شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پیمانہ پورٹل اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا انتظام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 1:11PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کو 150 کروڑ روپے اور اس سے زیادہ مالیت کے جاری مرکزی شعبے کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی صورتحال کی نگرانی کا ذمہ سونپا گیا ہے اور یہ کام ایک نئے ویب مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کیا جا رہا ہے جسے پیمانہ (پروجیکٹ اسسمنٹ انفراسٹرکچر مانیٹرنگ اینڈ اینالیٹکس فار نیشن بلڈنگ) کہا جاتا ہے۔

جنوری 2026 تک، پیمانہ پورٹل نے 17 مرکزی وزارتوں/محکموں کے زیرِ انتظام ملک بھر میں جاری 1,702 منصوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، جن کی اصل لاگت 33.71 لاکھ کروڑ روپے اور مجموعی اخراجات 20.01 لاکھ کروڑ روپے ہیں۔ ان منصوبوں کی تفصیلات اس ویب سائٹ پر دستیاب فلیش رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں: https://ipm.mospi.gov.in/

اسی مناسبت سے، تمام جاری انفراسٹرکچر منصوبوں اور ریاست راجستھان، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر اور کرناٹک سے متعلق منصوبوں کی تفصیلات اس وزارت کی جانب سے ویب سائٹ https://ipm.mospi.gov.in/ReportPage پر شائع کردہ فلیش رپورٹ میں دستیاب ہیں۔

’’ون ڈیٹا ون انٹری‘‘ کے اصول کے مطابق، پیمانہ پورٹل کو صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے انٹیگریٹڈ پروجیکٹ مانیٹرنگ پورٹل (آئی پی ایم پی) کے ساتھ ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے، تاکہ مرکزی وزارتوں/محکموں/پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے رپورٹ کردہ ڈیٹا کو خود بخود حاصل کیا جا سکے۔ اس مربوط پلیٹ فارم، پیمانہ، نے دستی اندراج  کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، جس میں سڑک، ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں، پیٹرولیم اور قدرتی گیس اور کوئلے کی وزارت سے متعلق تقریباً 64 فیصد منصوبے خود بخود اپ ڈیٹ ہو رہے ہیں۔

تمام اسٹیک ہولڈرز (بنیادی ڈھانچے سے متعلقہ وزارتوں/محکموں) کو بھی باقاعدگی سے ان کے پروجیکٹ کے نفاذ اور تاخیر کے بارے میں پیمانہ  پر(پی اے آئی ایم اے این اے) دستیاب ڈیٹا اینالیٹکس کی بنیاد پر آگاہ کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے طور پر پروجیکٹ کے نفاذ کے انتظام میں کسی بھی ضروری اقدام کو یقینی بنا سکیں۔ مزید برآں، ماہانہ جائزہ میٹنگوں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدہ ہم آہنگی، شواہد پر مبنی نگرانی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، تمام متعلقہ وزارتوں/محکموں کے ساتھ لاگ ان کی تفصیلات پہلے ہی شیئر کر دی گئی ہیں جو انہیں اپنی مرضی کے مطابق تیار کردہ ڈیش بورڈز تک رسائی فراہم کرتی ہیں، جس سے وہ پروجیکٹ کی پیش رفت کا براہ راست جائزہ لے سکتے ہیں۔

حکومتِ ہند کی جانب سے تاخیر کو کم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے اٹھائے گئے دیگر بڑے اقدامات میں عزت مآب وزیراعظم کی جانب سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پرگتی میٹنگوں کے تحت منصوبوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور منصوبوں کی سخت جانچ پڑتال شامل ہے۔

مزید برآں، صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کا پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ (پی ایم جی) ایک ایسا ادارہ جاتی طریقۂ کار ہے جس کا مقصد سنگ میل کی بنیاد پر منصوبوں کی نگرانی کرنا اور بین وزارتی/ریاستی ہم آہنگی کے ذریعے 500 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی متوقع سرمایہ کاری والے منصوبوں کے مسائل کے حل اور منظوریوں/کلیئرنس کو تیز کرنا ہے۔ عزت مآب وزیراعظم کے زیرِ صدارت پرگتی میٹنگوں کے علاوہ، پی ایم جی تاخیر یا مسائل کا شکار منصوبوں کے لیےڈی پی آئی آئی ٹی  اور کابینہ سکریٹریٹ کی سطح پر باقاعدگی سے جائزہ میٹنگ منعقد کرتا ہے۔ ان جائزوں کو مؤثر بنانے کے لیے، پی ایم جی نے ایک منفرد 5-سطحی ایسکلیشن فریم ورک نافذ کیا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مسائل کو مناسب سطح پر حل کیا جائے، جس کا آغاز عام مسائل کے لیے متعلقہ وزارت سے ہوتا ہے اور پیچیدہ مسائل کے لیے اسے پرگتی تک لے جایا جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر جائزے کے طریقۂ کار کو ہموار کرتا ہے، کام کی تکرار کو روکتا ہےاور اعلیٰ حکام کو ان اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل بناتا ہے جن میں ان کی مداخلت درکار ہوتی ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، منصوبہ بندی کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارت ثقافت میں وزیر مملکت راؤ اندر جیت سنگھ نے فراہم کیں۔

********

ش ح۔ ک ح۔ج  ا

U. No.4858


(ریلیز آئی ڈی: 2244940) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu