قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، بھارت نے چھتیس گڑھ کی مختلف جیلوں میں گزشتہ 4برسوں کے دوران 285 قیدیوں کی مبینہ اموات کے معاملے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے
اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی میں ان اموات کی وجوہات خودکشی اور دائمی بیماریوں کو قرار دیا ہے
کمیشن نے ریاست کے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی ہے
رپورٹ میں جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں سے متعلق اعداد و شمار، ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کی تفصیلات، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAR 2026 11:26AM by PIB Delhi
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ کی مختلف جیلوں میں گزشتہ چار برسوں کے دوران مجموعی طور پر 285 قیدیوں کی موت واقع ہوئی۔ ان میں سب سے زیادہ 90 اموات سنہ 2022 میں ہوئیں، جبکہ جنوری 2025 سے 31 جنوری 2026 کے دوران 66 اموات رپورٹ کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی میں ان اموات کی وجوہات خودکشی اور دائمی بیماریوں کو قرار دیا ہے۔
23 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست کی بیشتر جیلیں گنجائش سے زیادہ قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں، جس کے باعث قیدیوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ اکثر جیلوں میں قیدیوں کے طبی علاج کے لیے ڈاکٹروں اور ماہرینِ نفسیات کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں بیان کردہ حقائق درست ہیں تو یہ متاثرین کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہے۔ چنانچہ کمیشن نے ریاست چھتیس گڑھ کے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی ہے۔ اس رپورٹ میں جیلوں میں مبینہ بھیڑ سے متعلق اعداد و شمار، ڈاکٹروں کی خالی آسامیوں کی تفصیلات، اور مسئلے کے حل کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو شامل کرنے کی توقع کی گئی ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4956
(ریلیز آئی ڈی: 2245569)
وزیٹر کاؤنٹر : 15