مؤثر اور حد سے زیادہ استعمال کی ایک بڑی وجہ ہے، جبکہ مہنگی کھادوں (فاسفورس اور پوٹاش) کے کم استعمال سے مٹی اور فصلوں میں ان کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

پس منظر:

سبز انقلاب نے  ہندوستان کی زرعی تاریخ میں ایک اہم موڑ پیدا کیا، جس کے ذریعے ملک خوراک کی کمی سے نکل کر خود کفالت کی جانب بڑھا اور زرعی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آئی۔ کھادوں نے اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کیا، جس سے غذائی اجناس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور قومی غذائی تحفظ یقینی بنا۔

تاہم، یہ شعبہ اب بھی خاص طور پر فاسفورس اور پوٹاش کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس سے زرِ مبادلہ پر دباؤ اور سبسڈی کا بڑا بوجھ پیدا ہوتا ہے، جو 2024–25 میں تقریباً 1.71 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ غیر مؤثر اور غیر متوازن کھادوں کا استعمال پیداوار کو محدود کرتا ہے، کیونکہ فصلیں صرف ایک حصہ ہی جذب کر پاتی ہیں—تقریباً 30–50 فیصد نائٹروجن، 15–25 فیصد فاسفورس اور 50–60 فیصد پوٹاش—جبکہ باقی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ کم غذائی افادیت (این یو ای) لاگت میں اضافہ، سبسڈی کے بوجھ اور مٹی و پانی کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔

سن 2024–25 میں کھادوں (N+PO+KO) کی مجموعی کھپت 32.93 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ فی ہیکٹر استعمال 151 کلوگرام رہا۔ کھادوں کے استعمال کا تناسب (9.3:3.5:1) نائٹروجن کی طرف غیر متوازن جھکاؤ ظاہر کرتا ہے۔ یوریا کی پیداوار میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس کا تقریباً 80 فیصد درآمد کیا جاتا ہے، جو گھریلو پیداوار کے باوجود بیرونی انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔

مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کو صرف قلیل مدتی سپلائی بحران کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنی پالیسیوں اور تحقیق و ترقی کی ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب دیں اور خود کفالت کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھائیں۔

********

ش ح-ظ الف- ت ا

UR-5819


(ریلیز آئی ڈی: 2251973) وزیٹر کاؤنٹر : 16