سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اہم معدنیات کی کھوج کو وسعت دے گا اور درآمدی انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک ضروریات کی تکمیل کے لیے مضبوط داخلی ویلیو چینز قائم کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


’نیشنل منرل ایکسپلوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ‘ (این ایم ای ٹی) کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں اہم معدنیات کی تلاش کا جائزہ لیا گیا اور اس عمل میں تیزی لانے، نوآموز اداروں (اسٹارٹ اپس) کی شمولیت بڑھانے اور مضبوط داخلی سپلائی سلسلے قائم کرنے پر زور دیا گیا

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کھوج کے علاقوں میں اراکینِ پارلیمنٹ اور اراکینِ اسمبلی کی شمولیت سے زمینی سطح پر بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ معدنیات کے شعبے کی ترقی میں سی ایس آئی آر – انسٹی ٹیوٹ آف منرلز اینڈ میٹریلز ٹیکنالوجی اور محکمۂ جوہری توانائی جیسے سائنسی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 MAR 2026 1:39PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ ’’بھارت اہم معدنیات کی کھوج کے عمل کو وسعت دینے، اسٹارٹ اپس کی قیادت میں کان کنی کا نظام قائم کرنے اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے مضبوط داخلی ویلیو چینز تشکیل دینے کے مرحلے میں ہے۔‘‘

جی پی او اے کمپلیکس میں منعقدہ ’’نیشنل منرل ایکسپلوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ(این ایم ای ٹی)‘‘  کی گورننگ باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اہم ترجیحات کا خاکہ پیش کیا، جن میں تلاش کے عمل کو تیز کرنا، داخلی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور اہم معدنیات کے شعبے میں شمولیت کو فروغ دینا شامل ہے۔

یہ اجلاس جی کشن ریڈی مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی اور چیئرمین، گورننگ باڈی، (این ایم ای ٹی) کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزارتِ کان کنی کے سینئر افسران، سی ایس آئی آر – انسٹی ٹیوٹ آف منرلز اینڈ میٹریلز ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر، ایٹامک منرلز ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر، محکمۂ جوہری توانائی کے نمائندگان، ایکسپلوریشن ایجنسیوں کے حکام اور ریاستی حکومتوں (راجستھان، تلنگانہ اور مہاراشٹر) کے نمائندگان شریک ہوئے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ خاص طور پر لیتھیم اور دیگر اہم معدنیات کی تلاش کی رفتار کو عالمی طلب اور بھارت کی اسٹریٹجک ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے راجستھان کے سیوانہ بیلٹ اور جموں و کشمیر کے سلال–ہائمنا بلاک جیسے علاقوں میں جاری کام کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ممکنہ علاقوں میں مقامی سطح پر کھوج کی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر زور دیا۔

وزیر نے کہا کہ بھارت کو مقامی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبے میں داخلے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ بایوٹیکنالوجی کے اسٹارٹ اپ نظام کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کی ادارہ جاتی معاونت، ہدفی مراعات اور رہنمائی کے طریقۂ کار کان کنی کی ٹیکنالوجی اور تلاش کے طریقوں میں جدت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی ایکسپلوریشن ایجنسیوں کی صلاحیت میں اضافہ اس شعبے کی طویل مدتی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے نوٹیفائیڈ پرائیویٹ ایکسپلوریشن ایجنسیز (این پی ای ای ایس) کے کردار کو مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی اور مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے اور منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ نجی شعبے کی مؤثر شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ کھوج کی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تیز تر منظوریوں، بہتر خریداری کے نظام اور بروقت قبل از تلاش (پری ایکسپلوریشن) اجازت ناموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگلاتی منظوریوں سے متعلق مسائل کئی منصوبوں کی مدت کو متاثر کر رہے ہیں، جن کے حل کے لیے مربوط کوششیں ضروری ہیں۔

مقامی سطح پر شمولیت کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ جہاں تلاش کا کام جاری ہے وہاں منتخب نمائندگان، بشمول اراکینِ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے اراکین کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مقامی برادریوں میں بیداری پیدا ہوگی اور منصوبوں کے نفاذ میں آسانی ہوگی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مکمل داخلی سپلائی چین کی ترقی ضروری ہے، جس میں پروسیسنگ اور قدر میں اضافہ (ویلیو ایڈیشن) شامل ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر، اڈیشہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور گجرات جیسی ریاستوں میں پروسیسنگ صلاحیت قائم کرنے کی جاری کوششوں کا ذکر کیا، جو عالمی معدنیاتی سپلائی چین میں بھارت کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں معاون ہوں گی۔

وزیر نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارت تک رسائی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے، تاہم ساتھ ہی سی ایس آئی آر – انسٹی ٹیوٹ آف منرلز اینڈ میٹریلز ٹیکنالوجی اور محکمۂ جوہری توانائی جیسے اداروں کے ذریعے مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔

این ایم ای ٹی کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سالانہ منصوبوں، منصوبوں کی منظوری، مالی معاونت اور ادارہ جاتی نظام پر گفتگو کی، جن کا مقصد کارکردگی اور نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایم ای ٹی کو بدستور جدت کی حمایت، ایکسپلوریشن ایجنسیوں کی سہولت کاری، ریاستوں کی حوصلہ افزائی اور اہم معدنیات کی بازیافت کے لیے پائلٹ منصوبوں کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھوج کے علاقوں میں عوامی آگاہی ضروری ہے تاکہ مقامی برادریاں معدنی ترقی کے طویل مدتی فوائد کو سمجھ سکیں۔

اس موقع پر جی کشن ریڈی نے کہا کہ اہم معدنیات بھارت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور ان کی تلاش کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ تیز تر نیلامیوں اور ریاستوں و نجی شعبے کی زیادہ شمولیت پر زور دیا۔

وزارتِ کان کنی کے سینئر حکام نے این ایم ای ٹی کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں تلاش کے منصوبوں کی پیش رفت، اسٹارٹ اپ اقدامات، منصوبوں کی منظوری کے طریقۂ کار اور ہم آہنگی و کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2(22)HRXC.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1(22)N5DR.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3(22)ZKIW.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/4(21)PNN6.JPG

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4962


(ریلیز آئی ڈی: 2245666) وزیٹر کاؤنٹر : 22
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी