کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے نینو فرٹیلائزر کے استعمال اور ڈرون کے ذریعے زرعی انقلاب میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا


یوریا کے متبادل اور نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے این پی سی اور آئی سی اے آر کے ساتھ نئے حکومتی مطالعے کا آغاز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAR 2026 3:48PM by PIB Delhi

کیمیائی مواد اور کھادوں کی مرکزی وزارت نے نینو کھادوں  کے استعمال میں بڑے پیمانے پر اضافے کی اطلاع دی ہے، جس کے آغاز سے اب تک 500 ملی لیٹر کی کل 1,593.37 لاکھ بوتلوں کی مجموعی فروخت ہو چکی ہے۔ اس مجموعی تعداد میں نینو یوریا کی 1,219.27 لاکھ بوتلیں اور نینو ڈی اے پی کی 374.10 لاکھ بوتلیں شامل ہیں۔

زرعی تحقیق کی ہندوستانی کونسل(آئی سی اے آر) اور ریاستی زرعی یونیورسٹیوں (ایس اے یو) کے تحت اداروں کی جانب سے کیے گئے فیلڈ ٹرائلز نے نینو کھادوں کی تاثیر کو ثابت کیا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ روایتی کھادوں کی تجویز کردہ بنیادی خوراک  کے ساتھ پودوں پر نینو یوریا کا اسپرے کرنے سے یوریا کی کھپت میں 25 سے 50 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف فصلوں کی پیداوار میں 3 سے 8 فیصد تک اضافہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، نینو ڈی اے پی کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فاسفورس کھادوں کے جزوی متبادل (50 فیصد تک) اور استعمال کے مناسب طریقوں سے بعض صورتوں میں، جیسے کہ آلو کی کاشت، برابر کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان مداخلتوں کی طویل مدتی تاثیر کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کئی تحقیقی منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں 14 نومبر 2025 کو پیداواریت کی قومی کونسل (این پی سی) کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مطالعے کا معاہدہ شامل ہے تاکہ روایتی یوریا کے متبادل کی حد کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مزید برآں، 3 نومبر 2025 کو آئی سی اے آرکے ساتھ ایک پانچ سالہ نیٹ ورک پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے تاکہ مختلف زرعی و ماحولیاتی خطوں میں نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگرچہ مطالعے جزوی متبادل کے ساتھ برابر کی پیداواری صلاحیت ظاہر کرتے ہیں، تاہم حکومت اعلیٰ متبادل سطحوں (جیسے 50 فیصد) پر دیکھی جانے والی غیر مستقل کارکردگی اور غذائی اجزاء کی کمی، خاص طور پر کم زرخیز زمینوں، کے خدشات کو دور کر رہی ہے۔ اصلاحی اقدامات میں استعمال کے طریقوں کو معیاری بنانا اور وسیع تر بیداری پروگراموں اور مظاہروں کے ذریعے کھاد کے متوازن استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔

حکومت نے کئی اصلاحی اقدامات کئے ہیں، جن میں زرعی تحقیق کی ہندوستانی کونسل (آئی سی اے آر) کے ذریعے فصلوں کے ردعمل، غذائی اجزاء کے استعمال کی کارکردگی اور مٹی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے طویل مدتی اور کثیر المقامی تحقیق، استعمال کے طریقوں کو معیاری بنانا اور کسانوں کے لیے بیداری پروگراموں، مظاہروں اور تربیت کے ذریعے کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔ مزید برآں، ملک میں نینو کھادوں کے مناسب اور موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پودوں پر اسپرے کے نظام، بشمول ڈرون کے ذریعے اسپرے جیسی مناسب ٹیکنالوجیز تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو سمیت ملک بھر کے کسانوں میں نینو کھادوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. مختلف سرگرمیوں جیسے بیداری کیمپوں، ویبنارز، فیلڈ ڈیمونسٹریشن، کسان سمیلنوں اور علاقائی زبانوں میں فلموں وغیرہ کے ذریعے نینو کھادوں کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے۔
  2. متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے پردھان منتری کسان سمردھی مراکز (پی ایم کے ایس کے) پر نینو کھادیں دستیاب کرائی گئی ہیں۔
  3. محکمۂ کھاد  کی جانب سے باقاعدگی سے جاری کیے جانے والے ماہانہ سپلائی پلان میں نینو کھادوں کو شامل کیا گیا ہے۔
  4. نینو یوریا جیسی نینو کھادوں کے پودوں پر اسپرے کے ذریعے آسان استعمال کے لیے ’کسان ڈرونز‘ جیسے جدید اسپرے کے اختیارات اور ریٹیل پوائنٹس پر بیٹری سے چلنے والے اسپرے کرنے والے آلات کی تقسیم جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے، دیہی سطح کی صنعتوں کے ذریعے پائلٹ ٹریننگ اور کسٹم ہائرنگ (کرایے پر اسپرے کی خدمات) کو فعال طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
  5. محکمۂ کھاد نے کھاد کمپنیوں کے اشتراک سے مشاورت اور فیلڈ لیول ڈیموسٹریشن کے ذریعے ملک کے تمام 15 زرعی و موسمی خطوں میں نینو ڈی اے پی کو اپنانے کے لیے ایک ’مہا ابھیان‘ شروع کیا ہے۔ مزید برآں، محکمۂ کھاد نے کمپنیوں کے تعاون سے ملک کے 100 اضلاع میں نینو یوریا پلس کے فیلڈ ڈیموسٹریشن اور بیداری پروگراموں کی مہم بھی شروع کی ہے۔

حکومت نمو ڈرون دیدی (این ڈی دی) اسکیم کے ذریعے نینو کھادوں کے استعمال کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو بہتر بنا رہی ہے، جس کے لیے سال 24-2023 سے 26-2025 کی مدت کے لیے 1,261 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت، محکمۂ کھاد نے کھاد کمپنیوں کے تعاون سے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کو 1,094 ڈرونز کی تقسیم میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے استفادہ کنندگان بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 500 ڈرونز خاص طور پر این ڈی ڈی (این ڈی ڈی) اسکیم کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کو کوئی ڈرون الاٹ نہیں کیا گیا ہے۔ تمام استفادہ کنندگان نے ڈی جی سی اے سے منظور شدہ ریموٹ پائلٹ ٹریننگ آرگنائزیشنز (آرپی ٹی او) سے تربیت حاصل کی ہے، جس میں ڈرون چلانے اور مائع کھادوں و کیڑے مار ادویات کے اسپرے جیسے فیلڈ استعمال کے طریقے شامل ہیں۔

زراعت میں ڈرونز کے استعمال کو مزید فروغ دینے کے لیے، زرعی میکانائزیشن پر ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم) کے تحت آئی سی اے آر کو 52.50 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ سال 23-2022 سے 26-2025 تک (15 مارچ 2026 تک)، آئی سی اے آر کے اداروں، کرشی ویگیان کیندروں (کے وی کے) اور ریاستی زرعی یونیورسٹیوں نے 297 ڈرونز خریدے ہیں اور 36,882 مظاہرے کیے ہیں، جو 38,280 ہیکٹئر رقبے پر محیط ہیں اور ان سے 426,579 لاکھ سے زائد کسان مستفید ہوئے ہیں۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں کوئی مظاہرہ  پیش نہیں کیا گیا ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں کیمیائی مادوں اور کھادوں  کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

UR-4550

(ش ح۔ک ح ۔ ن ع)


(ریلیز آئی ڈی: 2243027) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati