وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ملک میں ایف پی پی او

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 11:44AM by PIB Delhi

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ  پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) ماہی پروروں اور مچھلی کاشتکاروں کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے اور ان کی سودے بازی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے فش فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) کے قیام کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔  ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمۂ ماہی پروری نے پچھلے پانچ سال (مالی سال21-2020 تا مالی سال25-2024) کے دوران ملک میں کل 2195 ایف ایف پی اوز کی تشکیل کے لیے 544.86 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے جن میں ریاست کرناٹک میں 64 ایف ایف پی اوز شامل ہیں۔  یہ پروجیکٹ مرکزی ایجنسیوں یعنی نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) اسمال فارمرز ایگری بزنس کنسورشیم (ایس ایف اے سی) نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا (نیفیڈ) اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اطلاع دی گئی ہے کہ اب تک ملک میں کل 1990 فش فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) تشکیل دی گئی ہیں جن میں ریاست کرناٹک میں 64 ایف ایف پی او شامل ہیں۔  پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ملک میں تشکیل دی گئی فش فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہیں۔

پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمۂ ماہی پروری نے پچھلے پانچ سال(21-2020 اور 25-2024) اور رواں سال (26-2025) کے دوران حکومت کرناٹک کو 1,078.12 کروڑ روپے کے مرکزی حصے 375.04 کروڑ روپے کے ساتھ ماہی پروری کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔  جن بڑی سرگرمیوں کی منظوری دی گئی ہے ان میں تالابوں کی تعمیر، ری سرکولیٹری ایکواکلچر سسٹم (آر اے ایس) مچھلی/جھینگا ہیچریاں، کیج کلچر، آئس پلانٹ/کولڈ اسٹوریج، مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات، آرائشی ماہی پروری کے یونٹ، متسیہ سیوا کیندر، سمندری گھاس کلچر رافٹ وغیرہ شامل ہیں۔  اس کے علاوہ، پی ایم ایم ایس وائی کے انٹرپرینیورشپ ماڈل کمپونینٹ کے تحت دو پروجیکٹوں یعنی (الف) 805 لاکھ روپے کی لاگت سے فش ٹریڈ سینٹر کا قیام اور (ب) فش میل، فش آئل اور فش سولیوبل پیسٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کی توسیع اور 500لاکھ روپے کی لاگت سے اضافی سہولیات کی تخلیق، ہر ایک کے مرکزی حصے کو 1.25 کروڑ روپےتک محدود کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ضمیمہ-1

پچھلے پانچ سال (مالی سال21-2020 تا مالی سال 25-2024) کے دوران پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت تشکیل دی گئی فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز) کی ملک میں ایف ایف پی اوز سے متعلق ریاستی تفصیلات:

 

نمبر شمار

ریاستیں/مرکزکے زیر انتظام علاقے

تشکیل شدہ ایف ایف پی اوز کی تعداد

1

مدھیہ پردیش

107

2

جھارکھنڈ

28

3

اڈیشہ

30

4

اتر پردیش

75

5

مہاراشٹر

196

6

جموں وکشمیر

2

7

ہماچل پردیش

18

8

لداخ

1

9

چھتیس گڑھ

56

10

گجرات

95

11

دمن و دیو

2

12

بہار

48

13

منی پور

148

14

میگھالیہ

9

15

آسام

176

16

میزورم

18

17

تریپورہ

122

18

تلنگانہ

245

19

آندھرا پردیش

176

20

تمل ناڈو

113

21

اتراکھنڈ

32

22

مغربی بنگال

41

23

کیرالہ

127

24

کرناٹک

64

25

ہریانہ

2

26

راجستھان

10

27

ناگالینڈ

43

28

گوا

3

29

پڈوچیری

1

30

اروناچل پردیش

2

 

کل

1990

 

********

ش ح۔ ک ح۔ج  ا

U. No.4852


(ریلیز آئی ڈی: 2244909) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी