وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
بھارت کی سمندری غذائی برآمدات: ترقی سے عالمی مسابقت تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 APR 2026 9:40AM by PIB Delhi
بھارت کا ماہی پروری کا شعبہ خوراکی تحفظ، روزگار، برآمدی آمدنی اور پائیدار ذریعۂ معاش میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا شعبہ بن کر ابھرا ہے، جسے 2015 سے اب تک حکومتِ ہند کی جانب سے ریکارڈ 39,272 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے تقویت ملی ہے۔ یہ شعبہ بنیادی سطح پر تقریباً 3 کروڑ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، جبکہ قدر افزائی کی پوری زنجیر میں اس سے تقریباً دوگنی تعداد مستفید ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر آبی زراعت کے دوسرے بڑے پیدا کنندہ کے طور پر بھارت دنیا کی مجموعی مچھلی پیداوار کا تقریباً 8 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ جو شعبہ کبھی زیادہ تر روایتی نوعیت کا تھا، وہ گزشتہ دہائی میں ایک تجارتی لحاظ سے اہم میدان میں تبدیل ہو چکا ہے اور ساتھ ہی چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کے لیے جامع ترقی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا اظہار پیداوار میں اضافے سے ہوتا ہے، جہاں مچھلی کی پیداوار 2019-20 میں 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی، جو سالانہ اوسطاً تقریباً 7 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
بھارت کی سمندری غذائی برآمدات میں مضبوط اور مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو گزشتہ 11 برسوں میں اوسطاً 7 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھی ہیں۔ اس عرصے کے دوران سمندری مصنوعات کی برآمدات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں، جو 2013-14 میں 30,213 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جس میں جھینگا (شرمپ) کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے، جن کی مالیت 43,334 کروڑ روپے رہی۔
بھارت کی سمندری غذائی برآمدات ایک وسیع اور متنوع فہرست پر مشتمل ہیں، جن میں 350 سے زائد اقسام کی مصنوعات تقریباً 130 عالمی منڈیوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ 2024-25 میں برآمدی قدر کے لحاظ سے امریکہ سب سے بڑی منڈی رہا، جس کا حصہ 36.42 فیصد ہے، اس کے بعد چین، یورپی یونین، جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور مشرقِ وسطیٰ کا نمبر آتا ہے، جبکہ دیگر منڈیاں مجموعی طور پر تقریباً 9 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ برآمدی اشیاء میں اب بھی منجمد جھینگا سرفہرست ہے، جسے بھارت کی نمایاں سمندری پیداوار سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد منجمد مچھلی، اسکویڈ، خشک اشیاء، منجمد کٹل فش، سُرِیمی پر مبنی مصنوعات، اور زندہ و ٹھنڈی حالت میں فراہم کی جانے والی سمندری غذائیں شامل ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف عالمی طلب کی مضبوطی بلکہ مصنوعات میں بڑھتی ہوئی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کا حصہ 2.5 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا ہے، جو برآمدی مالیت کے لحاظ سے 742 ملین امریکی ڈالر بنتا ہے۔
چند مخصوص اجناس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنے اور عالمی سمندری غذائی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت برآمدی اشیاء میں تنوع لانے کی پالیسی پر فعال طور پر عمل کر رہی ہے۔ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت محکمۂ ماہی پروری پوری قدر افزائی کی زنجیر میں مختلف اقدامات کی حمایت کر رہا ہے، جن میں معیاری مچھلی کے بیج کی پیداوار، کھارے پانی کی آبی زراعت کی توسیع اور تنوع، برآمدات کے لیے موزوں اقسام کی ترویج، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، بیماریوں کا انتظام، سراغ رسانی کے نظام (ٹریس ایبلٹی) اور صلاحیت سازی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعد از برداشت ڈھانچے کو مضبوط بنانے، مؤثر کولڈ چین نظام، جدید ماہی گیری بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کی ترقی پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
اسی کے ساتھ حکومت اعلیٰ قدر کی حامل اقسام پر مبنی متنوع آبی زراعت کو فروغ دے رہی ہے، جن میں ٹونا، سی باس، کوبیا، پامپانو، مڈ کریب، گفٹ ٹیلاپیا، گروپر، ٹائیگر جھینگا، اسکامپی اور سمندری گھاس شامل ہیں، تاکہ بھارت کی مصنوعات کی فہرست کو وسعت دی جا سکے اور بین الاقوامی اعلیٰ معیار کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
اہم برآمدی منڈیوں تک رسائی کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت اپنے ماہی پروری کے شعبے کو بتدریج بین الاقوامی ضوابط اور پائیداری کے معیارات کے مطابق ہم آہنگ کر رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی شرائط، بالخصوص میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ (ایم ایم پی اے) کے تقاضوں کو پورا کرنے پر توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت سمندری ممالیہ جانوروں کے غیر ارادی شکار (بائی کیچ) کو کم کرنا ضروری ہے۔ مسلسل کوششوں، سائنسی جائزوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد بھارت کو 2025 میں امریکی حکام سے مطابقت کی منظوری حاصل ہوئی، جس سے دسمبر 2025 کے بعد بھی امریکی منڈی میں سمندری غذائی برآمدات بلا رکاوٹ جاری رہیں۔
اسی دوران جنگلی جھینگے کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے نمٹنے کے لیے جھینگا پکڑنے والی کشتیوں پر ٹرٹل ایکسکلوڈر ڈیوائسز (ٹی ای ڈیز) کی تنصیب کا عمل جاری ہے، جو ساحلی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے سراغ رسانی اور تصدیقی نظام کو بھی مضبوط بنایا ہے اور ایک قومی ڈیجیٹل فریم ورک متعارف کرایا ہے تاکہ پیداوار سے لے کر برآمد تک مکمل نگرانی، غذائی تحفظ اور عالمی معیار کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں پائیدار ماہی گیری سے متعلق نئے ضوابط کے ساتھ یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک خود کو ایک ذمہ دار اور عالمی معیار پر پورا اترنے والے سمندری غذائی برآمد کنندہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
ماہی پروری کے شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے محکمۂ ماہی پروری نے متعدد ضابطہ جاتی اور درآمدی طریقۂ کار کو سادہ اور مؤثر بنایا ہے۔ سینیٹری امپورٹ پرمٹ (ایس آئی پی) نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں منظوری کا وقت 30 دن سے کم ہو کر صرف 72 گھنٹے رہ گیا ہے۔ ایس پی ایف جھینگا بروڈ اسٹاک، مچھلی کے تیل، محدود تحقیق و ترقی کے نمونوں اور ویلیو ایڈیشن اور دوبارہ برآمد کے لیے مخصوص جنگلی مچھلی کی درآمد پر ایس آئی پی کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ حالیہ قانونی اصلاحات کے ذریعے آبی زراعت کے یونٹس پر تعمیلی بوجھ بھی کم کیا گیا ہے، جو اس شعبے کو مزید کاروبار دوست اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
آئندہ پانچ برسوں میں حکومت بھارت کی عالمی سمندری غذائی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں توجہ زیادہ قدر والی برآمدات، وسیع منڈیوں تک رسائی اور مضبوط معیار کی یقین دہانی پر مرکوز ہوگی۔ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کے حصے میں اضافہ متوقع ہے، جسے پروسیسنگ سہولیات کی توسیع، ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور بہتر تصدیقی نظام کی مدد حاصل ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ، یورپی یونین، آسیان اور مغربی ایشیا جیسی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے، اندرونِ ملک برآمدی مراکز قائم کرنے اور میٹھے پانی کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ بہتر کولڈ چین نظام، ڈیجیٹل سراغ رسانی اور تعمیلی فریم ورک بھارت کے اس عزم کو تقویت دیں گے کہ وہ آنے والے برسوں میں ایک قابلِ اعتماد اور اعلیٰ معیار کا سمندری غذائی برآمد کنندہ بن کر ابھرے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-5365
(ریلیز آئی ڈی: 2248755)
وزیٹر کاؤنٹر : 24