بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مسودہ قومی بجلی پالیسی کے تحت بجلی کی تقسیم پر سی ای او راؤنڈ ٹیبل اجلاس

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAR 2026 5:51PM by PIB Delhi

بھارت الیکٹرسٹی سمٹ 2026 کے موقع پر مسودہ قومی بجلی پالیسی 2026 (این ای پی 2026) کے تحت بجلی کی تقسیم کے موضوع پر سی ای او راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تقسیم کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ڈسکام کی مالی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے درکار اصلاحات پر غور کیا گیا، تاکہ بھارت کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کے مطابق پیش رفت کی جا سکے۔

IMAGE PR.jpeg

اہم پاور سیکٹر تنظیموں کے سی ای او اور سینیئر قیادت نے اس اجلاس میں شرکت کی، جس کی صدارت وزارت توانائی کے سیکریٹری جناب پنکج اگروال نے کی۔ شرکا نے مسودہ قومی بجلی پالیسی 2026 کا خیرمقدم کیا اور شعبے کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس کے جامع اور مستقبل بین نقطۂ نظر کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی بھارت کی پائیدار بلند معاشی ترقی کی جانب منتقلی کے تناظر میں پاور سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے واضح اسٹریٹجک سمت فراہم کرتی ہے۔ صنعت کے رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مجوزہ اقدامات، خصوصاً تقسیم کے شعبے میں، مالی استحکام کو بہتر بنانے، خدمات کے معیار کو بلند کرنے اور نئی و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے انضمام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مذاکرات میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ بجلی کی فراہمی کو وکست بھارت @ 2047 کے وژن کے مطابق ہونا چاہیے، جس میں 30 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت اور توانائی میں خود کفالت کا ہدف شامل ہے۔ مسودہ این ای پی 2026 کے تحت فی کس بجلی کے استعمال کو 2030 تک 2000 کلو واٹ گھنٹہ اور 2047 تک 4000 کلو واٹ گھنٹہ سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اہداف بھارت کے ماحولیاتی وعدوں کے مطابق ہیں، جن میں 2030 تک 2005 کی سطح کے مقابلے میں اخراج کی شدت میں 45 فیصد کمی اور 2070 تک نیٹ زیرو اخراج حاصل کرنا شامل ہے، جس کے لیے کم کاربن توانائی کے ذرائع کی جانب فیصلہ کن منتقلی ضروری ہے۔

یہ پالیسی شعبے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کے تحت مسابقت کو فروغ دینے، زیادہ مقدار میں قابل تجدید توانائی کے انضمام کے لیے گرڈ کی مضبوطی بڑھانے اور ڈیمانڈ سائیڈ اقدامات کے ذریعے صارف مرکوز خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے مسودہ پالیسی میں مشترکہ تقسیم نیٹ ورک متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ انفراسٹرکچر کی غیر ضروری تکرار کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، جی آئی ایس پر مبنی اثاثہ جاتی نقشہ سازی، صارفین کی فہرست بندی اور نظام کی خودکاری پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

پھیلتے ہوئے تقسیم شدہ توانائی وسائل کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، پالیسی میں ڈسٹری بیوشن سسٹم آپریٹر (ڈی ایس او) کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور وہیکل ٹو گرڈ (V2G) ٹیکنالوجیز کے انضمام کو آسان بنایا جا سکے۔ اس سے مقامی توانائی منڈیوں کے ذریعے وسائل کے بہترین استعمال، صارفین کی شرکت میں اضافہ اور گرڈ کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

مسودہ پالیسی میں بجلی کی فراہمی کے معیار اور بھروسا مندی کو بہتر بنانے کو بھی ترجیح دی گئی ہے، جس کے لیے مخصوص وولٹیج سطحوں پر نیٹ ورک کی مناسب ریڈنڈنسی اور سروس کے معیارات کے سخت نفاذ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ 2032 تک 10 لاکھ سے زائد آبادی والے تمام شہروں میں ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کی سطح پر ریڈنڈنسی متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، گنجان شہری علاقوں میں زیرِ زمین کیبلنگ کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ بجلی تک ہمہ گیر رسائی کو یقینی بنانا بھی ایک اہم ہدف ہے۔

راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں مسلسل اصلاحات نہایت ضروری ہیں، تاکہ ڈسکام کی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے اور وکست بھارت @ 2047 کے وژن کے تحت بھارت کے وسیع تر معاشی اور توانائی کے منتقلی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

**********

ش ح۔ ف ش ع

U: 4578


(ریلیز آئی ڈی: 2243218) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी