ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بہتر نگرانی، سی سی ٹی وی سرویلنس اور خصوصی مہمات کی بدولت ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے گزشتہ 3 برسوں میں منشیات اسمگلنگ کے 4328 معاملوں کا سراغ لگایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 5:05PM by PIB Delhi

ریلوے،اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں  بتایا کہ منشیات اور نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں(این ڈی پی ایس) سے متعلق مقدمات گورنمنٹ ریلوے پولیس(جی آر پی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلیجنس(ڈی آر آئی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں(ایل ای اے) کے ذریعے درج کیے جاتے ہیں۔ ریلوے میں جی آر پی کی جانب سے درج کیے گئے  این ڈی پی ایس معاملوں کی تفصیلات ریاست وار نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) کی رپورٹ “کرائم اِن انڈیا” میں شائع کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار مخصوص اشیاء جیسے گانجا یا مورفین وغیرہ کے حساب سے فراہم نہیں کیے جاتے۔ اسی طرح دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای اے)مثلاً ڈی آر آئی، این سی بی، این آئی اے اور سی بی آئی کی جانب سے ضبط کی گئی این ڈی پی ایس کی تفصیلات بھی “کرائم اِن انڈیا” میں شامل ہوتی ہیں، لیکن ان میں ریلوے سے متعلق مخصوص ضبطیوں کی نشاندہی نہیں کی جاتی۔

ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کو 11 اپریل 2019 کی گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 42 اور 67 کے تحت تلاشی، ضبطی اور گرفتاری کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ تاہم آر پی ایف کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے اور تفتیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسی لیے آر پی ایف کے ذریعے برآمد کی گئی منشیات اور گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے جی آر پی یا دیگر مجاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آر پی ایف کی جانب سے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  1. این سی بی  ، جی آر پی اور مقامی پولیس کے ساتھ باقاعدہ رابطہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ منشیات سے متعلق جرائم کی نشاندہی، روک تھام اور خاتمے میں عملی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
  2. آر پی ایف، نارکو کوآرڈینیشن سینٹر(این سی او آر ڈی) کا حصہ ہے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
  3. اہم ریلوے اسٹیشنوں پر سامان کی جانچ کے لیے ایکس-رے بیگیج اسکینرز نصب کیے گئے ہیں۔
  4. متعدد کوچز اور ریلوے اسٹیشنوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
  5. ایسے مخصوص راستوں اور ٹرینوں پر خصوصی مہمات چلائی جاتی ہیں جہاں  این ڈی پی ایس کی ترسیل کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔
  6. ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر منشیات کی تلاش کے لیے تربیت یافتہ اسنفر (کھوجی) کتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
  7. عوامی آگاہی اور بیداری مہمات بھی چلائی جاتی ہیں تاکہ مسافروں کو مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی ترغیب دی جا سکے۔

سال 2023، 2024 اور 2025 کے دوران آر پی ایف نے بالترتیب 1,220، 1,392 اور 1,716 این ڈی پی ایس کے معاملوں کا سراغ لگایا اور مزید قانونی کارروائی کے لیے انہیں مجاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م ش۔ع ن)

U. No. 4439


(ریلیز آئی ڈی: 2242367) وزیٹر کاؤنٹر : 7