اسٹیل کی وزارت
بھارت کی اسٹیل صنعت نے 26-2025 میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کے باوجود مضبوط ترقی کی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 APR 2026 4:00PM by PIB Delhi
بھارت کی اسٹیل صنعت نے مالی سال 26–2025 میں مضبوط کارکردگی دکھائی، جس نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں کے دباؤ کے باوجود اسے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اسٹیل پروڈیوسر کے طور پر مستحکم کیاہے۔
مضبوط گھریلو مانگ اور بڑھتی ہوئی بنیادی ڈھانچہ سرگرمیوں کے زیر اثر، اس شعبے نے پیداوار، کھپت، اور برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا۔
پیداوار اورمانگ میں مضبوط اضافہ
بھارت کی خام اسٹیل کی پیداوار 26–2025 میں مسلسل بڑھتی رہی، سالانہ بنیاد پر 10.7 فیصدسے زائد بڑھ کر تقریباً 168.4 ملین ٹن (اپریل–مارچ) تک پہنچ گئی، جو صنعتی رفتار کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
گھریلو مانگ اہم ترقی کی محرک رہی، کیونکہ تیار شدہ اسٹیل کی کھپت تقریباً 164 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو 7–8 فیصدکے لگ بھگ بڑھ گئی اور بنیادی ڈھانچہ، تعمیرات، ریلوے، اور مینوفیکچرنگ کےشعبوں میں سرگرمیوں کے اضافے نے اس کی حمایت کی۔ حکومت کے بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹوں اور شہری ترقی کے اقدامات نے اس دوران اسٹیل کی کھپت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
برآمدات میں اضافہ اور تجارتی توازن میں بہتری
مالی سال 26–2025 کی ایک بڑی خصوصیت بھارت کی مضبوط برآمدات کی کارکردگی تھی۔ تیار شدہ اسٹیل کی برآمدات 35.9 فیصد بڑھ کر 6.6 ملین ٹن (اپریل–مارچ) تک پہنچ گئیں، جبکہ درآمدات میں 31.7 فیصد کی زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔
اس تبدیلی نے بھارت کو اسٹیل کا نیٹ ایکسپورٹر بننے میں مدد دی، اور اس کے عالمی مارکیٹ میں اثر و رسوخ کو مضبوط کیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، یورپ، اور جنوب مشرقی ایشیا میں۔
برآمدات میں یہ اضافہ مارکیٹ کی تنوع اور بھارتی اسٹیل مصنوعات کی بہتر مسابقت کی بدولت بھی ممکن ہوا ہے۔
پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کا رجحان
اس صنعت میں پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہا۔ مالی سال 26–2025 میں بھارت کی کل اسٹیل صلاحیت تقریباً 220 ملین ٹن تھی، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2030 تک 300 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی، جس کی حمایت پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اہم پارٹنر سیل،ٹاٹا اسٹیل اور جے ایس ڈبلیو اسٹیل نے صلاحیت میں اضافہ، ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے اور ویلیو ایڈیڈ اسٹیل پیداوار میں سرمایہ کاری جاری رکھی، جو طویل مدتی مانگ میں اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔
مستحکم قیمتیں لیکن مارجن دباؤ
بھارت میں اسٹیل کی قیمتوں میں گزشتہ تین سالوں میں کمی کے رجحان کے بعد 2026 کے آغاز میں بحال ہوئی ہیں۔
تاہم، خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کوکنگ کوئلہ، اور عالمی قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے منافع پر دباؤ برقرار رہا۔ بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اور فریٹ اخراجات نے سال کے آخر میں مارجنز پر اثر ڈالا، جس کی ایک وجہ جغرافیائی سیاسی بحران بھی تھا۔
ابھرتے ہوئے چیلنجز: توانائی کا بحران اور سپلائی میں رکاوٹیں
مشرق وسطیٰ سے گیس کی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے صنعتی ایندھن جیسے ایل پی جی ایندھن کی کمی ہوئی ہے، جس سے کئی اسٹیل پروڈیوسرز کے لیے پیداوار میں تسلسل خطرے میں پڑ گیا۔
حکومت نے اسٹیل سمیت اہم شعبوں کو ایل پی جی کی تقسیم بڑھا کر اثر کو کم کرنے اور پیداوار کی سطح برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کی ۔
مزید برآں ، توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے اس شعبے کے عالمی جھٹکوں کے خطرے کو اجاگر کیا ۔
لاجسٹکس اور گھریلو سرگرمی
مضبوط گھریلو مانگ نے لاجسٹکس کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا۔ بھارتی ریلوے نے لوہا اور تیار شدہ اسٹیل کے فریٹ میں اضافے کی اطلاع دی، جبکہ بھارت کی آٹھ بنیادی صنعتوں (ریفائنری مصنوعات، بجلی، اسٹیل، کوئلہ، خام تیل، قدرتی گیس، سیمنٹ، اور کھادیں) میں ترقی نے مختلف علاقوں میں پائیدار صنعتی سرگرمی اور کھپت کو ظاہر کیا۔
یہ رجحان اسٹیل شعبے کے بھارت کی وسیع تر اقتصادی ترقی میں اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
خصوصی جھلکیاں
توقع کی جارہی ہے کہ بھارت کی اسٹیل صنعت اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھے گی اور پیداوار میں مزید اضافہ متوقع ہے اور مانگ مضبوط رہے گی۔ تاہم، شعبے کو توانائی کی حفاظت، ان پٹ اخراجات، اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔
پالیسی سپورٹ، انفراسٹرکچر کی توسیع، اور گرین اسٹیل ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے ساتھ، یہ صنعت بھارت کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے موزوں ہے۔
ماخذ:-مالی سال 26-2025 کے لئے عارضی جے پی سی ڈیٹا ۔
*****
(ش ح –م م ع۔م ذ)
U. No. 5563
(ریلیز آئی ڈی: 2250090)
وزیٹر کاؤنٹر : 14