ریلوے کی وزارت
ریلوے نے 26-2025 میں مسافروں کی آمد و رفت کے ساتھ ساتھ مال برداری میں بھی نیا ریکارڈ قائم کیا
ہندوستانی ریلوے نےرواں برس741 کروڑ مسافروں کو منزل تک پہنچایا؛ گزشتہ برس کے مقابلے میں 3.54 فیصد اضافہ
مسافروں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 5.96 فیصد اضافہ؛ ہندوستانی ریلوے کی آمدنی 25-2024 کے 75,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 میں 80,000 کروڑ روپے ہوگئی
مال برداری (فریٹ لوڈنگ) میں 3.25 فیصد اضافے کے ساتھ ریلوے نے ریکارڈ 1670 ملین ٹن کارگو کی ترسیل کی
کھاد اور ’پگ آئرن و اسٹیل‘ دونوں کی نقل و حمل میں 13 فیصد سے زائد کا اضافہ اس شاندار ترقی کا محرک بنا
لوہے کی خام دھات کی ترسیل میں 6.74 فیصد اور سیمنٹ میں 4.74 فیصد اضافہ
جنوب مغربی ریلوے، شمال وسطی ریلوے، ایسٹ کوسٹ ریلوے اورمغربی وسطی ریلوے زونز نے مال برداری میں دو ہندسی (ڈبل ڈیجٹ) ترقی درج کر کے اس شاندار کارکردگی میں قیادت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2026 4:20PM by PIB Delhi
ہندوستانی ریلوے نے 26-2025 کے دوران مسافروں کی آمدو رفت اور مال برداری دونوں میں نمایاں سنگ میل حاصل کیے ہیں، جس کے تحت کارگو کی ترسیل میں نئے ریکارڈ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی آمد و رفت اور آمدنی میں بھی کافی اچھی ترقی درج کی گئی ہے۔ یہ کامیابیاں آپریشنل کارکردگی میں مسلسل بہتری، صلاحیت میں اضافے اور معیشت کے کلیدی شعبوں کے ساتھ ساتھ عام مسافروں کی جانب سے ریل پر مبنی نقل و حمل پر بڑھتے ہوئے بھروسے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نتائج ملک کے لاجسٹک نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ریلوے کے کلیدی کردار اور ملک بھر کے شہریوں کے لیے محفوظ، قابل اعتماد اور قابل رسائی سفری سہولیات کی فراہمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
مسافر آمدورفت میں اضافہ اور آمدنی میں نمو
ہندوستانی ریلوے نے رواں مالی برس کے دوران مسافروں کی آمد و رفت اور آمدنی میں نمایاں ترقی کو اجاگر کیاہے۔ مسافروں کی کل تعداد 25-2024 کے 716 کروڑ سے بڑھ کر 26-2025 میں 741 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 3.54 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے اور ملک بھر میں ریل کے استعمال میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے مجموعی آمدنی 25-2024 کے 75,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 میں تقریباً 80,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ مسافروں کی کثیر تعداد اور کمائی کی بدولت 5.96 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار مسافروں کی نقل و حمل میں انڈین ریلوے کے بڑھتے ہوئے کردار اور سال بہ سال اس کی بہتر ہوتی مالی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہیں۔
مال برداری میں ترقی لاجسٹکس کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاس ہے
مالی برس 26-2025 کے دوران ہندوستانی ریلوے نے ریکارڈ 1670 ملین ٹن(ایم ٹی) مال برداری کی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 3.25 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہینڈل کیے گئے، ویگنوں کی تعداد میں بھی 4.56 فیصد اضافہ ہوا، جو 25-2024 میں 2,79,12,271 سے بڑھ کر 26-2025 میں 2,91,86,475 ہو گئی۔ مال برداری (فریٹ لوڈنگ) میں یہ مسلسل اضافہ قابل اعتماد، کم لاگت اور موثر لاجسٹک حل کی بڑھتی ہوئی طلب کو اجاگر کرتا ہے، جو ریلوے کو بھاری بھرکم اشیاء کی نقل و حمل کے لیے ایک پسندیدہ ذریعہ بناتا ہے۔
کھاد، پگ آئرن اور تیار اسٹیل شاندار ترقی کے محرک
یہ نمو بنیادی طور پر کھاد (13.49؍فیصد) اور ’پگ آئرن اور اسٹیل‘ (13.11؍فیصد) جیسے اہم شعبوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ زرعی شعبے سے متعلق مختلف اشیاء کی بڑھتی ہوئی مانگ اور خصوصاً اسٹیل کے شعبے میں صنعتی سرگرمیوں کی مسلسل توسیع کو ظاہر کرتی ہے۔
لوہے کی خام دھات اور سیمنٹ نے بنیادی ڈھانچے کی رفتار کو برقرار رکھا
بنیادی ڈھانچے سے متعلقہ اہم اشیاء نے بھی اس رفتار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لوہے کی خام دھات (آئرن اور) کی نقل و حمل 6.74 فیصد اضافے کے ساتھ 190.12 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ سیمنٹ کی لوڈنگ 4.74 فیصد اضافے کے ساتھ 157.17 ملین ٹن رہی۔ یہ رجحانات ملک بھر میں جاری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں ریلوے ایک اہم لاجسٹک پارٹنر کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ریلوے زونز میں متوازن ترقی
مالی برس26-2025 کے دوران زون کے لحاظ سے لوڈنگ کی کارکردگی کئی خطوں میں وسیع البنیاد ترقی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں جنوب مغربی ریلوے (ایس ڈبلیو آر )نے گزشتہ برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ 14.89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ دو ہندسی (ڈبل ڈیجٹ) میں نمایاں ترقی درج کرنے والے دیگر زونز میں شمال وسطی ریلوے(این سی آر) 12.62 فیصد، ایسٹ کوسٹ ریلوے(ای سی او آر) 10.42 فیصد اور مغربی وسطی ریلوے(ڈبلیو سی آر) 10.06 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔مثبت شرح نمو درج کرنے والے مزید زونز میں مشرقی ریلوے( ای آر) 0.78 فیصد، مشرقی وسطی ریلوے 0.39 فیصد، شمال مشرقی ریلوے0.25 فیصد، نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ریلوے(این ایف آر 6.75 فیصد، شمال مغربی ریلوے 5.17 فیصد، جنوب وسطی ریلوے(ایس سی آر) 2.59 فیصد، جنوب مشرق وسطی ریلوے 3.18 فیصد، سدرن ریلوے (ایس آر) 1.10فیصداور مغربی ریلوے(ڈبلیو آر) 3.57 ؍فیصد شامل ہیں۔ زونز میں یہ وسیع پیمانے پر بہتری، انڈین ریلوے نیٹ ورک میں متوازن علاقائی ترقی اور مال برداری کی بہتر صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔
مال برداری سے ہونے والی آمدنی میں زبردست اضافہ
مال برداری میں شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ریلوے نے مال بھارے کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ درج کیا ہے، جو 26-2025 میں تقریباً 1,77,754 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ 25-2024 کی 1,75,302 کروڑ روپے کی آمدنی کے مقابلے میں 1.44 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ مختلف اشیاء میں، لوہے کی خام دھات (آئرن اور) 14,600.51 کروڑ روپے کے ساتھ آمدنی میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والی شے بن کر ابھری ہے، جس کے بعد سیمنٹ (13,599 کروڑ روپے)، پگ آئرن اور تیار اسٹیل (12,181 کروڑ روپے)، کھاد (9,039 کروڑ روپے)، غذائی اجناس (8,312.5 کروڑ روپے) اور معدنی تیل (7,249.54 کروڑ روپے) کا نمبر آتا ہے۔
ریلوے ملک کی ترقی اور رابطوں کے فروغ میں بدستور پیش پیش
مال برداری میں اپنی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے مسافروں کی آمد و رفت اور آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ کیا ہے، جو ملک بھر میں قابل اعتماد اور موثر نقل و حمل کی فراہمی میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مسلسل کارکردگی ملک کی اقتصادی ترقی، رابطوں کی بہتری، لاجسٹک اخراجات میں کمی اور ایک زیادہ پائیدار اور موثر ٹرانسپورٹ ایکو سسٹم کی حمایت میں ریلوے کے کلیدی تعاون کو اجاگر کرتی ہے۔
*********
UR-5557
(ش ح۔ م ع ن ۔ص ج)
(ریلیز آئی ڈی: 2250076)
وزیٹر کاؤنٹر : 30