قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، بھارت نے آندھرا پردیش کے ضلع ایسٹ گوداوری میں فروری کے وسط سے ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال کے باعث 16 افراد کی مبینہ ہلاکت کے معاملے کا ازخود نوٹس لے لیا
ریاست کے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی گئی ہے
رپورٹ میں صحت کی موجودہ صورتحال، تفتیش کی پیش رفت، نیز جاں بحق افراد کے لواحقین کو دی گئی کسی بھی ممکنہ معاوضے کی تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAR 2026 11:27AM by PIB Delhi
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) بھارت نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے ضلع ایسٹ گوداوری کے علاقوں لالاچیرو، چودیشور نگر اور سوروپ نگر میں فروری کے وسط سے ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال کے باعث 16 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مزید یہ کہ کم از کم چار افراد، جن میں اسی نوعیت کی علامات پائی گئیں، زیرِ علاج بتائے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دودھ میں ایک زہریلا مادہ، ایتھیلین گلائکول، شامل تھا جس کے باعث جسم کے متعدد اعضا ناکارہ ہو گئے۔ آلودگی کے ممکنہ منبع کا سراغ نرساپورم گاؤں میں واقع ایک ڈیری تک لگایا گیا ہے، جو علاقے کے 100 سے زائد گھروں کو دودھ فراہم کر رہی تھی۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر کی تفصیلات درست ہیں تو یہ متاثرین کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ لہٰذا کمیشن نے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی ہے۔ اس رپورٹ میں صحت کی صورتحال، تفتیش کی پیش رفت، نیز جاں بحق افراد کے لواحقین کو دیے گئے کسی بھی معاوضے کی تفصیلات شامل کرنے کی توقع کی گئی ہے۔
23 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، بیماری کے واقعات فروری 2026 کے وسط میں اس وقت سامنے آئے جب مقامی باشندوں میں پیٹ درد، قے، پیشاب کا بند ہو جانا (اینوریا) اور گردوں کی شدید خرابی جیسی پیچیدہ علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ متاثرین میں زیادہ تر یا تو معمر افراد تھے یا کم سن بچے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4955
(ریلیز آئی ڈی: 2245566)
وزیٹر کاؤنٹر : 14