شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں 8 اپریل 2026 کو نئے بنیادی سال (2022-23) کے ساتھ ریاستی آمدنی اور متعلقہ مجموعوں پر کل ہند ورکشاپ کا افتتاح کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 APR 2026 5:11PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے تحت قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن (این اے ڈی) کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ سٹیٹسٹکس (ڈی ای ایس) کے افسران کے لیے 8 سے 10 اپریل 2026 تک ہوٹل داسپلا، سوریا باغ، وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش میں نئے بنیادی سال (2022-23) کے ساتھ ریاستی آمدنی اور متعلقہ مجموعی اشاریوں پر تین روزہ کل ہند ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اس ورکشاپ کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو قومی سطح پر متعارف کرائی گئی طریقہ کار کی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا اور علاقائی  (اکاؤنٹنگ )کھاتوں کے اعدادوشمار میں یکسانیت، شفافیت اور تقابلیت کو فروغ دینا ہے۔

ورکشاپ کا افتتاحی اجلاس 8 اپریل 2026 کو منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر سوربھ گرگ، سکریٹری (ایم او ایس پی آئی) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر دیگر معزز شخصیات میں حکومتِ آندھرا پردیش کے پرنسپل سکریٹری (خزانہ و منصوبہ بندی) جناب پیوش کمار، ایم او ایس پی آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن) جناب سدھارتھ کنڈو، اور ڈاکٹر سبھرا سرکار، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (این اے ڈی) شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ایم او ایس پی آئی اور ڈی ای ایس کے سینئر افسران، نیز ڈی ای ایس آندھرا پردیش کے ڈائریکٹر جناب بی۔ گوپال بھی موجود تھے۔

اپنے کلیدی خطاب میں، شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے ریاستوں کے قرض لینے کی حد اور مرکزی ٹیکسوں کی منتقلی کے لیے ایک اہم اشاریے کے طور پر جی ایس ڈی پی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے انتظامی ڈیٹا کے ذرائع جیسے جی ایس ٹی، ای-واہن اور پی ایف ایم ایس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جی ایس ٹی ڈیٹا کی دستیابی اخراجات کے ضمنی تخمینوں کی تیاری کو ممکن بناتی ہے۔ یہ تخمینے پیداوار کے طریقۂ کار کے ذریعے مرتب کردہ تخمینوں کی توثیق کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر قابلِ اعتماد تخمینے تیار کرنے کے لیے، خاص طور پر غیر رسمی شعبے کے حوالے سے، اے ایس یو ایس ای اور پی ایل ایف ایس جیسے سرویز میں ریاستوں کی فعال شرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مشن کرم یوگی کے تحت سادھنا ہفتہ 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اور حکمرانی کے کردار پر زور دیا۔

اپنے خصوصی خطاب میں، جناب پیوش کمار، پرنسپل سکریٹری (فنانس و منصوبہ بندی)، حکومت آندھرا پردیش نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بنیادی سال کو 2011-12 سے تبدیل کر کے 2022-23 کرنا معیشت میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ازسرِ نو جائزہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی سیریز بدلتی ہوئی معاشی حرکیات کی بہتر عکاسی کرے گی اور ریاستی و ضلعی سطح پر پالیسی منصوبہ بندی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ضلعی سطح کے اقتصادی ڈھانچے کو سمجھنے میں ڈسٹرکٹ ڈومیسٹک پروڈکٹ (ڈی ڈی پی) کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ سیریز آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد اس کی معیشت کی زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرے گی۔

جناب سدھارتھ کنڈو، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن، شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ نئے بنیادی سال کو اپنانا قومی کھاتوں کو متعلقہ رکھنے اور اقتصادی تبدیلیوں کی عکاسی کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے درست اور بروقت اعداد و شمار فراہم کرنے میں ریاستوں کے بنیادی کردار پر زور دیا، جو قومی مجموعی اعداد و شمار کی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔

ڈاکٹر سبھرا سرکار، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن)، شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت نے ریبیسنگ کے عمل میں وزارت کی کوششوں کو سراہا اور ڈی ای ایس حکام سے درخواست کی کہ وہ نئے بنیادی سال (2022-23) کے ساتھ جی ایس ڈی پی تخمینوں کی بروقت تالیف اور ترسیل  کو یقینی بنانے میں مکمل تعاون کریں۔

جناب بی گوپال، ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس، آندھرا پردیش نے صلاحیت سازی میں نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن کے کردار کو سراہا اور ورکشاپ کے انعقاد اور بنیادی سال کی نظرثانی کی مشق میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے افسران کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔

افتتاحی اجلاس کا اختتام جناب سبّا راؤ، ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس، آندھرا پردیش کی جانب سے تمام معززین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ہوا۔

تین روزہ ورکشاپ میں ایم او ایس پی آئی، نئی دہلی اور 31 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تقریباً 125 شرکاء شرکت کریں گے، جبکہ آسام، تریپورہ، لکشدیپ، پڈوچیری، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

 

*****

(ش ح۔اس ک  )

UR-5590


(ریلیز آئی ڈی: 2250274) وزیٹر کاؤنٹر : 25
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu