جل شکتی وزارت
جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پٹیل نے جل جیون مشن سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 3:28PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کی مشاورتی کمیٹی کا ایک اجلاس 24 مارچ 2026 کو جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پٹیل کی صدارت میں ان کے رہائشی مقام پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا اور جناب راج بھوشن چوہدری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کی پیش رفت، اثرات اور مستقبل کے منصوبہ جات پر تفصیلی پریزنٹیشن (پی پی ٹی) پیش کی گئی۔
اجلاس کے دوران اراکین کو دیہی بھارت میں پینے کے پانی کی حفاظت کو یقینی بنانے میں جل جیون مشن کی اہم کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔ محفوظ پینے کے پانی تک رسائی نے اسہال، کولرا اور ٹائیفائیڈ جیسی پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے اور ساتھ ہی بچوں کی صحت، غذائیت اور اسکول حاضری میں بہتری آئی ہے۔
اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ کابینہ نے جل جیون مشن کی مدت کو دسمبر 2028 تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے لیے 8.69 لاکھ کروڑ روپے کی بڑھتی ہوئی مالی معاونت مختص کی گئی ہے۔ نئے ڈھانچے کے تحت جے جے ایم 2.0 کا مقصد بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر پائیدار، قابل اعتماد اور معیار پر مبنی خدمات فراہم کرنا ہے۔
اجلاس میں کچھ اہم اصلاحی شعبے نمایاں کیے گئے:
- دیہی پانی کی فراہمی کے نظام میں ڈیجیٹل ڈیٹا گورننس قائم کرنا: قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر – ‘‘سوجلام بھارت’’
- پانی کی خدمات کی فراہمی کے لیے یوٹیلٹی پر مبنی نقطۂ نظر
- گرام پنچایت کے ذریعے کمیونٹی کی قیادت میں گورننس کو مضبوط کرنا
- پانی کے معیار کی نگرانی اور شہری شمولیت کا ادارہ جاتی نظام
- مالیاتی استحکام اور او اور ایم نظام کو یقینی بنانا
- ضلع سطح پر تکنیکی صلاحیت کو مضبوط کرنا، ضلع تکنیکی یونٹس (ڈی ٹی یوز) کے ذریعے مسلسل معاونت
- وسائل کی پائیداری اور پانی کی حفاظت کے فریم ورک کا قیام
- ‘جن بھاگیداری’ کے ذریعے ایونٹ پر مبنی اقدامات سے منظم شراکتی حکمرانی کی طرف منتقلی
- مسلسل خدمات کی بہتری کے لیے صلاحیت سازی کا فریم ورک
وزارت نے ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم اویوز) پر دستخط کرنے کا عمل شروع کیا ہے، جس میں 11 ریاستیں پہلے ہی شامل ہیں۔ ریاستوں سے جے جے ایم 2.0 کے نفاذ کے لیے مالی تجاویز پیش کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
اہم نکات:
مشن نے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق سے خدمات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی ہے اور ہر شخص کے لیے روزانہ کم از کم 55 لیٹر پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
رسائی کی حدود کو محلہ سطح سے گھرانہ سطح تک بڑھایا گیا، تاکہ ہر دیہی گھرانے کو نل کے پانی کا کنکشن ملے۔
مارچ 2026 تک 15.82 کروڑ (82 فیصد) دیہی گھرانوں کو فعال ہاؤس ہولڈ ٹاپ کنکشنز (ایف ایچ ٹی سیز) فراہم کیے جا چکے ہیں، جو 2019 میں 3.23 کروڑ (17فیصد) تھے، یعنی تقریباً پانچ گنا اضافہ۔
28 لاکھ کلومیٹر سے زائد پائپ لائنز اور لاکھوں اثاثے ڈیجیٹل طور پر نقشہ بندی اور جیو ٹیگ کیے گئے، جس سے شفافیت اور نگرانی مضبوط ہوئی۔
جن بھاگیداری اور مواصلاتی حکمت عملی: کمیونٹی کی شمولیت کو “جل اَرپن”، “جل اُتسَو”، اور “جل سنکلپ” جیسی پہل کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ آگاہی مہمات اسکول کے نصاب، کمیونٹی ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کی زیادہ شمولیت اور ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں مشاورتی کمیٹی کے اراکین نے قیمتی تجاویز پیش کیں، جنہیں وزارت مناسب طور پر مدنظر رکھے گی۔ جل شکتی کے وزیر نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے “ہر گھر جل” کے مقصد کو وقت کی پابندی اور پائیداری کے ساتھ حاصل کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔
********
ش ح۔ ع ح۔ش ہ ب
U. No.4880
(ریلیز آئی ڈی: 2245252)
وزیٹر کاؤنٹر : 7