وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ہریانہ میں پی ایم ایم ایس وائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAR 2026 2:23PM by PIB Delhi

محکمہ ماہی پروری، وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری نے گزشتہ پانچ برسوں (2020-21 سے 2024-25) کے دوران حکومتِ ہریانہ کی ماہی پروری سے متعلق ترقیاتی تجاویز کو 760.87 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے منظوری دی، جس میں 262.16 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ شامل ہے۔ یہ منظوری پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت ریاست میں ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے دی گئی۔منظور شدہ مرکزی حصے میں سے 168.61 کروڑ روپے حکومتِ ہریانہ کو جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور شدہ منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا سکے۔پی ایم ایم ایس وائی کے تحت حکومتِ ہریانہ کے محکمہ ماہی پروری کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات میں شامل ہیں: (i) نمکین/الکلائن علاقوں سمیت 3766 ہیکٹر رقبے پر نئے  گرو-آؤٹ/ریئرنگ تالابوں کی تعمیر  (ii) 166فش کیوسک کی تعداد (iii) آر اے ایس کی 130 تعداد (iv) بائیو فلوک کی 326 تعداد (iv) 11تازہ پانی کی فن فش ہیچریاں 48 (v) فش فیڈ ملز 23 (vi) آئس پلانٹ/کولڈ اسٹوریج (vii) ایک مربوط ایکوا پارک (vii) آرائشی مچھلی پالنے والی یونٹوں کی 9 اکائیاں وغیرہ ۔

(بی) اور (سی): محکمہ ماہی پروری، حکومتِ ہریانہ کے مطابق ضلع حصار میں 514.51 لاکھ روپے اور ضلع کرنال میں 1151.95 لاکھ روپے کی مالی معاونت مچھلی پالنے والوں کو فراہم کی گئی۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے نفاذ سے ریاست میں آبی زراعت کی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملا ہے، جس کے نتیجے میں ایک “بلیو ریوولیوشن” (نیلا انقلاب) برپا ہوا۔ ان اقدامات کے ذریعے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، خصوصاً خواتین اور درج فہرست ذات  سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے، جنہیں آبی زراعت کو ذریعۂ معاش کے طور پر اختیار کرنے کا موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں ریاست میں موجودہ مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے وزیرراجیو رنجن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

****

ش ح۔ م م ۔ م ذ

(U N.4454


(ریلیز آئی ڈی: 2242469) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी