PIB Headquarters
نقش و نگار سے آراستہ دنیا
قبائلی آرٹ فیسٹول 2026کی آوازیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 MAR 2026 11:12AM by PIB Delhi
قبائلی فنون پر گفتگو
مؤرخہ3 مارچ سے 13 مارچ 2026 کے درمیان، نئی دہلی میں ٹراوانکور پیلس کا میدان ایک تخلیقی توانائی سے بھرپور رہا، جہاں فنکار اپنے کام میں مگن تھے، حاضرین قبائلی روایات کو دریافت کر رہے تھے اور فضا میں قدرتی رنگوں کی ہلکی سی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ یہ ’ٹرائبز آرٹ فیسٹ2026‘ تھا، جو حکومت ہند کی قبائلی امور کی وزارت کے زیرِ اہتمام ایک قومی ثقافتی تقریب تھی۔ اس فیسٹول میں ملک بھر سے 75 سے زائد قبائلی فنکاروں اور 1,000 سے زائد شہ پاروں کو ایک ہی مقام پر جمع کیا گیا، جو ملک کی 30 سے زائد منفرد قبائلی فنی روایات کی نمائندگی کر رہے تھے۔ نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ (این جی ایم اے) اور فکی کے اشتراک سے منعقدہ یہ فیسٹیول محض ایک نمائش سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ان فن پاروں نے قبائلی کہانیوں، اساطیر ، فطرت اور سماجی زندگی کی عکاسی کی، جو ہندوستان کے مقامی ثقافتی ورثے کے تنوع کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں قدیم روایتی علم نئے لوگوں کے سامنے آشکار ہوا، جہاں فن پاروں کو خریدار ملے اور جہاں زندہ جاوید ورثے کو وہ پہچان ملی جس کا وہ حقدار ہے۔
نمائش کے علاوہ، ٹرائبز آرٹ فیسٹ میں مختلف موضوعات پر پینل مباحثے بھی شامل تھیں، جیسے قبائلی فن کا احیاء اور پائیدار مستقبل،عصری جگہوں میں قبائلی فن اور ذریعۂ معاش اور بازار روابط۔ اس پروگرام میں شراکتی ورکشاپس، قبائلی فنون کے ذریعے قصہ گوئی، تفصیلی گفتگو اور عملی مظاہرے بھی شامل تھے۔ ہندوستان بھر سے فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے والے 100 سے زائد قبائلی طلبہ کو نمائش کا معائنہ کرایا گیا، سینئر قبائلی فنکاروں کے ساتھ رہنمائی کے سیشنز فراہم کیے گئے اور انہیں متحرک تخلیقی عمل سے روشناس کرایا گیا۔
وارلی پینٹنگ: قدیم روایات سے ایک زندہ ربط
مدھوکر رام بھاؤ واڈو نے آٹھ سال کی عمر میں وارلی پینٹنگ شروع کی تھی اور تقریباً پانچ دہائیوں سے اس فن کے لیے وقف ہیں۔ اب 56 سال کی عمر میں، وہ صرف ایک فنکار ہی نہیں بلکہ ایک مصنف، محقق اور اس روایت کے محافظ بھی ہیں جسے انہوں نے اپنی زندگی ڈی کوڈ کرنے میں گزاری ہے۔ انہیں قبل از تاریخ غاروں کی مصوری اور قدیم چٹانوں پر کندہ نقش و نگار کا وارلی آرٹ کے ساتھ تعلق دریافت کرنے اور اس پر تحقیق کرنے کا بہت شوق ہے۔
وارلی پینٹنگ، مہاراشٹر کی ایک لوک فن کی روایت ہے، جسے وارلی قبیلہ تخلیق کرتا ہے۔ اس کی جڑیں 10 ویں صدی عیسوی یا اس سے بھی پہلے نئے پتھر کےدور (2,500–3,000 قبل مسیح) تک جا ملتی ہیں، جو فطرت کے ساتھ گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ کاشتکاری اس قبیلے کی زندگی کا سہارا ہے، اسی لیے فطرت کے عناصر ان کے فن میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ قدیم غاروں کی مصوری کی طرح، یہ فنکار روایتی طور پر مٹی کی جھونپڑیوں کی دیواروں کو کینوس کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چاول کے پیسٹ سے بنے سفید رنگ کا استعمال کرتے ہوئے، وہ روزمرہ کی زندگی کی پیچیدگیوں کو بنیادی ہندسی اشکال—دائروں، تکونوں اور چوکور خانوں—میں ڈھال دیتے ہیں، جن میں کھیتی باڑی، شکار، گاؤں کی رسومات اور جوش و خروش سے بھرپور تارپا رقص کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ہر پینٹنگ، درحقیقت، کمیونٹی اور اس فطری دنیا کے درمیان ایک مکالمہ ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔
مدھوکر کے لیے ٹرائبز آرٹ فیسٹ جیسی تقریبات محض نمائشیں نہیں ہیں بلکہ یہ ثقافتی وکالت کا ایک ذریعہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر قبائلی فنی روایات کو صحیح معنوں میں ان لوگوں تک پہنچانا ہے جن کی وہ مستحق ہیں، تو ایسے فیسٹول ملک کے مزید حصوں میں اور کثرت سے ہونے چاہئیں۔
وہ کہتے ہیں، ’’یہ حکومتِ ہند کی جانب سے فراہم کردہ ایک بہت اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس سے لوگوں کو قبائلی فن کے بارے میں سیکھنے میں مدد ملتی ہے اور ان نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اس شعبے میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس فیسٹول میں ان کے اپنے کام کی بہت پذیرائی ہوئی اور ان کی کئی پینٹنگز ان حاضرین نے خریدیں جنہوں نے پہلی بار وارلی آرٹ کو دیکھا تھا۔
کہانیاں سناتے ماسک : ربھا اور تمنگ روایات
چند اسٹالز کے فاصلے پر، حاضرین کا سامنا زندہ انسانوں سے نہیں بلکہ دیوتاؤں، روحوں اور اساطیری مخلوقوں سے ہوتا ہے۔ یہ ربھا اور تمنگ ماسک ہیں جنہیں مغربی بنگال کے علی پور دوار سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ فنکار شانتی رام ربھا نے تیار کیا ہے۔
ربھا قبیلے میں، جو بنیادی طور پر آسام اور شمالی بنگال کے حصوں میں پایا جاتا ہے، ماسک بنانا ایک قدیم ہنر ہے جو لوک تھئیٹر اور رسمی رقص کا لازمی حصہ ہے۔ لکڑی، بانس، کدویا مٹی سے تراشے گئے اور شوخ رنگوں سے سجے یہ ماسک اساطیری کرداروں، جانوروں یا ان روحوں کی عکاسی کرتے ہیں جنہیں رسومات کے دوران پکارا جاتا ہے۔ ہمالیائی خطے کی تمنگ روایات کا روحانی ڈھانچہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے، جہاں فنکار دیوتاؤں اور افسانوی ہستیوں کا روپ دھارنے کے لیے یہ ماسک پہنتے ہیں، جس سے انسان اور مافوق الفطرت کے درمیان کی سرحد مٹ جاتی ہے۔
رابھا کی کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی جوانی میں اس فن کی طرف نہیں آئے، بلکہ دہائیوں تک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد اسے اپنایا۔ وہ فوج سے ریٹائر ہوئے اور پھر ماسک بنانے کے اوزار اٹھائے اور جو کام محض ذاتی تجسس سے شروع ہوا تھا وہ جلد ہی ان کا مقصدِ حیات بن گیا۔ ٹرائبز آرٹ فیسٹ میں مارکیٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ہنر لاجواب ہے؛ ان کے بہت سے ماسک فیسٹول کے پہلے ہی دن فروخت ہو گئے۔
ان کے لیے ماسک بیچنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے، اصل اہمیت اس تبادلے کی ہے جو ان کہانیوں اور روایات کو نئی آنکھوں کے سامنے لاتا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جب انہیں تخلیق کرنے والے فنکار چلے جائیں تو یہ ہنر فراموش نہ کردیا جائے۔
گونڈ آرٹ: پیٹرن اور رنگوں کے ذریعے کہانیاں
گونڈ پینٹنگ کی جڑیں وسطی ہندوستان، بالخصوص مدھیہ پردیش کے گھروں کی دیواروں اور فرشوں میں پیوست ہیں، جہاں گونڈ برادری کے فنکار کبھی مٹی، پتھروں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں سے اپنے رنگ تیار کر کے روزمرہ کی زندگی کی سطحوں پر جانوروں، پرندوں اور درختوں کی تصویریں بناتے تھے۔ یہ فن اپنی مخصوص تکنیک کی وجہ سے مشہور ہے، جس میں باریک نقطوں اور لکیروں کے پیچیدہ نمونوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہر شکل کو بھر دیتے ہیں، جس سے تخلیقات میں ایک ترنم اور موسیقی جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ پینٹنگز محض آرائشی مشقیں نہیں ہیں بلکہ لوک داستانوں، اجتماعی یادداشت اور جنگلاتی زندگی کے گہرے ماحولیاتی نظام پر مبنی داستانیں ہیں۔
مدھیہ پردیش کی گونڈ پینٹنگ کو اب حکومتِ ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے جغرافیائی اشارات (جی آئی) کی رجسٹری سے جی آئی ٹیگ مل چکا ہے—جو اس فن کی منفرد علاقائی اصل کی باضابطہ شناخت اور اس کے ماہرین کے روایتی علم کے تحفظ کے لیے ایک قانونی ڈھال ہے۔
جاپانی شیام ہرلی کی پینٹنگ کو دیکھنا ایک ایسی دنیا میں داخل ہونا ہے جو رنگوں اور نمونوں سے گونجتی ہے—ایک ایسی دنیا جو جانوروں، پرندوں اور درختوں سے بھری ہوئی ہے جو زندہ معلوم ہوتے ہیں۔ بھوپال سے تعلق رکھنے والی یہ نوجوان فنکارہ، جن کا تعلق گونڈ پردھان برادری سے ہے، اپنے برش کے ذریعے ایک ورثے اور زندہ روایت دونوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
انہیں گونڈ آرٹسٹ بننے کی ترغیب اپنے والد جنگھڑ سنگھ شیام سے ملی۔ فیسٹول میں موجود ان کے ایک کینوس نے دو ایسے دوستوں کی کہانی سنائی جن کی فطرت میں واضح فرق تھا—ایک نرم مزاج اور ہمدرد، جبکہ دوسرا تاریک اثرات کا حامل۔ یہ رنگوں اور نمونوں میں ڈھلی ہوئی ایک اخلاقی حکایت ہے۔ یہ پینٹنگ ایک خاموش فلسفیانہ دلیل پیش کرتی ہے کہ: ہماری صحبت ہی ہماری شخصیت کو تشکیل دیتی ہے۔ جاپانی کی کہانی میں، ایک سچا اور اچھا دوست گنگا کی مانند ہے—جو ہمیں پاک کرنے اور ہر ملاقات کے ساتھ ایک نئی بہتر شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ٹرائبز آرٹ فیسٹ جیسے پلیٹ فارم محض فن کے فروغ سے بڑھ کر کام کرتے ہیں—یہ لوگوں کو حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ ’’ایسے پلیٹ فارمز ہماری برادری کے مزید لوگوں کو آگے آنے اور فن کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘‘ ان کے خیال میں، یہ حوصلہ افزائی تجارت جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔
بھیل پینٹنگ: نقطوں اور رنگوں میں کہانیاں
بھیل پینٹنگز بھیل برادری کے ذریعے تخلیق کی جاتی ہیں، جو ہندوستان کے سب سے بڑے مقامی گروہوں میں سے ایک ہے۔ ان پینٹنگز کو برصغیر کی قدیم ترین فنی روایات میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے: ہر تصویر ہزار سے زائد چھوٹے چھوٹے نقطوں سے بنتی ہے، جن میں سے ہر ایک نقطہ کسی بیج، اناج یا فطرت کے تال کی نمائندگی کرتا ہے۔ جانور، دیوتا، جنگلات اور روزمرہ کی زندگی کے مناظر اس پوائنٹ لسٹ کائنات سے ابھرتے ہیں، جو اس فن کو صدیوں سے زمین سے جڑی ہوئی طرزِ زندگی کی عکاسی کرنے والی کائنات سے جوڑتے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا کے ایک فنکاررام سنگھ بھاور کو اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے پہلی بار بھیل پینٹنگ کب دیکھی تھی: یہ ان کے گاؤں کے گھروں کی دیواروں پر موجود تھی، جہاں یہ فن ہمیشہ سے موجود رہا، جیسے وہاں قدرتی طور پر پروان چڑھا ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ جو کچھ وہ بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں، وہ ہندوستان کی قدیم ترین اور اہم ترین قبائلی فنی روایات میں سے ایک ہے۔
فیصلہ کن موڑ تب آیا جب رام سنگھ نے سینئر قبائلی فنکاروں کو اپنے گاؤں کی دیواروں جیسی پینٹنگز قومی اسٹیج پر لے جاتے ہوئے دیکھا۔ ان کے ذہن میں ایک تبدیلی آئی۔ جس فن کے ساتھ وہ ہمیشہ سے رہتے آئے تھے، اچانک اس نے خود کو ایک ایسی چیز کے طور پر ظاہر کیا جسے بیرونی دنیا دیکھنا چاہتی تھی—اور انہوں نے اس کہانی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے سنجیدگی اور مقصد کے ساتھ مصوری شروع کی، اس امید کے ساتھ کہ ایسا کرنے سے وہ اپنی برادری کے نوجوان فنکاروں کے لیے بھی ایک راستہ روشن کر سکیں گے۔ ٹرائبز آرٹ فیسٹ میں انہیں اپنے کام کے خریدار تو ملے ہی، لیکن اس سے بھی بڑھ کر انہیں یہاں مکالمے کا موقع ملا۔ وہ فنکار جن کی روایات سے وہ پہلے کبھی واقف نہیں تھے، چند اسٹالز کے فاصلے پر کام کر رہے تھے اور علاقائی و ثقافتی حدود سے بالاتر کہانیوں کا یہ تبادلہ ان کے لیے اس میلے کا سب سے بڑا انعام بن گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اتنے متنوع فیسٹیول میں، ہر ملاقات ایک سبق ہوتی ہے—نہ صرف دوسرے فنونِ لطیفہ کو سمجھنے کا موقع، بلکہ ان زندگیوں اور مناظر کو جاننے کا بھی جنہوں نے ان فنون کو جنم دیا ہے۔
زندہ روایات کے جشن کا فیسٹیول
ٹرائبز آرٹ فیسٹ 2026 نے ہندوستان بھر کے ماہر فنکاروں کو یکجا کیا، جن میں سے ہر ایک ان روایات کو آگے بڑھا رہا ہے جو جدید ہندوستان سے صدیوں پرانی ہیں۔
نمائش میں موجود ہر فن پارہ محض جمالیاتی قدر ہی نہیں رکھتا تھا—بلکہ یہ ایک برادری کے دنیا کو دیکھنے کے انداز، فطرت کے ساتھ اس کے تعلق، اس کے اخلاقی قصوں اور اس کی یادوں کا امین تھا۔ یہ کوئی قدیم آثار نہیں ہیں؛ بلکہ یہ زندہ اور ترقی پذیر روایات ہیں اور ان پر عمل کرنے والے فنکاروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ انہیں کبھی مٹنے نہیں دیں گے۔
حوالے:
پریس انفارمیشن بیورو:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2234758
وزارت ٹیکسٹائل، حکومت ہند
https://handicrafts.nic.in/crafts/All_Crafts/Craft_Categories/Miscellaneous/Folk_Painting/Warli_Painting/Warli_Painting
وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل(ای اے سی-پی ایم)
https://tribal.nic.in/downloads/Livelihood/Resource%20and%20Publications/tribalFaces.pdf
حکومت تمل ناڈو
https://govtmuseumchennai.org/uploads/topics/16527874636788.pdf
تصاویر
دیکھیں پی ڈی ایف
*****
UR-4198
(ش ح۔ک ح ۔ ف ر )
(ریلیز آئی ڈی: 2241074)
وزیٹر کاؤنٹر : 13