نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن کا آج نئی دہلی میں ٹیلی لا اقدام پر قومی مشاورتی اجلاس سے خطاب


نائب صدر نے ٹیلی لا اقدام کے تحت سب کے لیے جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی انصاف تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا

نائب صدر نے کہا کہ ٹیلی لا انصاف کے خلا کو پُر کرے گا اور شہری مرکوز قانونی نظام کو مضبوط بنائے گا

سب کے لیے قابلِ رسائی، کم خرچ اور بروقت انصاف جمہوریت کی بنیاد: نائب صدر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAR 2026 6:28PM by PIB Delhi

بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج نئی دہلی میں وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے منعقدہ ’’ڈیزائننگ انوویٹو سلوشنز فار ہولسٹک ایکسس ٹو جسٹس (دِشا) اسکیم‘‘ کے تحت ٹیلی لا اقدام پر قومی مشاورتی اجلاس 2026 سے خطاب کیا اور تمام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی، کم خرچ اور بروقت انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انصاف تک رسائی جمہوریت کی بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ یہ قومی مشاورتی اجلاس اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف چند افراد کی مراعات نہ رہے بلکہ سب کا حق بنے۔

حالیہ قانونی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ نئے فوجداری قوانین کی جانب منتقلی ایک تاریخی قدم ہے، جو طریقۂ کار کو آسان بنا کر اور کارکردگی کو بہتر بنا کر زیادہ شہری مرکوز نظام انصاف کی طرف پیش رفت ہے۔

انہوں نے حکمرانی میں ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) یعنی فائدوں کی براہ راست منتقلی اور ٹیلی میڈیسن جیسے اقدامات کا حوالہ دیا اور ٹیلی لا اقدام کو قانونی خدمات کو عام کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ دائر ہونے سے پہلے قانونی مشورہ تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے، غیر ضروری مقدمات کو کم کرنے اور عدالتوں پر بوجھ گھٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

لسانی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے آئینِ ہند کو مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب بنانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ قانونی مشاورت مقامی زبانوں میں فراہم کی جانی چاہیے تاکہ عوام کی سمجھ اور شمولیت میں اضافہ ہو۔

اہم ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے شمولیت، معیار اور جوابدہی اور مقصد کے ساتھ جدت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین، دیہی اور پسماندہ طبقات تک قانونی خدمات کی آخری حد تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششوں کی اپیل کی۔

نائب صدر نے پیرا نیم قانونی رضاکاروں، مشترکہ خدمات مراکز، پینل وکلا اور دیگر متعلقہ فریقین کی نچلی سطح پر خدمات کو سراہا، جنہوں نے انصاف تک رسائی کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے وزارتِ قانون و انصاف اور اس کے شراکت دار اداروں کی بھی تعریف کی، جنہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک زیادہ مؤثر، جامع اور منصفانہ قانونی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس موقع پر نائب صدر نے قانونی آگاہی، رسائی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد علمی مواد اور ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات کا بھی اجرا کیا۔

انہوں نے ’’وائس آف بینیفیشریز‘‘ کتابچہ 2025–26 کا اجرا کیا، جس میں ان افراد کی متاثر کن کہانیاں شامل ہیں جن کی زندگیاں ٹیلی لا خدمات کے ذریعے مثبت طور پر تبدیل ہوئی ہیں۔

انہوں نے ’نیائے سیتو‘ بھی متعارف کرایا، جو ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ہے اور شہریوں اور قانونی خدمات کے درمیان ایک ڈیجیٹل پل کا کردار ادا کرے گا۔

نائب صدر نے نیائے سیتو کے میسکوٹ کا بھی اجرا کیا، جسے انصاف کی فراہمی کی ایک آسان اور قابلِ فہم علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، خاص طور پر دیہی اور ڈیجیٹل سہولیات سے محروم طبقات میں عوامی شمولیت بڑھانے کے لیے۔

تقریب کے دوران نیشنل لا یونیورسٹی، دہلی کے اشتراک سے تیار کردہ قانونی آگاہی پر مبنی کامک کتابوں کی ایک سیریز بھی جاری کی گئی۔

اس موقع پر قانون و انصاف کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کے وزیرِ مملکت جناب ارجن رام میگھوال اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-5090


(ریلیز آئی ڈی: 2246706) وزیٹر کاؤنٹر : 8