وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی گیری کی بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کے لیے فنڈنگ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 12:18PM by PIB Delhi

محکمہ ماہی گیری، جو کہ وزارت ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے تحت کام کرتا ہے، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کر رہا ہے، جس کا کل بجٹ 20,050 کروڑ روپے ہے۔ یہ اسکیم مالی سال21-2020 سے 26-2025تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول تمل ناڈو میں ماہی گیری کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے جاری ہے۔

ماہی گیری کی بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کی ترقی اس اسکیم کا ایک اہم حصہ ہے، جسے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مرکز اور متعلقہ ریاست کے درمیان 60:40 کے تناسب سے مشترکہ لاگت پر مکمل کیے جاتے ہیں۔

مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے، متعلقہ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کو تکنیکی و مالی طور پر قابل عمل تجاویز پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، ساتھ ہی ریاستی حصے کی دستیابی، درکار زمین اور تمام ضروری منظوریوں کی تصدیق بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔

محکمۂ ماہی پروری، حکومت ہند نے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت اب تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 21,733.91 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن میں تمل ناڈو میں 1,237.57 کروڑ روپے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں ماہی گیری کی بندرگاہیں، مچھلی اُتارنے کے مراکز، مربوط ایکوا پارکس، برف  تیارکرنے کے کارخانے اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات،  ایکوا کلچر کی ترقی ( اس کے علاوہ سمندری، کھارے پانی اور ذخائر کی ماہی گیری)، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹیکنالوجی کا نفاذ، مچھلی کی مارکیٹنگ اور متعلقہ ڈھانچے کو مضبوط بنانا، ویلیو ایڈیشن، اور مؤثر کولڈ چین سہولیات کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور کردہ پروجیکٹوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ I میں فراہم کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ، محکمۂ ماہی پروری، حکومت ہند مالی سال 2018-19سے فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) نافذ کر رہا ہے، جس کا کل فنڈ سائز 7522.48 کروڑ روپے ہے، تاکہ ملک میں ماہی پروری اور  ایکوا کلچر کے بنیادی ڈھانچے کو قائم اور مضبوط کیا جا سکے۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت اہل اداروں،  اس کے علاوہ ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، ریاستی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو مختلف ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے تین فیصد تک سود میں رعایت کے ساتھ رعایتی مالی  مدد فراہم کی جاتی ہے۔ایف آئی ڈی ایف کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جن منصوبوں کی معاونت کی جاتی ہے، ان میں ماہی گیری کی بندرگاہیں، مچھلی اُتارنے کے مراکز، برف تیار کرنے کے کارخانے، کولڈ اسٹوریج، مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات، مربوط کولڈ چین (سمندری و اندرونی شعبہ)، جدید مچھلی منڈیاں، بروڈ بینکس، ہیچریز، ریاستی مچھلی بیج فارموں کی جدید کاری، ماہی گیری تربیتی مراکز، مچھلی پروسیسنگ یونٹس، مچھلی فیڈ ملز یا پلانٹس، ذخائر میں کیج کلچر، میری کلچر وغیرہ شامل ہیں۔ایف آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت، محکمۂ ماہی پروری، وزارت ماہی پروری،  مویشی پروری اور ڈیری نے اب تک مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مجموعی طور پر 228 تجاویز/منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کی مجموعی لاگت 5,559.54 کروڑ روپے ہے، جن میں تمل ناڈو میں 108 منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 2,404.03 کروڑ روپے ہے۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت منظور شدہ منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ II میں فراہم کی گئی ہیں۔

 

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت ماہی گیروں،  اس کے علاوہ اندرون ملک ماہی گیر اور ماہی پروری سے وابستہ افراد کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس میں گروپ ایکسیڈنٹل انشورنس اسکیم (جی اے آئی ایس) شامل ہے، جو سمندری اور اندرون ملک دونوں قسم کے ماہی گیروں اور مچھلی فارمرز کا احاطہ کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت انشورنس پریمیم کی مکمل رقم مرکز اور ریاست کے درمیان عمومی ریاستوں کے لیے 60:40 کے تناسب سے، ہمالیائی اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے 90:10 کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہے، جبکہ  مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے معاملے میں پوری پریمیم رقم مرکز کی طرف سے ادا کی جاتی ہے۔گروپ ایکسیڈنٹل انشورنس اسکیم کے تحت فراہم  کیے جانے والے انشورنس میں شامل ہیں:(i) موت یا مستقل مکمل معذوری کی صورت میں 5,00,000 روپے(ii) مستقل جزوی معذوری کی صورت میں 2,50,000 روپے(iii) حادثے کی صورت میں اسپتال کے اخراجات کے لیے 25,000 روپے تک کی رقم۔پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے آغاز سے اب تک بغیر کسی ماہی گیر یا ماہی پرور کی شراکت کے حکومت نے گروپ ایکسیڈنٹل انشورنس کوریج کے پریمیم کے لیے 149.07 کروڑ روپے جاری کیے ہیں، جس کے تحت 167.30 لاکھ ماہی گیر مستفید ہوئے اور اس میں تمل ناڈو کے 21.99 لاکھ ماہی گیر کےشامل ہیں۔پی ایم ایم ایس وائی کے تحت روایتی ماہی گیروں کے لیے ماہی گیری کی کشتیوں اور جالوں کی تبدیلی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی  مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اب تک تمل ناڈو حکومت کی جانب سے 500 ماہی گیری کشتیوں (تبدیلی) اور جالوں کے لیے پیش کی گئی تجاویز کو مجموعی طور پر 25.00 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے، جس میں 6.30 کروڑ روپے کی مرکزی امداد شامل ہے۔گزشتہ چار سالوں (22-2021تا25-2024) کے دوران پی ایم ایم ایس وائی کے تحت بیمہ شدہ ماہی گیروں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ III میں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ گزشتہ تین سالوں (23-2022 تا25-2024) کے دوران ماہی گیروں کو ماہی گیری پر پابندی کے عرصے میں روزگار اور غذائی معاونت کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ IV میں فراہم کی گئی ہیں۔

*******

ضمیمہI-

بیان پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت منظور شدہ پروجیکٹوں کی ریاست وار تفصیلات

) روپے لاکھ میں(

 نمبر شمار

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ

پروجیکٹ کی کل لاگت

مرکزی حصہ

جاری فنڈز

 

 

(i)

(ii)

(iii)

(iv)

(v)

 

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

25497.22

23046.11

1196.70

 

2

آندھرا پردیش

229648.67

67167.32

43013.68

 

3

اروناچل پردیش

21456.09

14500.72

11354.52

 

4

آسام

54163.08

29844.28

18760.09

 

5

بہار

54851.24

17439.91

8794.08

 

6

چھتیس گڑھ

95,386.45

32,004.73

23666.00

 

7

دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو

13517.20

13243.80

178.90

 

8

دلی

533.25

286.08

163.30

 

9

گوا

10777.19

4857.06

4769.74

 

10

گجرات

91075.11

34674.17

10365.69

 

11

ہریانہ

76086.75

26216.03

12136.61

 

12

ہماچل پردیش

15608.86

7995.31

5045.07

 

13

جموں و کشمیر

15456.83

8142.51

11850.39

 

14

جھارکھنڈ

47263.46

16658.23

9607.34

 

15

کرناٹک

97299.45

35032.72

29502.15

 

16

کیرلہ

132963.23

57048.65

34415.24

 

17

لداخ

3349.40

2009.64

1470.62

 

18

لکشدیپ

6245.27

4421.69

1442.12

 

19

مدھیہ پردیش

91080.93

30550.53

24287.17

 

20

مہاراشٹر

162144.58

59391.34

30452.07

 

21

منی پور

20181.70

9584.33

2944.63

 

22

میگھالیہ

13262.36

7425.74

4596.18

 

23

میزورم

15416.68

8560.57

6947.36

 

24

ناگالینڈ

16833.38

10955.73

7332.54

 

25

اوڈیشہ

125730.60

46295.15

34726.21

 

26

پڈوچیری

35126.03

29644.01

6124.91

 

27

پنجاب

16322.58

4726.35

2695.92

 

28

راجستھان

7038.14

2449.75

512.93

 

29

سکم

8093.19

5020.84

3300.05

 

30

تمل ناڈو

123757.18

47482.50

15394.38

 

31

تلنگانہ

35,430.39

11,138.8

3287.61

 

32

تریپورہ

26293.21

15059.51

6791.59

 

33

اتر پردیش

129432.08

41230.37

28165.28

 

34

اتراکھنڈ

31724.62

17020.17

18355.72

 

35

مغربی بنگال

54574.02

22296.75

5507.70

 

36

دوسرے (ٹرانسپونڈرز وغیرہ)

36,400.00

21,840.00

49780.40

 

37

انشورنس سرگرمیاں

11,721.46

10,712.81

8927.77

 

38

پی ایم ایم کے ایس ایس وائی

9,193.07

9,193.07

1181.61

 

39

پرانی دیند اری

 

 

33323

 

کل اے

19,59,547.4

8,05,098.1

5,22,367.3

 

40

سنٹرل سیکٹر پروجیکٹس

213843.68

1,76,114.68

1,76,114.7

 

کل A+B

21,73,391.1

9,81,212.8

 

 

 

ضمیمہ II

بیان ماہی پروری اور ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)کے تحت منظور شدہ منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات

) روپے کروڑ میں (

نمبر شمار

ریاست کا نام

نجی منصوبوں کی تعداد

سرکاری پروجیکٹوں کی تعداد

منظور شدہ منصوبوں کی کل تعداد

پروجیکٹ کی کل لاگت

سود کی رعایت کے لیے اہل رقم

1

آندھرا پردیش

8

0

8

211.88

124.42

2

اروناچل پردیش

1

0

1

0.68

0.54

3

آسام

1

0

1

0.41

0.18

4

گوا

1

4

5

38.05

36.58

5

گجرات

1

4

5

984.74

617.45

6

ہماچل پردیش

0

1

1

5.17

5.00

7

جموں و کشمیر

3

0

3

130.21

100.78

8

کرناٹک

2

2

4

43.44

42.79

9

کیرلہ

6

1

7

262.90

234.97

10

مہاراشٹر

36

6

42

1230.901

941.17

11

منی پور

4

0

4

1.15

0.90

12

میزورم

1

0

1

4.14

3.30

13

اوڈیشہ

1

7

8

120.17

59.48

14

پڈوچیری

2

0

2

3.08

2.46

15

تمل ناڈو

7

101

108

2169.03

1955.98

16

تلنگانہ

1

0

1

4.70

2.31

17

اتر پردیش

2

0

2

75.22

60.09

18

مغربی بنگال

4

6

10

71.78

49.60

19

اتراکھنڈ

0

1

1

170.00

133.00

20

مدھیہ پردیش

4

1

5

6.90

5.52

21

جھارکھنڈ

7

0

7

24.51

16.67

22

بہار

2

0

2

20.29

19.61

 

کل

95

133

228

5559.54

4351.86

*****

ضمیمہ III


گزشتہ چار سالوں (22-2021 سے 25-2024) کے دوران پی ایم ایم ایس وائی کے تحت بیمہ شدہ ماہی گیروں کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

بیمہ شدہ ماہی گیروں کی تعداد

1

بہار

600,000

2

چھتیس گڑھ

881,855

3

گوا

11,040

4

گجرات

381,237

5

ہریانہ

6,576

6

جھارکھنڈ

662,941

7

کرناٹک

282,272

8

مدھیہ پردیش

376,482

9

مہاراشٹر

291,159

10

اوڈیشہ

4,543,618

11

پنجاب

12,477

12

راجستھان

18,925

13

تمل ناڈو

2,199,335

14

تلنگانہ

1,432,656

15

اتر پردیش

399,275

16

مغربی بنگال

8,499

17

اروناچل پردیش

2,756

18

آسام

683,630

19

ہماچل پردیش

43,990

20

منی پور

7,034

21

میگھالیہ

3,057

22

سکم

2,086

23

تریپورہ

71,065

24

اتراکھنڈ

12,865

25

انڈمان اور نکوبار

52,859

26

دلی

1,381

27

دمن اور دیو

30,178

28

جموں و کشمیر

95,806

29

لداخ

265

30

لکشدیپ

10,590

31

پڈوچیری

133,395

 

 

 

*****

ضمیمہ IV

ماہی گیری پر پابندی کی مدت کے دوران ماہی گیروں کو روزی روٹی اور غذائی امداد کی ریاستی تفصیلات  جوگزشتہ 3 سالوں (23-2022 سے25-2024) کے دوران  پی ایم ایم ایس وائی کے تحت فراہم کی گئی ہیں۔

نمبرشمار

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

فزیکل

 (تعداد)

پروجیکٹ لاگت

(روپے لاکھ میں)

 جی او آئی شیئر کریں

(روپے لاکھ میں)

1

آندھرا پردیش

344360

15496.20

5165.40

2

آسام

63000

2835.00

1512.00

3

چھتیس گڑھ

30000

1350.00

450.00

4

ہماچل پردیش

10151

456.81

243.63

5

جموں و کشمیر

48286

2172.87

1448.60

6

کرناٹک

71961

3238.25

1079.42

7

کیرلہ

497584

21286.95

7095.65

8

مدھیہ پردیش

38023

1711.04

570.35

9

مہاراشٹر

4000

180.00

60.00

10

میزورم

6304

283.68

151.30

11

اوڈیشہ

24000

1080.00

360.00

12

پڈوچیری

76800

3456.00

2304.00

13

سکم

495

22.28

11.88

14

تمل ناڈو

548365

30941.43

8225.48

15

تلنگانہ

4000

180.00

60.00

16

تریپورہ

8154

366.93

195.69

17

اتر پردیش

1000

45.00

15.00

کل

1776483

85102.44

28948.40

 

یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دی۔

******

ش ح۔  ا ع خ۔  ش ب ن

U-NO. 4768

 


(ریلیز آئی ڈی: 2244430) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी