سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
این ایچ اے آئی اور ڈبلیو آئی آئی کی تحقیق میں دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور پر جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات کی مؤثریت اجاگر
یہ مطالعہ دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور کے 18 کلومیٹر طویل گنیش پور–اشارودی حصے پر کیا گیا
تحقیق میں تقریباً 40,444 تصاویر ریکارڈ کی گئیں جن میں 18 منفرد جنگلی انواع کو انڈر پاس استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 1:48PM by PIB Delhi
ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں میں قومی شاہراہ منصوبوں کی کامیاب، پائیدار اور جامع ترقی کو نمایاں کرتے ہوئے ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا گیا ہے۔ این ایچ اے آئی نے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی ) کے اشتراک سے “لینڈ اسکیپس ری کنیکٹڈ” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس جامع رپورٹ میں پہلی بار یہ شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور پر جانوروں کے لیے بنائے گئے انڈر پاسز کو جنگلی حیات استعمال کر رہی ہے۔ یہ کوریڈور پائیدار انفراسٹرکچر کی ترقی میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ قومی شاہراہوں کی تعمیر ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ یہ مطالعہ جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات (وائلڈ لائف مٹیگیشن میزرس) کے حوالے سے ٹھوس سائنسی نتائج فراہم کرتا ہے۔
یہ تحقیق دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور کے گنیش پور اور اشارودی کے درمیان 18 کلومیٹر طویل حصے پر کی گئی۔ اس کا مقصد جنگلی حیات کے انڈر پاسز کے استعمال کے انداز، مختلف انواع کے جانوروں کے استعمال کو متاثر کرنے والے عوامل، اور انڈر پاسز کی مؤثریت کا جائزہ لینا تھا۔ یہ جنگلاتی علاقہ خطرے سے دوچار انواع جیسے شیروں، ہاتھیوں، گریٹر ہارن بل اور کنگ کوبرا کا مسکن ہے۔ گنیش پور سے اشارودی تک تقریباً 20 کلومیٹر طویل حصے میں مجموعی طور پر 10.97 کلومیٹر لمبے انڈر پاسز تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن بنائی جا سکے۔ یہ انجینئرنگ کا ایک اہم کارنامہ ہے، جس میں ایشیا کے بڑے وائلڈ لائف ایلیویٹڈ کوریڈورز میں سے ایک شامل ہے، جس کی اوسط اونچائی 6 سے 7 میٹر ہے تاکہ بڑے سے بڑے ممالیہ بھی آسانی سے گزر سکیں۔
مطالعہ کے علاقے کو حکمتِ عملی کے تحت تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا۔ زون I میں گنیش پور سے موہنڈ تک 5.43 کلومیٹر کا علاقہ شامل تھا، زون II موہنڈ بستی سے اشارودی پولیس چیک پوسٹ تک 9.80 کلومیٹر پر مشتمل تھا، جبکہ زون III اشارودی پولیس چیک پوسٹ سے دون وادی کے علاقے موہابی والا تک 3.14 کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا، جس میں دریا کے ہموار کنارے، پہاڑی علاقے اور شوالک سلسلے کے جنگلات کے ملے جلے علاقے شامل ہیں۔
اس مطالعے کے طریقۂ کار میں 40 دن پر مشتمل ایک جامع مانیٹرنگ پروگرام شامل تھا، جس میں دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور کے ساتھ 150 جدید کیمرہ ٹریپس اور 29 آڈیو موتھ (آڈیو موتھ) صوتی ریکارڈرز نصب کیے گئے۔ تحقیق کے دوران انسانوں، گھریلو جانوروں اور جنگلی حیات کی مجموعی طور پر 111,234 تصاویر ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 40,444 تصاویر 18 منفرد جنگلی انواع سے متعلق تھیں جو انڈر پاسز استعمال کر رہی تھیں، جن میں مختلف گوشت خور، سبزی خور، کھُر والے جانور، تیتر نما پرندے اور بندر شامل ہیں۔ گولڈن جیکال (سنہری گیدڑ) سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نیل گائے، سامبر اور چیتل (اسپاٹڈ ہرن) شامل ہیں۔ چھوٹے ممالیہ، جیسے بھارتی خرگوش، نے بھی ان راستوں سے باقاعدہ گزرنے کا مظاہرہ کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تحقیق میں ہاتھیوں کے 60 مواقع پر محفوظ طریقے سے ان راہداریوں کے استعمال کو بھی ریکارڈ کیا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے جنگلی جانور بھی اس نئے انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنی قدرتی نقل مکانی جاری رکھ سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ راہداری کے نیچے آواز کے ماحول (ساؤنڈ اسکیپ) کا مؤثر انتظام جنگلی حیات کے قدرتی رویے کو برقرار رکھنے میں ایک اہم عنصر ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام مزاج رکھنے والی انواع، جیسے گولڈن جیکال اور جنگلی سور، ٹریفک کے شور کی عادی ہو چکی ہیں، جبکہ حساس انواع جیسے ہاتھی اور چیتل کم شور والے انڈر پاس حصوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ زیادہ استعمال والے مقامات پر جدید شور کم کرنے کے اقدامات، جیسے مخصوص ساؤنڈ بیریئرز کی تنصیب، شور سے متاثر ہونے والی انواع کے لیے گزرگاہ کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔
دہلی–دہرادون اکنامک کوریڈور کی ترقی نے نہ صرف انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کیا ہے بلکہ شوالک خطے میں انواع کی علیحدگی (Population Isolation) کے خطرے کو بھی کم کیا ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ بنائے گئے انفراسٹرکچر اقدامات، جیسے انڈر پاسز اور ایلیویٹڈ کوریڈورز، جنگلی جانوروں کے قدرتی مسکن کے تحفظ اور ماحولیاتی ربط کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
این ایچ اے آئی قومی شاہراہوں کی ترقی میں ماحولیاتی پائیداری کو شامل کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور مستقبل میں بھی جدید اور ڈیٹا پر مبنی حکمت عملیوں کو اپناتے ہوئے انفراسٹرکچر کی ترقی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھے گا۔




******
ش ح۔ ا م ۔ن ع
U.NO.5663
(ریلیز آئی ڈی: 2250812)
وزیٹر کاؤنٹر : 15