ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: جدید ترین موسمیاتی بنیادی ڈھانچے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 12:36PM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنسز نیز سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت(آزادانہ چار) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 25 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں بتایا کہ لنگانہ کے ضلع ورنگل میں جدید ترین موسمیاتی بنیادی ڈھانچے کام کررہے ہیں ۔ ضلع میں پانچ خودکار موسمی اسٹیشنز/خودکار بارش پیما (ہنمکنڈہ، ممنور-کے وی کے، سدھاپور، پی ٹی او ورنگل اور مولوگو) کام کر رہے ہیں۔ ضلع ورنگل میں کوئی ڈوپلر ویدر ریڈار (ڈی ڈبلیو آر نصب نہیں ہے۔ قریب ترین فعال ایس-بینڈڈیوپلر ریڈار حیدرآباد اور وشاکھاپٹنم میں نصب ہیں۔ ان کا ریڈیائی دائرہ کار تقریباً 400 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جو ورنگل اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کا احاطہ کرتا ہے اور ان خطوں کی نگرانی کو ممکن بناتا ہے جہاں مقامی طور پر یہ تنصیبات موجود نہیں ہیں۔
مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص مقامات پر متعلقہ ریاستی حکومتوں کو سیلاب کی پیش گوئی جاری کرے۔ ضلع ورنگل میں مرکزی آبی کمیشن کا کوئی بھی سیلاب کی پیش گوئی (ایف ایف) کرنے والا نظام موجود نہیں ہے۔ تاہم، پیش گوئی کرنے والے اسٹیشنز ( ایف ایف اسٹیشنز) ملحقہ اضلاع یعنی مولوگو، جے شنکر بھوپال پلی اور محبوب آباد میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ مولوگو اور جے شنکر بھوپال پلی میں مرکزی آبی کمیشن کےبروقت ڈیٹا حاصل کرنے کے نظام(آر ٹی ڈی اے ایس) اسٹیشنز،جن میں سے ہر ایک میں ایک لیول فورکاسٹ اسٹیشن اور ایک ان فلو فورکاسٹ اسٹیشن موجود ہے—ضلع ورنگل میں سیلاب کی نگرانی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
حکومت بروقت مواصلت کو یقینی بنانے کے لیے ترسیل کے مختلف طریقہ کار اپناتی ہے، جس میں الرٹس اور انتباہات شامل ہیں، تاکہ یہ تمام متعلقہ افراد تک پہنچ سکیں اور مقامی حکام، ریاستی حکومتوں، قدرتی آفات سے بندوبست سے متعلق ریاستی اتھارٹی ، قدرتی آفات سے بندوبست سے متعلق قومی اتھارٹی ، وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) اور عوام کو آسانی فراہم کرنے کے لیےمناسب اقدامات کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ورنگل سمیت تلنگانہ میں شدید بارش اور سیلاب جیسے سخت موسمی حالات کے حوالے سے جاری کردہ الرٹس، ایڈوائزریز، پیش گوئیوں اور بلیٹنز کی تعداد ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہے۔
ارضیاتی سائنسز کی وزارت( ایم او ای ایس) نے شدید موسمی واقعات، بشمول موسلا دھار بارش کے لیے جدید ترین قبل از وقت انتباہی نظام تیار کیے ہیں۔ ان نظاموں کو ایک جدید ترین مشاہداتی نیٹ ورک کی مدد حاصل ہے جو سطحِ زمین اور بالائی فضا کے مشاہدات، ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن ڈائینامک ماڈلز اورارضیاتی سائنسز کی وزارت کے اداروں کے تیار کردہ مکمل جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ سازی میں مدد کے نظام ( ڈی ایس ایس) پر مشتمل ہے، جو ملک بھر میں موسمی خطرات کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام کے سرکردہ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اس نظام کو جدید ٹیلی مواصلات کی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ ارضیاتی سائنسز کی وزارت کی جانب سے موسمی معلومات اور الرٹس کی ترسیل کے مؤثر طریقے درج ذیل ہیں:
- عوامی الرٹس اور معلومات 'موسم'، 'میگھ دوت'، 'دامنی' اور 'امنگ' جیسی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
- رجسٹرڈ صارفین کو ای میل اور ایس ایم ایس پر مبنی فوری اطلاع اور پیش گوئی اور مستقبل کی پیش گوئی کے الرٹس بذریعہ ڈیجیٹل ذرائع بھیجے جاتے ہیں۔
- الرٹس سے متعلق مشترکہ ضابطے (سی اے پی) اور 'ساچیت' ایپ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔
- معلومات سوشل میڈیا اور ماس میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کی جاتی ہیں۔
- پولیس محکمہ کے 'تلنگانہ مربوط کمانڈ اور کنٹرول مرکز' کے تعاون سے ضلع کلکٹرز کو براہ راست ای میل اور واٹس ایپ گروپ نوٹیفیکیشنز کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔
- کمیونٹی ریڈیو،سرکاری نشریاتی نظام اور دیگر مقامی مواصلاتی نیٹ ورکس کے ذریعے نشریاتی ترسیل کی جاتی ہے۔
- ریاستی حکومت کی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
- وزارتِ پنچایتی راج کے تعاون سے 'ای گرام سوراج'، 'میری پنچایت ایپ' اور 'ای مانچتر' جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے گرام پنچایت کی سطح پر موسم کی پیش گوئی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
- وزارتِ دیہی ترقی کے تعاون سے بلاک اور پنچایت کی سطح پر 'پشو سکھی' اور 'کرشی سکھی' تک موسم کی معلومات پہنچائی جاتی ہیں۔
- بھارتی موسمیات محکمے (آئی ایم ڈی کے)’موسم گرام‘ پورٹل کے ذریعے پیش گوئیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
سی ڈبلیو سی کے علاقائی دفاتر میں قائم ڈویژنل فلڈ کنٹرول رومز سیلاب کے سیزن کے دوران اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے اسٹیشنوں کو سیلاب کی پیش گوئی جاری کرتے ہیں، جو کہ وزارتِ ارضی علوم کے تحت بھارتیہ موسمیات محکمہ کی جانب سے فراہم کردہ شدید بارشوں کے انتباہات اور مقداری بارش کی پیش گوئیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ سی ڈبلیو سی ہیڈ کوارٹر میں قائم سینٹرل فلڈ کنٹرول روم (سی ایف سی آر) روزانہ کی بنیاد پر سیلاب کے بلیٹنز بشمول ریڈ اور اورنج بلیٹنز تمام ریاستوں اور مرکزی ایجنسیوں جیسے کہ این ڈی ایم اے قدرتی آفات کے بندوبست کی قومی اتھارٹی اور وزارت داخلہ کو جاری رتا ہے۔
سی ڈبلیو سی فی الوقت اپنے ویب پورٹل https://aff.india-water.gov.in/ کے ذریعے ملک کے بڑے دریاؤں کے طاس کے لیے پورے بھارت میں بارش پر مبنی ریاضیاتی ماڈلنگ کے ذریعے سات روزہ مشاورتی سیلاب کی پیش گوئی فراہم کر رہا ہے۔ سی ڈبلیو سی سیلاب کے انتباہات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اہم اقدامات اور ترسیل کے مختلف طریقے اپناتا ہے تاکہ ریاستی حکومتیں، ایس ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے اور عوام کو آسانی فراہم کرنے کے اقدامات کر سکیں۔ سی ڈبلیو سی کی تیار کردہ سیلاب کی پیش گوئیاں تمام متعلقہ فریقوں کو فلڈ فورکاسٹنگ ویب سائٹ (https://ffs.india-water.gov.in/)، فلڈ واچ انڈیا 2.0 ایپ، ای میل، واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور این ڈی ایم اے کے 'سچیت' پورٹل کے ذریعے 'کامن الرٹنگ پروٹوکول' ( سی اے پی) الرٹ کی صورت میں فراہم کی جاتی ہیں۔
وزارت کی جانب سے 'مشن موسم' کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد بھارت بشمول ریاست تلنگانہ کو "موسم کے لیے تیار اور موسمیاتی طور پر اسمارٹ" ریاست بنانا ہے۔ وزارت موسم کی پیش گوئی میں بہتر درستگی حاصل کرنے کے لیے مشاہداتی نیٹ ورک بشمول آسمانی بجلی گرنے کی نشاندہی کرنے والے نیٹ ورک اور تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
محکمہ موسمیات نے ویب پر مبنی "کلائمیٹ ہیزرڈ اینڈ ولنریبلیٹی ایٹلس آف انڈیا" (بھارت کا موسمیاتی خطرات اور حساسیت کا نقشہ) بھی تیار کیا ہے، جو ان تیرہ انتہائی خطرناک موسمیاتی واقعات کے لیے بنایا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر نقصان اور معاشی، انسانی و جانی نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ اسے https://imdpune.gov.in/hazardatlas/abouthazard.html پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ نقشہ ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو ریاستی حکومتی حکام اور قدرتی آفات کے بندوبست کی ایجنسیوں کو ممکنہ حساس مقامات کی نشاندہی کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہیں۔ یہ پروڈکٹ موسمیاتی لحاظ سے لچکدار بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی سے متعلق کوششوں کے لیے ایک حوالے کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
وزارت پورے ملک میں مرکزی شعبے کی اسکیموں کو یکساں طور پر نافذ کرتی ہے، لہٰذا، فنڈز مختص ریاست وار بنیادوں پر نہیں کیا جاتا۔ ان اسکیموں کے تحت فنڈز ارضیاتی سائنسزکی جانب سے نفاذ کے لیے براہِ راست ریاستی حکومتوں کو جاری نہیں کیے جاتے۔
ضمیمہ -1
تلنگانہ بشمول ورنگل کے لیے روزانہ کی معمول کی پیشن گوئی جاری کی گئی:
|
جاری کردہ پیشن گوئی (قسم)
|
جاری کردہ بلیٹنز کی تعداد(2023-25)
|
|
سات دن کی پیشن گوئی
|
4,380
|
|
علاقائی پیشن گوئی
|
1,094
|
|
اضلاع کے لیے فوری پیش گوئی
|
11,680
|
|
زرعی موسمیاتی مشاورتی خدمات
|
1,408
|
تلنگانہ بشمول ورنگل میں شدید موسمی حالات کے دوران خصوصی بلیٹن:
|
بلیٹن کی قسم
|
جاری کردہ بلیٹنز کی تعداد (25-2023)
|
|
مشاورتی بلیٹن
|
13
|
|
الرٹ بلیٹن
|
27
|
|
اثر پر مبنی پیشن گوئی بلیٹن
|
305
|
|
موسم کی شدید وارننگ کے ساتھ زرعی موسمیاتی مشاورتی خدمات
|
205
|
|
چیف سکریٹری کے لیے شدید موسم کا خصوصی بلیٹن
|
45
|
ورنگل سمیت تلنگانہ میں فلڈ فورکاسٹنگ (ایف ایف) اسٹیشنوں پر جاری سیلاب کی پیشین گوئیوں کی تعداد:
|
پیشن گوئی کی قسم
|
جاری کردہ پیشین گوئیوں کی تعداد (25-2023)
|
|
سیلاب کی پیش گوئی
|
1154
|
********
ش ح۔ م ع۔ص ج
U. No.4878
(ریلیز آئی ڈی: 2245125)
وزیٹر کاؤنٹر : 3