صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کو روکنے کے لیے کئےگئے اقدامات
تین برسوں میں 5.18 لاکھ سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا گیا؛ 88,192 جرمانے عائد کیے گئے، 3,614 کی سزا کو یقینی بنایا گیا
ایف ایس ایس اے آئی نے رسک پر مبنی جائزے کا نظام تیار کیا ہے جہاں معائنہ کی فریکوئنسی کا فیصلہ خوراک کے کاروبار سے وابستہ خطرے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور رہنما خطوط جاری کیے جاتے ہیں
ایف ایس ایس اے آئی نےنمونوں کے تجزیہ کے لیے 252 فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور 24 ریفرل فوڈ لیبارٹریوں کو اپیلی نمونوں کے تجزیہ کے لیے مطلع کیا ہے
مختلف غذائی اجناس میں ملاوٹ کی موقع پر جانچ کے لیے 35 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 305 فوڈ سیفٹی آن وہیل تعینات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 1:17PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرتاپراؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ غذائی تحفظ اور معیارات سے متعلق ہندوستان کی اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) کو انسانی استعمال کے لیے محفوظ اور صحت بخش خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کھانے کی اشیاء کے لیے سائنس پر مبنی معیارات مرتب کرنے اور ان کی تیاری، ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے، فروخت اور درآمد کو منظم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ غذائی تحفظ اور معیارات (ایف ایس ایس )قانون 2006 کا نفاذ اور اطلاق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مشترکہ ذمہ داری ہے۔
جب کہ ایف ایس ایس اے آئی ، سائنس پر مبنی معیارات مرتب کرنے اور مجموعی تال میل کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ دار ہے، ریاستی غذائی تحفظ سے متعلق اتھارٹیز بنیادی طور پر فیلڈ کی سطح پر نفاذ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کمشنر برائے فوڈ سیفٹی کے تحت نامزد افسران(ڈی او) اور فوڈ سیفٹی آفیسرز (ایف ایس او)کو ایف ایس ایس ایکٹ، 2006 کی دفعات کو نافذ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
متعلقہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے غذائی تحفظ کے محکموں اور ایف ایس ایس اے آئی کے علاقائی دفاتر کے عہدیداروں کے ذریعہ سال بھر میں دودھ، گھی، مصالحے، شہد، پنیر اور دیگر کھانے سمیت مختلف کھانے کی مصنوعات کی نگرانی،انضباطی معائنہ اور رینڈم طریقے سے نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ 2006 اور اس کے تحت بنائے گئے ضوابط کے تحت معیار اور حفاظتی پیرامیٹرز کی تعمیل کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ پچھلے تین برسوں میں (23-2022 سے25-2024)، کل 5,18,559 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران 88,192 مقدمات کا فیصلہ جرمانے کے ساتھ کیا گیا، 3,614 مقدمات کے نتیجے میں سزائیں ہوئیں، اور 1,161 لائسنس منسوخ کیے گئے۔
ایف ایس ایس اے آئی نے رسک پر مبنی تجزیے کا نظام (آر بی آئی ایس) بھی تیار کیا ہے جہاں معائنہ کی فریکوئنسی کا فیصلہ خوراک کے کاروبار سے وابستہ خطرے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور رہنما خطوط جاری کیے جاتے ہیں۔ ہائی رسک کے طور پر شناخت کئے گئے کھانے کی تمام اقسام کے لیے سالانہ معائنے کیے جائیں گے ۔ پچھلے تین برسوں(23-2022 سے25-2024)میں کئے گئےرسک پر مبنی تجزیوں کی کل تعداد 56,259 ہے۔
ایف ایس ایس اے آئی ملک میں خوراک کی حفاظت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے بنیادی کام درج ذیل ہیں:
- نفاذ اور تعمیل کو مضبوط بنانا جیسے لائسنسنگ اور رجسٹریشن
- معائنہ اور آڈٹ، نمونے لینے اور نفاذ اور نگرانی کے نمونوں کی جانچ
- صارفین کی شکایات کا ازالہ
- افسران کی صلاحیت سازی
- خوراک کی جانچ کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانا جیسے کہ لیبز کے لیے اعلیٰ معیار/ بنیادی سامان
- ایف ایس ایس اے آئی کے اقدامات جیسے ایٹ رائٹ کیمپس، ایٹ رائٹ اسکول کا فروغ
- ایف ایس او اور ڈی او کے ذریعے معائنے اور نمونے لینے کے لیے گاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے جیسی لچکدار معاونت
ملک میں غذائی انضباطی ایکو نظام کو مضبوط بنانے کے لیے، ایف ایس ایس اے آئی نے کھانے کے نمونوں کے تجزیہ کے لیے 252 فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور 24 ریفرل فوڈ لیبارٹریوں کو اپیلی نمونوں کے تجزیہ کے لیے مطلع کیا ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری (ایم ایف ٹی ایل) کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے ہیں جسے ‘‘فوڈ سیفٹی آن وہیل’’(ایف ایس ڈبلیو) کہا جاتا ہے۔ ملاوٹ سے نمٹنے کے لیے یہ ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ ایف ایس ڈبلیو مختلف غذائی اجناس میں ملاوٹ کی موقع پر جانچ کے لیے بنیادی ڈھانچے سے آراستہ ہیں۔ فی الحال،35 ریاستوں /مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں 305 ایف ایس ڈبلیو میں تعینات ہیں۔
**********
) ش ح – م ش-ت ا)
U.No. 4211
(ریلیز آئی ڈی: 2241162)
وزیٹر کاؤنٹر : 7